احادیث
#3300
سنن ترمذی - Exegesis
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة» ”اے ایمان والو! جب رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو“ ( المجادلہ: ۱۲ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے، ایک دینار صدقہ مقرر کر دوں؟“ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے فرمایا: ”تو کیا آدھا دینار مقرر کر دوں؟ میں نے کہا: اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے“، آپ نے فرمایا: ”پھر کتنا کر دوں؟“ میں نے کہا: ایک جو کر دیں، آپ نے فرمایا: ”تم تو بالکل ہی گھٹا دینے والے نکلے“، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواكم صدقات» ”کیا تم اس حکم سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے دے دیا کرو“ ( المجادلہ: ۱۳ ) ، علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ نے میری وجہ سے فضل فرما کر اس امت کے معاملے میں تخفیف فرما دی ( یعنی اس حکم کو منسوخ کر دیا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کے قول «شعيرة» سے مراد ایک جو کے برابر ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن الثوري، عن عثمان بن المغيرة الثقفي، عن سالم بن ابي الجعد، عن علي بن علقمة الانماري، عن علي بن ابي طالب، قال لما نزلت : (يا ايها الذين امنوا اذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدى نجواكم صدقة ) . قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " ما ترى دينارا " . قلت لا يطيقونه . قال " فنصف دينار " . قلت لا يطيقونه . قال " فكم " . قلت شعيرة . قال " انك لزهيد " . قال فنزلت : (ااشفقتم ان تقدموا بين يدى نجواكم صدقات ) الاية . قال فبي خفف الله عن هذه الامة . قال هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من هذا الوجه . ومعنى قوله شعيرة يعني وزن شعيرة من ذهب وابو الجعد اسمه رافع
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Exegesis
- Hadith Index
- #3300
- Book Index
- 352
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif Isnaad
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
