احادیث
#3323
سنن ترمذی - Exegesis
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ قرآن جنوں کو پڑھ کر سنایا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے ۱؎ ( ہوا یہ ہے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت کے ساتھ عکاظ بازار جا رہے تھے، ( بعثت محمدی کے تھوڑے عرصہ بعد ) شیطانوں اور ان کے آسمانی خبریں حاصل کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تھی اور ان پر شعلے برسائے جانے لگے تھے، تو وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ گئے، ان کی قوم نے کہا: کیا بات ہے؟ کیسے لوٹ آئے؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان دخل اندازی کر دی گئی ہے، آسمانی خبریں سننے سے روکنے کے لیے ہم پر تارے پھینکے گئے ہیں، قوم نے کہا: لگتا ہے ( دنیا میں ) کوئی نئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کھڑی ہوئی ہے، تم زمین کے مشرق و مغرب میں چاروں طرف پھیل جاؤ اور دیکھو کہ وہ کون سی چیز ہے جو ہمارے اور ہمارے آسمان سے خبریں حاصل کرنے کے درمیان حائل ہوئی ( اور رکاوٹ بنی ) ہے چنانچہ وہ زمین کے چاروں کونے مغربین و مشرقین میں تلاش کرنے نکل کھڑے ہوئے، شیاطین کا جو گروہ تہامہ کی طرف نکلا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ( اس وقت ) آپ سوق عکاظ جاتے ہوئے مقام نخلہ میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے قرآن سنا تو پوری توجہ سے کان لگا کر سننے لگے، ( سن چکے تو ) انہوں نے کہا: یہ ہے قسم اللہ کی! وہ چیز جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہیں سے وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے، ( وہاں جا کر ) کہا: اے میری قوم! «إنا سمعنا قرآنا عجبا يهدي إلى الرشد فآمنا به ولن نشرك بربنا أحدا» ”ہم نے عجیب و غریب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لا چکے ( اب ) ہم کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے“ ( الجن: ۱-۲ ) ، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت «قل أوحي إلي أنه استمع نفر من الجن» نازل فرمائی، اور آپ پر جن کا قول وحی کیا گیا ۲؎۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثني ابو الوليد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال ما قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجن ولا راهم انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم في طايفة من اصحابه عامدين الى سوق عكاظ وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وارسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين الى قومهم فقالوا ما لكم قالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وارسلت علينا الشهب . فقالوا ما حال بيننا وبين خبر السماء الا من امر حدث فاضربوا مشارق الارض ومغاربها فانظروا ما هذا الذي حال بينكم وبين خبر السماء قال فانطلقوا يضربون مشارق الارض ومغاربها يبتغون ما هذا الذي حال بينهم وبين خبر السماء فانصرف اوليك النفر الذين توجهوا الى نحو تهامة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بنخلة عامدا الى سوق عكاظ وهو يصلي باصحابه صلاة الفجر فلما سمعوا القران استمعوا له فقالوا هذا والله الذي حال بينكم وبين خبر السماء . قال فهنالك رجعوا الى قومهم فقالوا يا قومنا : ( انا سمعنا قرانا عجبا * يهدي الى الرشد فامنا به ولن نشرك بربنا احدا ) فانزل الله على نبيه : ( قل اوحي الى انه استمع ) وانما اوحي اليه قول الجن . قال وبهذا الاسناد عن ابن عباس، قال قول الجن لقومهم (لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا ) قال لما راوه يصلي واصحابه يصلون بصلاته فيسجدون بسجوده قال تعجبوا من طواعية اصحابه له قالوا لقومهم : (لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا ) . قال هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3323
- Book Index
- 375
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih Isnaad
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
