احادیث
#3314
سنن ترمذی - Exegesis
حکم بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی کو چالیس سال سے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کرتے سن رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں عبداللہ بن ابی نے کہا: اگر ہم مدینہ لوٹے تو عزت والے لوگ ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال باہر کریں گے، وہ کہتے ہیں: میں یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، اور آپ کو یہ بات بتا دی ( جب اس سے بازپرس ہوئی ) تو وہ قسم کھا گیا کہ اس نے تو ایسی کوئی بات کہی ہی نہیں ہے، میری قوم نے مجھے ملامت کی، لوگوں نے کہا: تجھے اس طرح کی ( جھوٹ ) بات کہنے سے کیا ملا؟ میں گھر آ گیا، رنج و غم میں ڈوبا ہوا لیٹ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے یا میں آپ کے پاس پہنچا ( راوی کو شک ہو گیا ہے کہ زید بن ارقم رضی الله عنہ نے یہ کہا یا وہ کہا ) آپ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے سچا ٹھہرایا ہے یہ آیت نازل ہوئی ہے: «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا» ”وہی لوگ تھے جو کہتے تھے ان لوگوں پر خرچ نہ کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں“ ( المنافقون: ۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن ابي عدي، انبانا شعبة، عن الحكم بن عتيبة، قال سمعت محمد بن كعب القرظي، منذ اربعين سنة يحدث عن زيد بن ارقم، رضى الله عنه ان عبد، الله بن ابى قال في غزوة تبوك : (لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل ) قال فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فحلف ما قاله فلامني قومي وقالوا ما اردت الى هذه فاتيت البيت ونمت كييبا حزينا فاتاني النبي صلى الله عليه وسلم او اتيته فقال " ان الله قد صدقك " . قال فنزلت هذه الاية : ( هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3314
- Book Index
- 366
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
