احادیث
#3301
سنن ترمذی - Exegesis
انس ابن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا: «السام عليكم» ( تم پر موت آئے ) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس ( یہودی ) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ“، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا: تو نے «السام عليكم» کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت سے یہ حکم صادر فرمایا دیا کہ جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس کے جواب میں «عليك ما قلت» ( جو تم نے کہی وہی تمہارے لیے بھی ہے ) کہہ دیا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله» ”یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے“ ( المجادلہ: ۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا يونس، عن شيبان، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك، ان يهوديا، اتى على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه فقال السام عليكم فرد عليه القوم فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " هل تدرون ما قال هذا " . قالوا الله ورسوله اعلم�� سلم يا نبي الله . قال " لا ولكنه قال كذا وكذا ردوه على " . فردوه قال " قلت السام عليكم " . قال نعم . قال نبي الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " اذا سلم عليكم احد من اهل الكتاب فقولوا عليك " . قال " عليك ما قلت " . قال : (واذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3301
- Book Index
- 353
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
