احادیث
#3340
سنن ترمذی - Exegesis
صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» ( سرگوشی ) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا ( ہلانا ) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے ( آخر کار ) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں ( کیا پڑھتے ہیں؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا: ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہو سکتا ہے؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کر لو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» ( سزا و بدلہ ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ نے ان پر موت مسلط کر دی، چنانچہ ایک دن میں ستر ہزار لوگ مر گئے ۱؎۔ صہیب ( راوی ) کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ حدیث بیان کی تو اس کے ساتھ آپ نے ایک اور حدیث بھی بیان فرمائی، آپ نے فرمایا: ”ایک بادشاہ تھا اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا، وہ اپنے بادشاہ کو خبریں بتاتا تھا، اس کاہن نے بادشاہ سے کہا: میرے لیے ایک ہوشیار لڑکا ڈھونڈھ دو، راوی کو یہاں شبہہ ہو گیا کہ «غلاما فهما» کہا یا «فطنا لقنا» کہا ( معنی تقریباً دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے ) میں اسے اپنا یہ علم سکھا دوں، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں مر گیا تو تمہارے پاس سے یہ علم ختم ہو جائے گا اور تم میں کوئی نہ رہ جائے گا جو اس علم سے واقف ہو، آپ فرماتے ہیں: اس نے جن صفات و خصوصیات کا حامل لڑکا بتایا تھا لوگوں نے اس کے لیے ویسا ہی لڑکا ڈھونڈ دیا، لوگوں نے اس لڑکے سے کہا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کر اور اس کے پاس باربار آتا جاتا ہے وہ لڑکا اس کاہن کے پاس آنے جانے لگا، اس لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانہ کے اندر ایک راہب رہا کرتا تھا ( اس حدیث کے ایک راوی ) معمر کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں عبادت خانہ کے لوگ اس وقت کے مسلمان تھے، وہ لڑکا جب بھی اس راہب کے پاس سے گزرتا دین کی کچھ نہ کچھ باتیں اس سے پوچھا کرتا، یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اس لڑکے نے راہب کو اپنے متعلق خبر دی، کہا: میں اللہ کی عبادت کرنے لگا ہوں وہ لڑکا راہب کے پاس زیادہ سے زیادہ دیر تک بیٹھنے اور رکنے لگا اور کاہن کے پاس آنا جانا کم کر دیا، کاہن نے لڑکے والوں کے یہاں کہلا بھیجا کہ لگتا ہے لڑکا اب میرے پاس نہ آیا جایا کرے گا، لڑکے نے راہب کو بھی یہ بات بتا دی، راہب نے لڑکے سے کہا کہ جب کاہن تم سے پوچھے کہاں تھے؟ تو کہہ دیا کرو گھر والوں کے پاس تھا، اور جب تیرے گھر والے کہیں کہ تو کہاں تھا؟ تو ان کو بتایا کہ تم کاہن کے پاس تھے، راوی کہتے ہیں: غلام کے دن ایسے ہی کٹ رہے تھے کہ ایک دن لڑکے کا گزر لوگوں کی ایک ایسی بڑی جماعت پر ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ وہ چوپایہ شیر تھا، لڑکے نے یہ کیا کہ ایک پتھر اٹھایا اور کہا: اے اللہ! راہب جو کہتا ہے اگر وہ سچ ہے تو میں تجھ سے اسے قتل کر دینے کی توفیق چاہتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے اسے پتھر مارا اور جانور کو ہلاک کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اسے کس نے مارا؟ جنہوں نے دیکھا تھا، انہوں نے کہا: فلاں لڑکے نے، یہ سن کر لوگ اچنبھے میں پڑ گئے، لوگوں نے کہا: اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، یہ بات ایک اندھے نے سنی تو اس نے لڑکے سے کہا: اگر تو میری بینائی واپس لا دے تو میں تجھے یہ دوں گا، لڑکے نے کہا: میں تجھ سے یہ سب چیزیں نہیں مانگتا تو یہ بتا اگر تیری بینائی تجھے واپس مل گئی تو کیا تو اپنی بینائی عطا کرنے والے پر ایمان لے آئے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ ( بالکل ایمان لے آؤں گا ) ۔ راوی کہتے ہیں: لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی، یہ دیکھ کر اندھا ایمان لے آیا، ان کا معاملہ بادشاہ تک پہنچ گیا، اس نے انہیں بلا بھیجا تو انہیں لا کر حاضر کیا گیا، اس نے ان سے کہا: میں تم سب کو الگ الگ طریقوں سے قتل کر ڈالوں گا، پھر اس نے راہب کو اور اس شخص کو جو پہلے اندھا تھا قتل کر ڈالنے کا حکم دیا، ان میں سے ایک کے سر کے بیچوں بیچ ( مانگ ) پر آرا رکھ کر چیر دیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کر دیا گیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے ایسے پہاڑ پر لے جاؤ جو ایسا ایسا ہو اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر سے نیچے پھینک دو چنانچہ لوگ اسے اس خاص پہاڑ پر لے گئے اور جب اس آخری جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے وہ لوگ اسے پھینک دینا چاہتے تھے، تو وہ خود ہی اس پہاڑ سے لڑھک لڑھک کر گرنے لگے، یہاں تک کہ صرف لڑکا باقی بچا، پھر جب وہ واپس آیا تو بادشاہ نے اس کے متعلق پھر حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ، اور اسے اس میں ڈبو کر آ جاؤ، اسے سمندر پر لے جایا گیا تو اللہ نے ان سب کو جو اس لڑکے کے ساتھ گئے ہوئے تھے ڈبو دیا، اور خود لڑکے کو بچا لیا، ( لڑکا بچ کر پھر بادشاہ کے پاس آیا ) اور اس سے کہا: تم مجھے اس طرح سے مار نہ سکو گے إلا یہ کہ تم مجھے سولی پر لٹکا دو اور مجھے تیر مارو، اور تیر مارتے وقت کہو اس اللہ کے نام سے میں تیر چلا رہا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے، بادشاہ نے اس لڑکے کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا، لڑکا سولی پر لٹکا دیا گیا پھر بادشاہ نے اس پر تیر مارا، اور تیر مارتے ہوئے کہا: «بسم الله رب هذا الغلام» بادشاہ نے تیر چلایا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھ لیا پھر مر گیا ( شہید ) ہو گیا، لوگ بول اٹھے اس لڑکے کو ایسا علم حاصل تھا جو کسی اور کو معلوم نہیں، ہم تو اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”بادشاہ سے کہا گیا کہ آپ تو تین ہی آدمیوں سے گھبرا گئے جنہوں نے آپ کی مخالفت کی، اب تو یہ سارے کے سارے لوگ ہی آپ کے خلاف ہو گئے ہیں ( اب کیا کریں گے؟ ) “ آپ نے فرمایا: ”اس نے کئی ایک کھائیاں ( گڈھے ) کھودوائے اور اس میں لکڑیاں ڈلوا دیں اور آگ بھڑکا دی، لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا: جو اپنے ( نئے ) دین سے پھر جائے گا اسے ہم چھوڑ دیں گے اور جو اپنے دین سے نہ پلٹے گا ہم اسے اس آگ میں جھونک دیں گے، پھر وہ انہیں ان گڈھوں میں ڈالنے لگا“، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کے متعلق فرماتا ہے ( پھر آپ نے آیت «قتل أصحاب الأخدود النار ذات الوقود» سے لے کر «العزيز الحميد» تک پڑھی ۲؎۔ راوی کہتے ہیں: لڑکا ( سولی پر لٹکا کر قتل کر دئیے جانے کے بعد ) دفن کر دیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے زمانہ میں زمین سے نکالا گیا، اس کی انگلیاں اس کی کنپٹی پر اسی طرح رکھی ہوئی تھیں جس طرح اس نے اپنے قتل ہوتے وقت رکھا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، وعبد بن حميد، - المعنى واحد قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن صهيب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى العصر همس - والهمس في قول بعضهم تحرك شفتيه كانه يتكلم فقيل له انك يا رسول الله اذا صليت العصر همست قال . " ان نبيا من الانبياء كان اعجب بامته فقال من يقول لهولاء فاوحى الله اليه ان خيرهم بين ان انتقم منهم وبين ان اسلط عليهم عدوهم فاختار النقمة فسلط عليهم الموت فمات منهم في يوم سبعون الفا " . قال وكان اذا حدث بهذا الحديث حدث بهذا الحديث الاخر . قال " كان ملك من الملوك وكان لذلك الملك كاهن يكهن له فقال الكاهن انظروا لي غلاما فهما او قال فطنا لقنا فاعلمه علمي هذا فاني اخاف ان اموت فينقطع منكم هذا العلم ولا يكون فيكم من يعلمه . قال فنظروا له على ما وصف فامره ان يحضر ذلك الكاهن وان يختلف اليه فجعل يختلف اليه وكان على طريق الغلام راهب في صومعة " . قال معمر احسب ان اصحاب الصوامع كانوا يوميذ مسلمين قال " فجعل الغلام يسال ذلك الراهب كلما مر به فلم يزل به حتى اخبره فقال انما اعبد الله " . قال " فجعل الغلام يمكث عند الراهب ويبطي على الكاهن فارسل الكاهن الى اهل الغلام انه لا يكاد يحضرني فاخبر الغلام الراهب بذلك فقال له الراهب اذا قال لك الكاهن اين كنت فقل عند اهلي . واذا قال لك اهلك اين كنت فاخبرهم انك كنت عند الكاهن " . قال " فبينما الغلام على ذلك اذ مر بجماعة من الناس كثير قد حبستهم دابة " . فقال بعضهم ان تلك الدابة كانت اسدا قال " فاخذ الغلام حجرا قال اللهم ان كان ما يقول الراهب حقا فاسالك ان اقتلها . قال ثم رمى فقتل الدابة . فقال الناس من قتلها قالوا الغلام ففزع الناس وقالوا لقد علم هذا الغلام علما لم يعلمه احد . قال فسمع به اعمى فقال له ان انت رددت بصري فلك كذا وكذا . قال له لا اريد منك هذا ولكن ارايت ان رجع اليك بصرك اتومن بالذي رده عليك قال نعم . قال فدعا الله فرد عليه بصره فامن الاعمى فبلغ الملك امرهم فبعث اليهم فاتي بهم فقال لاقتلن كل واحد منكم قتلة لا اقتل بها صاحبه فامر بالراهب والرجل الذي كان اعمى فوضع المنشار على مفرق احدهما فقتله وقتل الاخر بقتلة اخرى . ثم امر بالغلام فقال انطلقوا به الى جبل كذا وكذا فالقوه من راسه فانطلقوا به الى ذلك الجبل فلما انتهوا به الى ذلك المكان الذي ارادوا ان يلقوه منه جعلوا يتهافتون من ذلك الجبل ويتردون حتى لم يبق منهم الا الغلام " . قال " ثم رجع فامر به الملك ان ينطلقوا به الى البحر فيلقونه فيه فانطلق به الى البحر فغرق الله الذين كانوا معه وانجاه فقال الغلام للملك انك لا تقتلني حتى تصلبني وترميني وتقول اذا رميتني بسم الله رب هذا الغلام . قال فامر به فصلب ثم رماه فقال بسم الله رب هذا الغلام . قال فوضع الغلام يده على صدغه حين رمي ثم مات . فقال اناس لقد علم هذا الغلام علما ما علمه احد فانا نومن برب هذا الغلام . قال فقيل للملك اجزعت ان خالفك ثلاثة فهذا العالم كلهم قد خالفوك . قال فخد اخدودا ثم القى فيها الحطب والنار ثم جمع الناس فقال من رجع عن دينه تركناه ومن لم يرجع القيناه في هذه النار فجعل يلقيهم في تلك الاخدود . قال يقول الله تعالى : (قتل اصحاب الاخدود * النار ذات الوقود ) حتى بلغ : (العزيز الحميد ) " . قال " فاما الغلام فانه دفن " . قال فيذكر انه اخرج في زمن عمر بن الخطاب واصبعه على صدغه كما وضعها حين قتل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3340
- Book Index
- 392
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
