Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کچھ یہودیوں نے بعض صحابہ سے پوچھا: کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے مگر پوچھ کر جان لیں گے، اسی دوران ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہا: اے محمد! آج تو تمہارے ساتھی ہار گئے، آپ نے پوچھا: ”کیسے ہار گئے؟“ اس نے کہا: یہود نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارا نبی جانتا ہے کہ جہنم کے نگراں کتنے ہیں؟ آپ نے پوچھا: ”انہوں نے کیا جواب دیا؟“ اس نے کہا: انہوں نے کہا: ہمیں نہیں معلوم، ہم اپنے نبی سے پوچھ کر بتا سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا وہ قوم ہاری ہوئی مانی جاتی ہے جس سے ایسی چیز پوچھی گئی ہو جسے وہ نہ جانتی ہو اور انہوں نے کہا ہو کہ ہم نہیں جانتے جب تک کہ ہم اپنے نبی سے پوچھ نہ لیں؟ ( اس میں ہارنے کی کوئی بات نہیں ہے ) البتہ ان لوگوں نے تو اس سے بڑھ کر بےادبی و گستاخی کی بات کی، جنہوں نے اپنے نبی سے یہ سوال کیا کہ ہمیں اللہ کو کھلے طور پر دکھا دو“، آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ان دشمنوں کو ہمارے سامنے لاؤ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھتا ہوں، وہ نرم مٹی ہے“، جب وہ سب یہودی آ گئے تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! جہنم کے نگراں لوگوں کی کتنی تعداد ہے؟ آپ نے اس طرح ہاتھ سے اشارہ فرمایا: ”ایک مرتبہ دس ( انگلیاں دکھائیں ) اور ایک مرتبہ نو ( کل ۱۹ ) “ انہوں نے کہا: ہاں، ( آپ نے درست فرمایا ) اب آپ نے پلٹ کر ان سے پوچھا: ”جنت کی مٹی کا ہے کی ہے؟“ راوی کہتے ہیں: وہ لوگ تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر کہنے لگے: ابوالقاسم! وہ روٹی کی ہے، آپ نے فرمایا: ”روٹی میدہ ( نرم مٹی ) کی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے مجالد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن مجالد، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال قال ناس من اليهود لاناس من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم هل يعلم نبيكم كم عدد خزنة جهنم قالوا لا ندري حتى نسال نبينا . فجاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد غلب اصحابك اليوم . قال " وبم غلبوا " . قال سالهم يهود هل يعلم نبيكم كم عدد خزنة جهنم قال " فما قالوا " . قال قالوا لا ندري حتى نسال نبينا . قال " افغلب قوم سيلوا عما لا يعلمون فقالوا لا نعلم حتى نسال نبينا لكنهم قد سالوا نبيهم فقالوا ارنا الله جهرة على باعداء الله اني سايلهم عن تربة الجنة وهي الدرمك " . فلما جاءوا قالوا يا ابا القاسم كم عدد خزنة جهنم قال " هكذا وهكذا " . في مرة عشرة وفي مرة تسع . قالوا نعم . قال لهم النبي صلى الله عليه وسلم " ما تربة الجنة " . قال فسكتوا هنيهة ثم قالوا خبزة يا ابا القاسم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخبز من الدرمك " . قال هذا حديث غريب انما نعرفه من هذا الوجه من حديث مجالد
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» ”وہی ( اللہ ) ہے جس سے ڈرنا چاہیئے، اور وہی مغفرت کرنے والا ہے“ ( المدثر: ۵۶ ) ، کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل کہتا ہے کہ میں اس کا اہل اور سزاوار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، تو جو مجھ سے ڈرا اور میرے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرایا تو مجھے لائق ہے کہ میں اسے بخش دوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سہل حدیث میں قوی نہیں مانے جاتے ہیں اور وہ یہ حدیث ثابت سے روایت کرنے میں تنہا ( بھی ) ہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، حدثنا زيد بن حباب، اخبرنا سهيل بن عبد الله القطعي، وهو اخو حزم بن ابي حزم القطعي عن ثابت، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال في هذه الاية ( هو اهل التقوى واهل المغفرة ) قال قال الله عز وجل انا اهل ان اتقى فمن اتقاني فلم يجعل معي الها فانا اهل ان اغفر له قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وسهيل ليس بالقوي في الحديث وقد تفرد بهذا الحديث عن ثابت
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تو جلدی جلدی زبان چلانے ( دہرانے ) لگتے تاکہ اسے یاد و محفوظ کر لیں، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”اے نبی! ) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں“ ( القیامۃ: ۱۶ ) ، نازل ہوئی۔ ( راوی ) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، ( ان کے شاگرد ) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن موسى بن ابي عايشة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا انزل عليه القران يحرك به لسانه يريد ان يحفظه فانزل الله : ( لا تحرك به لسانك لتعجل به ) قال فكان يحرك به شفتيه وحرك سفيان شفتيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال علي قال يحيى بن سعيد اثنى سفيان الثوري على موسى بن ابي عايشة خيرا
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے ( سجے سجائے ) تختوں ( مسہریوں ) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ”اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“ ( القیامۃ: ۲۳ ) ، پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً ( ہی ) روایت کی ہے، ۲- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، اور اسے ابن عمر رضی الله عنہما کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرني شبابة، عن اسراييل، عن ثوير، قال سمعت ابن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ادنى اهل الجنة منزلة لمن ينظر الى جنانه وازواجه وخدمه وسرره مسيرة الف سنة واكرمهم على الله من ينظر الى وجهه غدوة وعشية " . ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم : (وجوه يوميذ ناضرة * الى ربها ناظرة ) . قال ابو عيسى هذا حديث غريب قد رواه غير واحد عن اسراييل مثل هذا مرفوعا . وروى عبد الملك بن ابجر عن ثوير عن ابن عمر قوله ولم يرفعه . وروى الاشجعي، عن سفيان، عن ثوير، عن مجاهد، عن ابن عمر، قوله ولم يرفعه ولا نعلم احدا ذكر فيه عن مجاهد غير الثوري . حدثنا بذلك ابو كريب حدثنا عبيد الله الاشجعي عن سفيان . ثوير يكنى ابا جهم وابو فاختة اسمه سعيد بن علاقة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ «عبس وتولى» والی سورۃ ( عبداللہ ) ابن ام مکتوم نابینا کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! مجھے وعظ و نصیحت فرمائیے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین کے اکابرین میں سے کوئی بڑا شخص موجود تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے ( مشرک ) کی طرف توجہ فرماتے رہے اور اس سے کہتے رہے میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں تم کچھ حرج اور نقصان پا رہے ہو؟ وہ کہتا نہیں، اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل کی گئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں «عبس وتولى» ابن ام مکتوم کے حق میں اتری ہے اور اس کی سند میں عائشہ رضی الله عنہا کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثني ابي قال، هذا ما عرضنا على هشام بن عروة عن ابيه، عن عايشة، قالت انزل : ( عبس وتولى ) في ابن ام مكتوم الاعمى اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يقول يا رسول الله ارشدني وعند رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل من عظماء المشركين فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض عنه ويقبل على الاخر ويقول اترى بما اقول باسا فيقال لا . ففي هذا انزل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى بعضهم هذا الحديث عن هشام بن عروة عن ابيه قال انزل : ( عبس وتولى ) في ابن ام مكتوم . ولم يذكر فيه عن عايشة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ( قیامت کے دن ) جمع کیے جاؤ گے ننگے پیر، ننگے جسم، بیختنہ کے، ایک عورت ( ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ) نے کہا: کیا ہم میں سے بعض بعض کی شرمگاہ دیکھے گا؟ آپ نے فرمایا: «لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه» ”اے فلانی! اس دن ہر ایک کی ایک ایسی حالت ہو گی جو اسے دوسرے کی فکر سے غافل و بے نیاز کر دے گی“ ( سورۃ عبس: ۴۲ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ مختلف سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے اور اسے سعید بن جبیر نے بھی روایت کیا ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا محمد بن الفضل، حدثنا ثابت بن يزيد، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تحشرون حفاة عراة غرلا " . فقالت امراة ايبصر او يرى بعضنا عورة بعض قال " يا فلانة: (لكل امري منهم يوميذ شان يغنيه ) " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح قد روي من غير وجه عن ابن عباس رواه سعيد بن جبير ايضا . وفيه عن عايشة رضى الله عنها
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اچھا لگے کہ وہ قیامت کا دن دیکھے اور اس طرح دیکھے، اس نے آنکھوں سے دیکھا ہے تو اسے چاہیئے کہ «إذا الشمس كورت» اور «إذا السماء انفطرت»، «وإذا السماء انشقت» ۱؎ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہشام بن یوسف وغیرہ نے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے ( اس میں ہے ) آپ نے فرمایا: ”جسے خوشی ہو کہ وہ قیامت کا دن دیکھے، آنکھ سے دیکھنے کی طرح اسے چاہیئے کہ سورۃ «إذا الشمس كورت» پڑھے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا عبد الله بن بحير، عن عبد الرحمن، وهو ابن يزيد الصنعاني قال سمعت ابن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سره ان ينظر الى يوم القيامة كانه راى عين فليقرا ( اذا الشمس كورت ) و (اذا السماء انفطرت ) و (اذا السماء انشقت ) " . هذا حديث حسن غريب . وروى هشام بن يوسف وغيره هذا الحديث بهذا الاسناد وقال من سره ان ينظر الى يوم القيامة كانه راى عين فليقرا (اذا الشمس كورت ) ولم يذكر و (اذا السماء انفطرت ) و (اذا السماء انشقت)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہو جاتی ہے ( سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے ) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے“ ( المطففین: ۱۴ ) ، میں کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان العبد اذا اخطا خطيية نكتت في قلبه نكتة سوداء فاذا هو نزع واستغفر وتاب سقل قلبه وان عاد زيد فيها حتى تعلو قلبه وهو الران الذي ذكر الله : ( كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون ) " . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے، وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» ”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ ( المطففین: ۶ ) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے۔
حدثنا يحيى بن درست، - بصري - حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال حماد هو عندنا مرفوع : (يوم يقوم الناس لرب العالمين ) قال يقومون في الرشح الى انصاف اذانهم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم : ( يوم يقوم الناس لرب العالمين ) قال " يقوم احدهم في الرشح الى انصاف اذنيه " . قال هذا حديث حسن صحيح . وفيه عن ابي هريرة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس سے حساب کی جانچ پڑتال کر لی گئی وہ ہلاک ( برباد ) ہو گیا“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تو فرماتا ہے «فأما من أوتي كتابه بيمينه» سے «يسيرا» ”جس کو کتاب دائیں ہاتھ میں ملی اس کا حساب آسانی سے ہو گا“ ( الانشقاق: ۷-۸ ) ، تک آپ نے فرمایا: ”وہ حساب و کتاب نہیں ہے، وہ تو صرف نیکیوں کو پیش کر دینا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا سوید بن نصر نے وہ کہتے ہیں: ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے، اور وہ روایت کرتے ہیں عثمان بن اسود سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح، ۳- ہم سے بیان کیا محمد بن ابان اور کچھ دیگر لوگوں نے انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا عبدالوہاب ثقفی نے اور انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن ابوملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے عائشہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن عثمان بن الاسود، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من نوقش الحساب هلك " . قلت يا رسول الله ان الله يقول : (فاما من اوتي كتابه بيمينه ) الى قوله : ( خبيرا ) قال " ذلك العرض " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عثمان بن الاسود، بهذا الاسناد نحوه . حدثنا محمد بن ابان، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا حساب ہوا ( یوں سمجھو کہ ) وہ عذاب میں پڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے قتادہ کی روایت سے جسے وہ انس سے، اور انس رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبيد الهمداني، حدثنا علي بن ابي بكر، عن همام، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حوسب عذب " . قال وهذا حديث غريب لا نعرفه من حديث قتادة عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور ( «شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی ( ایک ایسا وقت ) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کر لیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا: وہ کہتے ہیں: ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ۲- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۴- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، وعبيد الله بن موسى، عن موسى بن عبيدة، عن ايوب بن خالد، عن عبد الله بن رافع، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اليوم الموعود يوم القيامة واليوم المشهود يوم عرفة والشاهد يوم الجمعة وما طلعت الشمس ولا غربت على يوم افضل منه فيه ساعة لا يوافقها عبد مومن يدعو الله بخير الا استجاب الله له ولا يستعيذ من شر الا اعاذه الله منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث موسى بن عبيدة . وموسى بن عبيدة يضعف في الحديث ضعفه يحيى بن سعيد وغيره من قبل حفظه . حدثنا علي بن حجر، حدثنا قران بن تمام الاسدي، عن موسى بن عبيدة، بهذا الاسناد نحوه . وموسى بن عبيدة الربذي يكنى ابا عبد العزيز وقد تكلم فيه يحيى وغيره من قبل حفظه . وقد روى شعبة والثوري وغير واحد من الايمة عنه
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ نے ان پر موت مسلط کر دی، چنانچہ ایک دن میں ستر ہزار لوگ مر گئے ۱؎۔ صہیب ( راوی ) کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ حدیث بیان کی تو اس کے ساتھ آپ نے ایک اور حدیث بھی بیان فرمائی، آپ نے فرمایا: ”ایک بادشاہ تھا اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا، وہ اپنے بادشاہ کو خبریں بتاتا تھا، اس کاہن نے بادشاہ سے کہا: میرے لیے ایک ہوشیار لڑکا ڈھونڈھ دو، راوی کو یہاں شبہہ ہو گیا کہ «غلاما فهما» کہا یا «فطنا لقنا» کہا ( معنی تقریباً دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے ) میں اسے اپنا یہ علم سکھا دوں، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں مر گیا تو تمہارے پاس سے یہ علم ختم ہو جائے گا اور تم میں کوئی نہ رہ جائے گا جو اس علم سے واقف ہو، آپ فرماتے ہیں: اس نے جن صفات و خصوصیات کا حامل لڑکا بتایا تھا لوگوں نے اس کے لیے ویسا ہی لڑکا ڈھونڈ دیا، لوگوں نے اس لڑکے سے کہا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کر اور اس کے پاس باربار آتا جاتا ہے وہ لڑکا اس کاہن کے پاس آنے جانے لگا، اس لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانہ کے اندر ایک راہب رہا کرتا تھا ( اس حدیث کے ایک راوی ) معمر کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں عبادت خانہ کے لوگ اس وقت کے مسلمان تھے، وہ لڑکا جب بھی اس راہب کے پاس سے گزرتا دین کی کچھ نہ کچھ باتیں اس سے پوچھا کرتا، یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اس لڑکے نے راہب کو اپنے متعلق خبر دی، کہا: میں اللہ کی عبادت کرنے لگا ہوں وہ لڑکا راہب کے پاس زیادہ سے زیادہ دیر تک بیٹھنے اور رکنے لگا اور کاہن کے پاس آنا جانا کم کر دیا، کاہن نے لڑکے والوں کے یہاں کہلا بھیجا کہ لگتا ہے لڑکا اب میرے پاس نہ آیا جایا کرے گا، لڑکے نے راہب کو بھی یہ بات بتا دی، راہب نے لڑکے سے کہا کہ جب کاہن تم سے پوچھے کہاں تھے؟ تو کہہ دیا کرو گھر والوں کے پاس تھا، اور جب تیرے گھر والے کہیں کہ تو کہاں تھا؟ تو ان کو بتایا کہ تم کاہن کے پاس تھے، راوی کہتے ہیں: غلام کے دن ایسے ہی کٹ رہے تھے کہ ایک دن لڑکے کا گزر لوگوں کی ایک ایسی بڑی جماعت پر ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ وہ چوپایہ شیر تھا، لڑکے نے یہ کیا کہ ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! راہب جو کہتا ہے اگر وہ سچ ہے تو میں تجھ سے اسے قتل کر دینے کی توفیق چاہتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے اسے پتھر مارا اور جانور کو ہلاک کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اسے کس نے مارا؟ جنہوں نے دیکھا تھا، انہوں نے کہا: فلاں لڑکے نے، یہ سن کر لوگ اچنبھے میں پڑ گئے، لوگوں نے کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، یہ بات ایک اندھے نے سنی تو اس نے لڑکے سے کہا: اگر تو میری بینائی واپس لا دے تو میں تجھے یہ دوں گا، لڑکے نے کہا: میں تجھ سے یہ سب چیزیں نہیں مانگتا تو یہ بتا اگر تیری بینائی تجھے واپس مل گئی تو کیا تو اپنی بینائی عطا کرنے والے پر ایمان لے آئے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ ( بالکل ایمان لے آؤں گا ) ۔ راوی کہتے ہیں: لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی، یہ دیکھ کر اندھا ایمان لے آیا، ان کا معاملہ بادشاہ تک پہنچ گیا، اس نے انہیں بلا بھیجا تو انہیں لا کر حاضر کیا گیا، اس نے ان سے کہا: میں تم سب کو الگ الگ طریقوں سے قتل کر ڈالوں گا، پھر اس نے راہب کو اور اس شخص کو جو پہلے اندھا تھا قتل کر ڈالنے کا حکم دیا، ان میں سے ایک کے سر کے بیچوں بیچ ( مانگ ) پر آرا رکھ کر چیر دیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کر دیا گیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے ایسے پہاڑ پر لے جاؤ جو ایسا ایسا ہو اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر سے نیچے پھینک دو چنانچہ لوگ اسے اس خاص پہاڑ پر لے گئے اور جب اس آخری جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے وہ لوگ اسے پھینک دینا چاہتے تھے، تو وہ خود ہی اس پہاڑ سے لڑھک لڑھک کر گرنے لگے، یہاں تک کہ صرف لڑکا باقی بچا، پھر جب وہ واپس آیا تو بادشاہ نے اس کے متعلق پھر حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ، اور اسے اس میں ڈبو کر آ جاؤ، اسے سمندر پر لے جایا گیا تو اللہ نے ان سب کو جو اس لڑکے کے ساتھ گئے ہوئے تھے ڈبو دیا، اور خود لڑکے کو بچا لیا، ( لڑکا بچ کر پھر بادشاہ کے پاس آیا ) اور اس سے کہا: تم مجھے اس طرح سے مار نہ سکو گے إلا یہ کہ تم مجھے سولی پر لٹکا دو اور مجھے تیر مارو، اور تیر مارتے وقت کہو اس اللہ کے نام سے میں تیر چلا رہا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے، بادشاہ نے اس لڑکے کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا، لڑکا سولی پر لٹکا دیا گیا پھر بادشاہ نے اس پر تیر مارا، اور تیر مارتے ہوئے کہا: «بسم الله رب هذا الغلام» بادشاہ نے تیر چلایا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھ لیا پھر مر گیا ( شہید ) ہو گیا، لوگ بول اٹھے اس لڑکے کو ایسا علم حاصل تھا جو کسی اور کو معلوم نہیں، ہم تو اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”بادشاہ سے کہا گیا کہ آپ تو تین ہی آدمیوں سے گھبرا گئے جنہوں نے آپ کی مخالفت کی، اب تو یہ سارے کے سارے لوگ ہی آپ کے خلاف ہو گئے ہیں ( اب کیا کریں گے؟ ) “ آپ نے فرمایا: ”اس نے کئی ایک کھائیاں ( گڈھے ) کھودوائے اور اس میں لکڑیاں ڈلوا دیں اور آگ بھڑکا دی، لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا: جو اپنے ( نئے ) دین سے پھر جائے گا اسے ہم چھوڑ دیں گے اور جو اپنے دین سے نہ پلٹے گا ہم اسے اس آگ میں جھونک دیں گے، پھر وہ انہیں ان گڈھوں میں ڈالنے لگا“، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کے متعلق فرماتا ہے ( پھر آپ نے آیت «قتل أصحاب الأخدود النار ذات الوقود» سے لے کر «العزيز الحميد» تک پڑھی ۲؎۔ راوی کہتے ہیں: لڑکا ( سولی پر لٹکا کر قتل کر دئیے جانے کے بعد ) دفن کر دیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے زمانہ میں زمین سے نکالا گیا، اس کی انگلیاں اس کی کنپٹی پر اسی طرح رکھی ہوئی تھیں جس طرح اس نے اپنے قتل ہوتے وقت رکھا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں ( جنگ جاری رکھو ) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا ( حقیقی ) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ”آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں“ ( الغاشیہ: ۲۲ ) ، پڑھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالوها عصموا مني دماءهم واموالهم الا بحقها وحسابهم على الله " . ثم قرا : ( انما انت مذكر * لست عليهم بمسيطر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، وابو داود قالا حدثنا همام، عن قتادة، عن عمران بن عصام، عن رجل، من اهل البصرة عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن الشفع والوتر فقال " هي الصلاة بعضها شفع وبعضها وتر " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث قتادة . وقد رواه خالد بن قيس الحداني عن قتادة ايضا
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اس اونٹنی کا ( مراد صالح علیہ السلام کی اونٹنی ) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں ( یعنی رات میں ) اس کے پہلو میں سوئے بھی“، انہوں نے کہا: پھر آپ نے کسی کے ہوا خارج ہو جانے پر ان کے ہنسنے پر انہیں نصیحت کی، آپ نے فرمایا: ”آخر تم میں کا کوئی کیوں ہنستا ( و مذاق اڑاتا ) ہے جب کہ وہ خود بھی وہی کام کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن زمعة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يوما يذكر الناقة والذي عقرها فقال " : (اذ انبعث اشقاها ) انبعث لها رجل عارم عزيز منيع في رهطه مثل ابي زمعة " . ثم سمعته يذكر النساء فقال " الام يعمد احدكم فيجلد امراته جلد العبد ولعله ان يضاجعها من اخر يومه " . قال ثم وعظهم في ضحكهم من الضرطة فقال " الام يضحك احدكم مما يفعل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( قبرستان ) بقیع میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، آپ بیٹھ گئے، ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”ہر متنفس کا ٹھکانہ ( جنت یا جہنم ) پہلے سے لکھ دیا گیا ہے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہ ہم اپنے نوشتہ ( تقدیر ) پر اعتماد و بھروسہ کر کے بیٹھ رہیں؟ جو اہل سعادہ نیک بختوں میں سے ہو گا وہ نیک بختی ہی کے کام کرے گا، اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ بدبختی ہی کے کام کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ عمل کرو، کیونکہ ہر ایک کو توفیق ملے گی، جو نیک بختوں میں سے ہو گا، اس کے لیے نیک بختی کے کام آسان ہوں گے اور جو بدبختوں میں سے ہو گا اس کے لیے بدبختی کے کام آسان ہوں گے“، پھر آپ نے ( سورۃ واللیل کی ) آیت «فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى فسنيسره للعسرى» ”جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرا ( اپنے رب سے ) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بےپرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی تو ہم بھی اس کی تنگی اور مشکل کے سامان میسر کر دیں گے“ ( اللیل: ۵-۱۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا زايدة بن قدامة، عن منصور بن المعتمر، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، رضى الله عنه قال كنا في جنازة في البقيع فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فجلس وجلسنا معه ومعه عود ينكت به في الارض فرفع راسه الى السماء فقال " ما من نفس منفوسة الا قد كتب مدخلها " . فقال القوم يا رسول الله افلا نتكل على كتابنا فمن كان من اهل السعادة فانه يعمل للسعادة ومن كان من اهل الشقاء فانه يعمل للشقاء قال " بل اعملوا فكل ميسر اما من كان من اهل السعادة فانه ييسر لعمل السعادة واما من كان من اهل الشقاء فانه ييسر لعمل الشقاء " . ثم قرا : (فاما من اعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى * واما من بخل واستغنى * وكذب بالحسنى * فسنيسره للعسرى ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جندب بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے ( کسی سبب سے ) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے“، راوی کہتے ہیں: آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا: ( پروپگینڈہ کیا ) کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چھوڑ دئیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ والضحیٰ کی ) آیت «ما ودعك ربك وما قلى» ”نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے“ ( الضحیٰ: ۳ ) ، نازل فرمائی۔ ۱؎ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاسود بن قيس، عن جندب البجلي، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في غار فدميت اصبعه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل انت الا اصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت " . قال وابطا عليه جبريل عليه السلام فقال المشركون قد ودع محمد فانزل الله تعالى : ( ما ودعك ربك وما قلى ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه شعبة والثوري عن الاسود بن قيس
انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا ( کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا ) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک ( محمد ہیں ) ۱؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک“، قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”پیٹ کے نیچے تک“، پھر آپ نے فرمایا: ”اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ۲؎ اس حدیث میں ایک لمبا قصہ ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲- اسے ہشام دستوائی اور ہمام نے قتادہ سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وابن ابي عدي، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن مالك بن صعصعة، رجل من قومه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينما انا عند البيت بين النايم واليقظان اذ سمعت قايلا يقول احد بين الثلاثة فاتيت بطست من ذهب فيها ماء زمزم فشرح صدري الى كذا وكذا " . قال قتادة قلت يعني قلت لانس بن مالك ما يعني قال " الى اسفل بطني فاستخرج قلبي فغسل قلبي بماء زمزم ثم اعيد مكانه ثم حشي ايمانا وحكمة " . وفي الحديث قصة طويلة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه هشام الدستوايي وهمام عن قتادة . وفيه عن ابي ذر
حدثنا محمود بن غيلان، وعبد بن حميد، - المعنى واحد قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن صهيب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى العصر همس - والهمس في قول بعضهم تحرك شفتيه كانه يتكلم فقيل له انك يا رسول الله اذا صليت العصر همست قال . " ان نبيا من الانبياء كان اعجب بامته فقال من يقول لهولاء فاوحى الله اليه ان خيرهم بين ان انتقم منهم وبين ان اسلط عليهم عدوهم فاختار النقمة فسلط عليهم الموت فمات منهم في يوم سبعون الفا " . قال وكان اذا حدث بهذا الحديث حدث بهذا الحديث الاخر . قال " كان ملك من الملوك وكان لذلك الملك كاهن يكهن له فقال الكاهن انظروا لي غلاما فهما او قال فطنا لقنا فاعلمه علمي هذا فاني اخاف ان اموت فينقطع منكم هذا العلم ولا يكون فيكم من يعلمه . قال فنظروا له على ما وصف فامره ان يحضر ذلك الكاهن وان يختلف اليه فجعل يختلف اليه وكان على طريق الغلام راهب في صومعة " . قال معمر احسب ان اصحاب الصوامع كانوا يوميذ مسلمين قال " فجعل الغلام يسال ذلك الراهب كلما مر به فلم يزل به حتى اخبره فقال انما اعبد الله " . قال " فجعل الغلام يمكث عند الراهب ويبطي على الكاهن فارسل الكاهن الى اهل الغلام انه لا يكاد يحضرني فاخبر الغلام الراهب بذلك فقال له الراهب اذا قال لك الكاهن اين كنت فقل عند اهلي . واذا قال لك اهلك اين كنت فاخبرهم انك كنت عند الكاهن " . قال " فبينما الغلام على ذلك اذ مر بجماعة من الناس كثير قد حبستهم دابة " . فقال بعضهم ان تلك الدابة كانت اسدا قال " فاخذ الغلام حجرا قال اللهم ان كان ما يقول الراهب حقا فاسالك ان اقتلها . قال ثم رمى فقتل الدابة . فقال الناس من قتلها قالوا الغلام ففزع الناس وقالوا لقد علم هذا الغلام علما لم يعلمه احد . قال فسمع به اعمى فقال له ان انت رددت بصري فلك كذا وكذا . قال له لا اريد منك هذا ولكن ارايت ان رجع اليك بصرك اتومن بالذي رده عليك قال نعم . قال فدعا الله فرد عليه بصره فامن الاعمى فبلغ الملك امرهم فبعث اليهم فاتي بهم فقال لاقتلن كل واحد منكم قتلة لا اقتل بها صاحبه فامر بالراهب والرجل الذي كان اعمى فوضع المنشار على مفرق احدهما فقتله وقتل الاخر بقتلة اخرى . ثم امر بالغلام فقال انطلقوا به الى جبل كذا وكذا فالقوه من راسه فانطلقوا به الى ذلك الجبل فلما انتهوا به الى ذلك المكان الذي ارادوا ان يلقوه منه جعلوا يتهافتون من ذلك الجبل ويتردون حتى لم يبق منهم الا الغلام " . قال " ثم رجع فامر به الملك ان ينطلقوا به الى البحر فيلقونه فيه فانطلق به الى البحر فغرق الله الذين كانوا معه وانجاه فقال الغلام للملك انك لا تقتلني حتى تصلبني وترميني وتقول اذا رميتني بسم الله رب هذا الغلام . قال فامر به فصلب ثم رماه فقال بسم الله رب هذا الغلام . قال فوضع الغلام يده على صدغه حين رمي ثم مات . فقال اناس لقد علم هذا الغلام علما ما علمه احد فانا نومن برب هذا الغلام . قال فقيل للملك اجزعت ان خالفك ثلاثة فهذا العالم كلهم قد خالفوك . قال فخد اخدودا ثم القى فيها الحطب والنار ثم جمع الناس فقال من رجع عن دينه تركناه ومن لم يرجع القيناه في هذه النار فجعل يلقيهم في تلك الاخدود . قال يقول الله تعالى : (قتل اصحاب الاخدود * النار ذات الوقود ) حتى بلغ : (العزيز الحميد ) " . قال " فاما الغلام فانه دفن " . قال فيذكر انه اخرج في زمن عمر بن الخطاب واصبعه على صدغه كما وضعها حين قتل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب