Loading...

Loading...
کتب
۷۷۴ احادیث
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا، میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے تھے جو شخص ( سورۃ ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس الله بأحكم الحاكمين» تک پہنچے تو کہے: «بلى وأنا على ذلك من الشاهدين» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی اعرابی سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مروی ہے اور اس اعرابی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن امية، قال سمعت رجلا، بدويا اعرابيا يقول سمعت ابا هريرة، يرويه يقول من قرا : (والتين والزيتون ) فقرا : ( اليس الله باحكم الحاكمين ) فليقل بلى وانا على ذلك من الشاهدين . قال ابو عيسى هذا حديث انما يروى بهذا الاسناد عن هذا الاعرابي عن ابي هريرة ولا يسمى
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت «سندع الزبانية» ”ہم بھی جہنم کے پیادوں کو بلا لیں گے“ ( العلق: ۱۸ ) ، کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: ابوجہل نے کہا: اگر میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن کو لاتوں سے روندوں گا، یہ بات آپ نے سنی تو فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے دیکھتے ہی دبوچ لیتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن عبد الكريم الجزري، عن عكرمة، عن ابن عباس، رضى الله عنهما : ( سندع الزبانية ) قال قال ابو جهل لين رايت محمدا يصلي لاطان على عنقه . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو فعل لاخذته الملايكة عيانا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا، اس نے کہا: میں نے تمہیں اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ کیا میں نے تجھے اس ( نماز ) سے منع نہیں کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا: تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» ”اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں“ ( العلق: ۱۷-۱۸ ) ، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن داود بن ابي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فجاء ابو جهل فقال الم انهك عن هذا الم انهك عن هذا الم انهك عن هذا فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فزبره فقال ابو جهل انك لتعلم ما بها ناد اكثر مني فانزل الله : ( فليدع ناديه * سندع الزبانية ) فقال ابن عباس فوالله لو دعا ناديه لاخذته زبانية الله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وفيه عن ابي هريرة رضى الله عنه
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی“، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے“، نازل ہوئیں، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ ان مہینوں کے مالک ہوں گے ۳؎ قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں: ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا القاسم بن الفضل الحداني، عن يوسف بن سعد، قال قام رجل الى الحسن بن علي بعد ما بايع معاوية فقال سودت وجوه المومنين . او يا مسود وجوه المومنين . فقال لا تونبني رحمك الله فان النبي صلى الله عليه وسلم اري بني امية على منبره فساءه ذلك فنزلت : ( انا اعطيناك الكوثر ) يا محمد يعني نهرا في الجنة ونزلت : ( انا انزلناه في ليلة القدر * وما ادراك ما ليلة القدر * ليلة القدر خير من الف شهر ) يملكها بعدك بنو امية يا محمد . قال القاسم فعددناها فاذا هي الف شهر لا يزيد يوم ولا ينقص . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث القاسم بن الفضل . وقد قيل عن القاسم بن الفضل عن يوسف بن مازن . والقاسم بن الفضل الحداني هو ثقة وثقه يحيى بن سعيد وعبد الرحمن بن مهدي ويوسف بن سعد رجل مجهول ولا نعرف هذا الحديث على هذا اللفظ الا من هذا الوجه
زر بن حبیش (جن کی کنیت ابومریم ہے) کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے کہا آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: جو سال بھر ( رات کو ) کھڑے ہو کر نمازیں پڑھتا رہے وہ لیلۃ القدر پا لے گا، ابی بن کعب رضی الله عنہ نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت فرمائے ( ابوعبدالرحمٰن، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی کنیت ہے ) انہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان کی ستائیسویں ( ۲۷ ) رات ہے، لیکن وہ چاہتے تھے کی لوگ اسی ایک ستائیسویں ( ۲۷ ) رات پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہیں کہ دوسری راتوں میں عبادت کرنے اور جاگنے سے باز آ جائیں، بغیر کسی استثناء کے ابی بن کعب رضی الله عنہ نے قسم کھا کر کہا: ( شب قدر ) یہ ( ۲۷ ) رات ہی ہے، زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: ابوالمنذر! آپ ایسا کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس آیت اور نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی ہے ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ انہوں نے «بالآية» کا لفظ استعمال کیا یا «بالعلامة» کا آپ نے علامت یہ بتائی ( کہ ستائیسویں شب کی صبح ) سورج طلوع تو ہو گا لیکن اس میں شعاع نہ ہو گی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عبدة بن ابي لبابة، وعاصم، هو ابن بهدلة سمعا زر بن حبيش، وزر بن حبيش يكنى ابا مريم يقول قلت لابى بن كعب ان اخاك عبد الله بن مسعود يقول من يقم الحول يصب ليلة القدر فقال يغفر الله لابي عبد الرحمن لقد علم انها في العشرة الاواخر من رمضان وانها ليلة سبع وعشرين ولكنه اراد ان لا يتكل الناس ثم حلف لا يستثني انها ليلة سبع وعشرين . قلت له باى شيء تقول ذلك يا ابا المنذر قال بالاية التي اخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم او بالعلامة ان الشمس تطلع يوميذ لا شعاع لها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن العلاء حدثنا ابو بكر بن عياش عن عاصم بن بهدلة قال كان ابو وايل شقيق بن سلمة لا يتكلم ما دام زر بن حبيش جالسا . قال عاصم بن بهدلة وكان زر بن حبيش رجلا فصيحا وكان عبد الله بن مسعود يساله عن العربية . حدثنا احمد بن ابراهيم الدورقي حدثنا يزيد بن مهران الكوفي حدثنا ابو بكر بن عياش عن عاصم بن بهدلة قال مر رجل على زر بن حبيش وهو يوذن فقال يا ابا مريم اتوذن اني لارغب بك عن الاذان . فقال زر اترغب عن الاذان والله لا اكلمك ابدا
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: «يا خير البرية» ! اے تمام مخلوق میں بہتر! آپ نے فرمایا: ”یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن المختار بن فلفل، قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يا خير البرية . قال " ذلك ابراهيم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سورۃ الزلزال کی ) آیت «يومئذ تحدث أخبارها» ”اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی“ ( الزلزال: ۴ ) ، پڑھی، پھر آپ نے پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”اس کی خبریں یہ ہیں کہ اس کی پیٹھ پر یعنی زمین پر ہر بندے نے خواہ مرد ہو یا عورت جو کچھ کیا ہو گا اس کی وہ گواہی دے گی، وہ کہے گی: اس بندے نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا، یہی اس کی خبریں ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سعيد بن ابي ايوب، عن يحيى بن ابي سليمان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، رضي الله عنه قال قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية : ( يوميذ تحدث اخبارها ) قال " اتدرون ما اخبارها " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " فان اخبارها ان تشهد على كل عبد او امة بما عمل على ظهرها تقول عمل يوم كذا كذا وكذا فهذه اخبارها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التكاثر» ”زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا“ ( التکاثر: ۱ ) ، تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ابن آدم میرا مال، میرا مال کہے جاتا ہے ( اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے ) مگر بتاؤ تو تمہیں اس سے زیادہ کیا ملا جو تم نے صدقہ دے دیا اور آگے بھیج دیا یا کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، عن ابيه، انه انتهى الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقرا ( الهاكم التكاثر ) قال " يقول ابن ادم مالي مالي وهل لك من مالك الا ما تصدقت فامضيت او اكلت فافنيت او لبست فابليت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے، یہاں تک کہ سورۃ «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں – اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں: اور وہ ( ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا حكام بن سلم الرازي، عن عمرو بن ابي قيس، عن الحجاج، عن المنهال بن عمرو، عن زر بن حبيش، عن علي، رضى الله عنه قال ما زلنا نشك في عذاب القبر حتى نزلت : (الهاكم التكاثر ) قال ابو كريب مرة عن عمرو بن ابي قيس هو رازي وعمرو بن قيس الملايي كوفي عن ابن ابي ليلى عن المنهال بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ”اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا“ ( التکاثر: ۸ ) ، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی ( کالی ) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا: ”عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزبير بن العوام، عن ابيه، قال لما نزلت : (ثم لتسالن يوميذ عن النعيم، ) قال الزبير يا رسول الله فاى النعيم نسال عنه وانما هما الاسودان التمر والماء . قال " اما انه سيكون " . قال هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں ( ایک کھجور دوسرا پانی ) ( ہمارا ) دشمن ( سامنے ) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎۔ آپ نے فرمایا: ” ( تمہیں ابھی معلوم نہیں ) عنقریب ایسا ہو گا ( کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ( یعنی پچھلی روایت ) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا احمد بن يونس، عن ابي بكر بن عياش، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال لما نزلت هذه الاية : (ثم لتسالن يوميذ عن النعيم ) قال الناس يا رسول الله عن اى النعيم نسال وانما هما الاسودان والعدو حاضر وسيوفنا على عواتقنا . قال " ان ذلك سيكون " . قال ابو عيسى وحديث ابن عيينة عن محمد بن عمرو عندي اصح من هذا . سفيان بن عيينة احفظ واصح حديثا من ابي بكر بن عياش
ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، ( وہ یہ ہیں ) اس سے کہا جائے گا: کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ضحاک، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمٰن بن عرزب کے، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتا ہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا شبابة، عن عبد الله بن العلاء، عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزم الاشعري، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اول ما يسال عنه يوم القيامة يعني العبد من النعيم ان يقال له الم نصح لك جسمك ونرويك من الماء البارد " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . والضحاك هو ابن عبد الرحمن بن عرزب ويقال ابن عرزم وابن عرزم اصح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ارشاد باری «إنا أعطيناك الكوثر» کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک نہر ہے جنت میں جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے ہیں، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن انس : ( انا، اعطيناك الكوثر ) ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " هو نهر في الجنة " . قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم " رايت نهرا في الجنة حافتاه قباب اللولو قلت ما هذا يا جبريل قال هذا الكوثر الذي قد اعطاكه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی تک ڈال دیا، نکالا تو وہ مشک کی طرح مہک رہی تھی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لا کر پیش کی گئی، میں نے وہاں بہت زیادہ نور ( نور عظیم ) دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی انس رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا الحكم بن عبد الملك، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا اسير في الجنة اذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللولو . قلت للملك ما هذا قال هذا الكوثر الذي اعطاكه الله قال ثم ضرب بيده الى طينة فاستخرج مسكا ثم رفعت لي سدرة المنتهى فرايت عندها نورا عظيما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن انس
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الكوثر» جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا محمد بن فضيل، عن عطاء بن السايب، عن محارب بن دثار، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الكوثر نهر في الجنة حافتاه من ذهب ومجراه على الدر والياقوت تربته اطيب من المسك وماوه احلى من العسل وابيض من الثلج " . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی موجودگی میں عمر رضی الله عنہ مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھتے تھے ( ایک بار ) عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان سے کہا: آپ ان ہی سے کیوں پوچھتے ہیں جب کہ ہمارے بھی ان کے جیسے بچے ہیں ( کیا بات ہے؟ ) عمر رضی الله عنہ نے انہیں جواب دیا وہ جس مقام و مرتبہ پر ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر انہوں نے ان سے اس آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے بارے میں پوچھا، ( ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں ) میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے، اللہ نے آپ کو آگاہ کیا ہے، انہوں نے یہ پوری سورۃ شروع سے آخر تک پڑھی، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اس سورۃ سے وہی سمجھا اور جانا جو تو نے سمجھا اور جانا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا محمد بن جعفر نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسے اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبشر سے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: «أتسأله ولنا أبناء مثله» ۲؎۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا سليمان بن داود، عن شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال كان عمر يسالني مع اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال له عبد الرحمن بن عوف اتساله ولنا بنون مثله فقال له عمر انه من حيث تعلم فساله عن هذه الاية : ( اذا جاء نصر الله والفتح ) فقلت انما هو اجل رسول الله صلى الله عليه وسلم اعلمه اياه وقرا السورة الى اخرها فقال له عمر والله ما اعلم منها الا ما تعلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، بهذا الاسناد نحوه الا انه قال فقال له عبد الرحمن بن عوف اتساله ولنا ابن مثله . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا ( پہاڑ ) پر چڑھ گئے، وہاں سے یا «صباحاه» ۱؎ آواز لگائی تو قریش آپ کے پاس اکٹھا ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سخت عذاب سے ڈرانے والا ( بنا کر بھیجا گیا ) ہوں، بھلا بتاؤ تو اگر میں تمہیں خبر دوں کہ ( پہاڑ کے پیچھے سے ) دشمن شام یا صبح تک تم پر چڑھائی کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا جانو گے؟ ابولہب نے کہا کیا: تم نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا؟ تمہارا ستیاناس ہو ۲؎، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) ، نازل فرمائی، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، واحمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم على الصفا فنادى " يا صباحاه " . فاجتمعت اليه قريش فقال " اني نذير لكم بين يدى عذاب شديد ارايتم لو اني اخبرتكم ان العدو ممسيكم او مصبحكم اكنتم تصدقوني " . فقال ابو لهب الهذا جمعتنا تبا لك . فانزل الله : ( تبت يدا ابي لهب وتب ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ”کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے، اللہ بے نیاز ہے“ ( الاخلاص: ۱-۲ ) ، نازل فرمائی، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا، «ولم يكن له كفوا أحد» ”اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے“، راوی کہتے ہیں: «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو سعد، هو الصغاني عن ابي جعفر الرازي، عن الربيع بن انس، عن ابي العالية، عن ابى بن كعب، ان المشركين، قالوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم انسب لنا ربك . فانزل الله : ( قل هو الله احد * الله الصمد ) فالصمد الذي لم يلد ولم يولد لانه ليس شيء يولد الا سيموت وليس شيء يموت الا سيورث وان الله عز وجل لا يموت ولا يورث : ( لم يكن له كفوا احد ) قال " لم يكن له شبيه ولا عدل وليس كمثله شيء
ابولعالیہ (رفیع بن مہران) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ( یعنی مشرکین کے ) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے، آپ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس یہ سورۃ «قل هو الله أحد» لے کر آئے، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی، اور اس کی سند میں ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن ابي جعفر الرازي، عن الربيع، عن ابي العالية، ان النبي صلى الله عليه وسلم ذكر الهتهم فقالوا انسب لنا ربك . قال فاتاه جبريل بهذه السورة : ( قل هو الله احد ) . فذكر نحوه ولم يذكر فيه عن ابى بن كعب وهذا اصح من حديث ابي سعد وابو سعد اسمه محمد بن ميسر وابو جعفر الرازي اسمه عيسى وابو العالية اسمه رفيع وكان عبدا اعتقته امراة صابية
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”عائشہ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہ «غاسق» ہے جب یہ ڈوب جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الملك بن عمرو العقدي، عن ابن ابي ذيب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نظر الى القمر فقال " يا عايشة استعيذي بالله من شر هذا فان هذا الغاسق اذا وقب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح