احادیث
#3291
سنن ترمذی - Exegesis
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے سورۃ الرحمن شروع سے آخر تک پڑھی، لوگ ( سن کر ) چپ رہے، آپ نے کہا: میں نے یہ سورۃ اپنی جنوں سے ملاقات والی رات میں جنوں کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے تمہارے بالمقابل اچھا جواب دیا، جب بھی میں پڑھتا ہوا آیت «فبأي آلاء ربكما تكذبان» پر پہنچتا تو وہ کہتے «لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد» ”اے ہمارے رب! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرتے، تیرے ہی لیے ہیں ساری تعریفیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت کے سوا جسے وہ زہیر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اور کسی سے نہیں جانتے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: زہیر بن محمد جو شام میں ہیں، وہ زہیر نہیں جن سے اہل عراق روایت کرتے ہیں تو ان وہ دوسرے آدمی ہیں، لوگوں نے ان کا نام اس وجہ سے تبدیل کر دیا ہے ( تاکہ لوگ ان کا نام نہ جان سکیں ) کیونکہ لوگ ان سے منکر احادیث بیان کرتے تھے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل شام زہیر بن محمد سے مناکیر ( منکر احادیث ) روایت کرتے ہیں، اور اہل عراق ان سے صحیح احادیث روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الرحمن بن واقد ابو مسلم السعدي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن زهير بن محمد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، رضى الله عنه قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على اصحابه فقرا عليهم سورة الرحمن من اولها الى اخرها فسكتوا فقال " لقد قراتها على الجن ليلة الجن فكانوا احسن مردودا منكم كنت كلما اتيت على قوله : ( فباى الاء ربكما تكذبان ) قالوا لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث الوليد بن مسلم عن زهير بن محمد . قال احمد بن حنبل كان زهير بن محمد الذي وقع بالشام ليس هو الذي يروى عنه بالعراق كانه رجل اخر قلبوا اسمه يعني لما يروون عنه من المناكير . وسمعت محمد بن اسماعيل البخاري يقول اهل الشام يروون عن زهير بن محمد مناكير واهل العراق يروون عنه احاديث مقاربة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3291
- Book Index
- 343
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiDaif
