احادیث
#3360
سنن ترمذی - Exegesis
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک نہر پیش کی گئی جس کے دونوں کناروں پر موتی کے گنبد بنے ہوئے تھے، میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی تک ڈال دیا، نکالا تو وہ مشک کی طرح مہک رہی تھی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لا کر پیش کی گئی، میں نے وہاں بہت زیادہ نور ( نور عظیم ) دیکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی انس رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سريج بن النعمان، حدثنا الحكم بن عبد الملك، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا اسير في الجنة اذ عرض لي نهر حافتاه قباب اللولو . قلت للملك ما هذا قال هذا الكوثر الذي اعطاكه الله قال ثم ضرب بيده الى طينة فاستخرج مسكا ثم رفعت لي سدرة المنتهى فرايت عندها نورا عظيما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي من غير وجه عن انس
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3360
- Book Index
- 412
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
