احادیث
#3318
سنن ترمذی - Exegesis
عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے ہوئے سنا: میری برابر یہ خواہش رہی کہ میں عمر رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دو بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما» ”اے نبی کی دونوں بیویو! اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں ( یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) ، ( مگر مجھے موقع اس وقت ملا ) جب عمر رضی الله عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، میں نے ڈول سے پانی ڈال کر انہیں وضو کرایا، ( اسی دوران ) میں نے ان سے پوچھا: امیر المؤمنین! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دو بیویاں کون ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے «إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه» عمر رضی الله عنہ نے مجھ سے حیرت سے کہا: ہائے تعجب! اے ابن عباس ( تمہیں اتنی سی بات معلوم نہیں ) ( زہری کہتے ہیں قسم اللہ کی ابن عباس رضی الله عنہما نے جو بات پوچھی وہ انہیں بری لگی مگر انہوں نے حقیقت چھپائی نہیں بتا دی ) انہوں نے مجھے بتایا: وہ عائشہ اور حفصہ رضی الله عنہما ہیں، پھر وہ مجھے پوری بات بتانے لگے کہا: ہم قریش والے عورتوں پر حاوی رہتے اور انہیں دبا کر رکھتے تھے، مگر جب مدینہ آئے تو یہاں ایسے لوگ ملے جن پر ان کی بیویاں غالب اور حاوی ہوتی تھیں، تو ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ان کے رنگ ڈھنگ سیکھنے لگیں، ایک دن ایسا ہوا کہ میں اپنی بیوی پر غصہ ہو گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے ( سخت ) ناگوار ہوا کہ وہ مجھے پلٹ کر جواب دے، اس نے کہا: آپ کو یہ بات کیوں ناگوار لگ رہی ہے؟ قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور دن سے رات تک آپ کو چھوڑے رہتی ہیں ( روٹھی اور اینٹھی رہتی ) ہیں، میں نے اپنے جی میں کہا: آپ کی بیویوں میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور گھاٹے میں رہی، میرا گھر مدینہ کے بنی امیہ نامی محلہ میں عوالی کے علاقہ میں تھا، اور میرا ایک انصاری پڑوسی تھا، ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے، ایک دن وہ آتا اور جو کچھ ہوا ہوتا وہ واپس جا کر مجھے بتاتا، اور ایسے ہی ایک دن میں آپ کے پاس آتا اور وحی وغیرہ کی جو بھی خبر ہوتی میں جا کر اسے بتاتا، ہم ( اس وقت ) باتیں کیا کرتے تھے کہ اہل غسان ہم سے لڑائی کرنے کے لیے اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعلیں ٹھونک رہے ہیں، ایک دن عشاء کے وقت ہمارے پڑوسی انصاری نے آ کر، دروازہ کھٹکھٹایا، میں دروازہ کھول کر اس کے پاس گیا، اس نے کہا: ایک بڑی بات ہو گئی ہے، میں نے پوچھا: کیا اہل غسان ہم پر چڑھائی کر آئے ہیں؟ اس نے کہا: اس سے بھی بڑا معاملہ پیش آ گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے اپنے جی میں کہا: حفصہ ناکام رہی گھاٹے میں پڑی، میں سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے، جب میں نے فجر پڑھی تو اپنے کپڑے پہنے اور چل پڑا، حفصہ کے پاس پہنچا تو وہ ( بیٹھی ) رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم سب بیویوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ہے، البتہ آپ اس بالاخانے پر الگ تھلگ بیٹھے ہیں، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں ( اٹھ کر آپ سے ملنے ) چلا، میں ایک کالے رنگ کے ( دربان ) لڑکے کے پاس آیا اور اس سے کہا: جاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر کے آنے کی اجازت مانگو، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: وہ لڑکا آپ کے پاس گیا پھر نکل کر میرے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کے آنے کی خبر کی مگر آپ نے کچھ نہ کہا، میں مسجد چلا گیا ( دیکھا ) منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے، میں بھی انہیں لوگوں کے پاس بیٹھ گیا، ( مجھے سکون نہ ملا ) میری فکرو تشویش بڑھتی گئی، میں اٹھ کر دوبارہ لڑکے کے پاس چلا آیا، میں نے کہا: جاؤ آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، تو وہ اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، اس نے کہا: میں نے آپ کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا، عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں دوبارہ مسجد میں آ کر بیٹھ گیا، مگر مجھ پر پھر وہی فکر سوار ہو گئی، میں ( سہ بارہ ) لڑکے کے پاس آ گیا اور اس سے کہا: جاؤ اور آپ سے عمر کے اندر آنے کی اجازت مانگو، وہ لڑکا اندر گیا پھر میرے پاس واپس آیا، کہا: میں نے آپ سے آپ کے آنے کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہ دیا، ( یہ سن کر ) میں پلٹ پڑا، یکایک لڑکا مجھے پکارنے لگا، ( آ جائیے آ جائیے ) اندر تشریف لے جائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اجازت دے دی ہے، میں اندر چلا گیا، میں نے دیکھا آپ بوریئے پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور اس کا اثر و نشان آپ کے پہلوؤں میں دیکھا، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: اللہ اکبر، آپ نے دیکھا ہو گا اللہ کے رسول! ہم قریشی لوگ اپنی بیویوں پر کنٹرول رکھتے تھے، لیکن جب ہم مدینہ آ گئے تو ہمارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑ گیا ہے جن پر ان کی بیویاں حاوی اور غالب رہتی ہیں، ہماری عورتیں ان کی عورتوں سے ( ان کے طور طریقے ) سیکھنے لگیں، ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی، مجھے یہ سخت برا لگا، کہنے لگی آپ کو کیوں اتنا برا لگ رہا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویاں بھی آپ کو پلٹ کر جواب دے رہی ہیں اور کوئی بھی عورت دن سے رات تک آپ کو چھوڑ کر ( روٹھی و اینٹھی ) رہتی ہے، میں نے حفصہ سے کہا: کیا تم پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں، ہم میں کوئی بھی آپ سے ( خفا ہو کر ) دن سے رات تک آپ سے علیحدہ رہتی ہے، میں نے کہا: تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ گھاٹے میں رہی اور ناکام ہوئی، کیا تم میں سے ہر کوئی اس بات سے مطمئن ہے کہ اللہ اپنے رسول کی ناراضگی کے سبب اس سے ناراض و ناخوش ہو جائے اور وہ ہلاک و برباد ہو جائے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے، عمر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے حفصہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب نہ دو اور نہ آپ سے کسی چیز کا مطالبہ کرو، جس چیز کی تمہیں حاجت ہو وہ مجھ سے مانگ لیا کرو، اور تم بھروسے میں نہ رہو تمہاری سوکن تو تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی ہے ۱؎ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مسکرا دیئے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں دل بستگی کی بات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، عمر کہتے ہیں: میں نے سر اٹھایا تو گھر میں تین کچی کھالوں کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہ دی، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اللہ سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت کو وہ کشادگی و فراوانی دے جو اس نے روم و فارس کو دی ہے، جب کہ وہ اس کی عبادت و بندگی بھی نہیں کرتے ہیں، ( یہ سن کر ) آپ جم کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! کیا تم ابھی تک اسلام کی حقانیت کے بارے میں شک و شبہہ میں پڑے ہوئے ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کے حصہ کی اچھی چیزیں پہلے ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے فہمائش کی اور آپ کو کفارہ یمین ( قسم کا کفارہ ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ زہری کہتے ہیں: عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ رضی الله عنہا نے بتایا کہ جب مہینے کے ۲۹ دن گزر گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے میرے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کا ذکر کرنے والا ہوں، اپنے والدین سے مشورہ کئے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا“، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي قل لأزواجك» ( آخر آیت تک ) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی خوش رنگینیاں چاہیئے، تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دوں، اور خوش اسلوبی سے تم کو رخصت کر دوں، اور اگر تمہیں اللہ اور اس کا رسول چاہیں اور آخرت کی بھلائی چاہیں تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیک عمل کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے“ ( الاحزاب: ۲۸، ۲۹ ) ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ جانتے تھے، قسم اللہ کی میرے والدین مجھے آپ سے علیحدگی اختیار کر لینے کا ہرگز حکم نہ دیں گے، میں نے کہا: کیا میں اس معاملے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی اور پسند کرتی ہوں۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، قال سمعت ابن عباس، رضى الله عنهما يقول لم ازل حريصا ان اسال عمر عن المراتين من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله عز وجل : (ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما ) حتى حج عمر وحججت معه فصببت عليه من الاداوة فتوضا فقلت يا امير المومنين من المراتان من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال الله : ( ان تتوبا الى الله فقد صغت قلوبكما وان تظاهرا عليه فان الله هو مولاه ) فقال لي واعجبا لك يا ابن عباس قال الزهري وكره والله ما ساله عنه ولم يكتمه فقال لي هي عايشة وحفصة قال ثم انشا يحدثني الحديث فقال كنا معشر قريش نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساوهم فطفق نساونا يتعلمن من نسايهم فتغضبت على امراتي يوما فاذا هي تراجعني فانكرت ان تراجعني فقالت ما تنكر من ذلك فوالله ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره احداهن اليوم الى الليل . قال قلت في نفسي قد خابت من فعلت ذلك منهن وخسرت . قال وكان منزلي بالعوالي في بني امية وكان لي جار من الانصار كنا نتناوب النزول الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينزل يوما فياتيني بخبر الوحى وغيره وانزل يوما فاتيه بمثل ذلك . قال وكنا نحدث ان غسان تنعل الخيل لتغزونا . قال فجاءني يوما عشاء فضرب على الباب فخرجت اليه فقال حدث امر عظيم . قلت اجاءت غسان قال اعظم من ذلك طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه . قال قلت في نفسي قد خابت حفصة وخسرت قد كنت اظن هذا كاينا قال فلما صليت الصبح شددت على ثيابي ثم انطلقت حتى دخلت على حفصة فاذا هي تبكي فقلت اطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت لا ادري هو ذا معتزل في هذه المشربة . قال فانطلقت فاتيت غلاما اسود فقلت استاذن لعمر . قال فدخل ثم خرج الى . قال قد ذكرتك له فلم يقل شييا . قال فانطلقت الى المسجد فاذا حول المنبر نفر يبكون فجلست اليهم ثم غلبني ما اجد فاتيت الغلام فقلت استاذن لعمر . فدخل ثم خرج الى فقال قد ذكرتك له فلم يقل شييا . قال فانطلقت الى المسجد ايضا فجلست ثم غلبني ما اجد فاتيت الغلام فقلت استاذن لعمر . فدخل ثم خرج الى فقال قد ذكرتك له فلم يقل شييا . قال فوليت منطلقا فاذا الغلام يدعوني فقال ادخل فقد اذن لك فدخلت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم متكي على رمل حصير قد رايت اثره في جنبه فقلت يا رسول الله اطلقت نساءك قال لا . قلت الله اكبر لقد رايتنا يا رسول الله ونحن معشر قريش نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساوهم فطفق نساونا يتعلمن من نسايهم فتغضبت يوما على امراتي فاذا هي تراجعني فانكرت ذلك فقالت ما تنكر فوالله ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره احداهن اليوم الى الليل . قال فقلت لحفصة اتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم وتهجره احدانا اليوم الى الليل . فقلت قد خابت من فعلت ذلك منكن وخسرت اتامن احداكن ان يغضب الله عليها لغضب رسوله فاذا هي قد هلكت فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم . قال فقلت لحفصة لا تراجعي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تساليه شييا وسليني ما بدا لك ولا يغرنك ان كانت صاحبتك اوسم منك واحب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فتبسم اخرى فقلت يا رسول الله استانس قال " نعم " . قال فرفعت راسي فما رايت في البيت الا اهبة ثلاثة . قال فقلت يا رسول الله ادع الله ان يوسع على امتك فقد وسع على فارس والروم وهم لا يعبدونه . فاستوى جالسا فقال " اوفي شك انت يا ابن الخطاب اوليك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا " . قال وكان اقسم ان لا يدخل على نسايه شهرا فعاتبه الله في ذلك وجعل له كفارة اليمين . قال الزهري فاخبرني عروة، عن عايشة، قالت فلما مضت تسع وعشرون دخل على النبي صلى الله عليه وسلم بدا بي فقال " يا عايشة اني ذاكر لك شييا فلا تعجلي حتى تستامري ابويك " . قالت ثم قرا هذه الاية ( يا ايها النبي قل لازواجك ) الاية . قالت علم والله ان ابوى لم يكونا يامراني بفراقه فقلت افي هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة . قال معمر فاخبرني ايوب ان عايشة قالت له يا رسول الله لا تخبر ازواجك اني اخترتك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما بعثني الله مبلغا ولم يبعثني متعنتا " . قال هذا حديث حسن صحيح غريب قد روي من غير وجه عن ابن عباس
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3318
- Book Index
- 370
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
