Loading...

Loading...
کتب
۱۲۰ احادیث
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے ( پھر سے ) وضو نہیں کیا۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا ابن لهيعة، اخبرني سليمان بن زياد الحضرمي، عن عبد الله بن الحارث بن الجزء الزبيدي، قال اكلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما في المسجد لحما قد شوي فمسحنا ايدينا بالحصباء ثم قمنا فصلى ولم يتوضا
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے اس سے گفتگو کی تو ( خوف کی وجہ سے ) اس کے مونڈھے کانپنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ڈرو نہیں، اطمینان رکھو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے۔
حدثنا اسماعيل بن اسد، حدثنا جعفر بن عون، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي مسعود، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فكلمه فجعل ترعد فرايصه فقال له " هون عليك فاني لست بملك انما انا ابن امراة تاكل القديد " . قال ابو عبد الله اسماعيل وحده وصله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، اخبرني ابي، عن عايشة، قالت لقد كنا نرفع الكراع فياكله رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد خمس عشرة من الاضاحي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دئیے گئے ہیں: رہے دونوں مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہے، اور رہے دونوں خون: تو وہ جگر ( کلیجی ) اور تلی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " احلت لنا ميتتان ودمان فاما الميتتان فالحوت والجراد واما الدمان فالكبد والطحال
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سالنوں کا سردار نمک ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا عيسى بن ابي عيسى، عن رجل، - اراه موسى - عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سيد ادامكم الملح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے ۔
حدثنا احمد بن ابي الحواري، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الادام الخل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا قيس بن الربيع، عن محارب بن دثار، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الادام الخل
ام سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، میں انہیں کے پاس تھی، آپ نے سوال کیا: کیا کچھ کھانے کو ہے ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے، اے اللہ! سر کے میں برکت عطا فرما، اس لیے کہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن یہی تھا، اور ایسا گھر کبھی فقر کا شکار نہیں ہوا جس میں سرکہ موجود ہو ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عنبسة بن عبد الرحمن، عن محمد بن زاذان، انه حدثه قال حدثتني ام سعد، قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على عايشة وانا عندها فقال " هل من غداء " . قالت عندنا خبز وتمر وخل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الادام الخل اللهم بارك في الخل فانه كان ادام الانبياء قبلي ولم يفتقر بيت فيه خل
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو اپنے سر اور بدن میں لگاؤ اس لیے کہ یہ مبارک درخت سے نکلتا ہے ۱؎۔
حدثنا الحسين بن مهدي، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايتدموا بالزيت وادهنوا به فانه من شجرة مباركة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو، اور اس کو سر اور بدن میں لگاؤ، اس لیے کہ یہ بابرکت ہے ۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا عبد الله بن سعيد، عن جده، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا الزيت وادهنوا به فانه مبارك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب دودھ آتا تو فرماتے: ایک برکت ہے یا دو برکتیں ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا زيد بن الحباب، عن جعفر بن برد الراسبي، حدثتني مولاتي ام سالم الراسبية، قالت سمعت عايشة، تقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتي بلبن قال " بركة او بركتان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ کھانا کھلائے اسے چاہیئے کہ وہ یوں کہے: «اللهم بارك لنا فيه وارزقنا خيرا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں اس سے بہتر روزی مزید عطا فرما اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے تو چاہیئے کہ وہ یوں کہے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور مزید عطا کر کیونکہ سوائے دودھ کے کوئی چیز مجھے نہیں معلوم جو کھانے اور پینے دونوں کے لیے کافی ہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ابن جريج، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اطعمه الله طعاما فليقل اللهم بارك لنا فيه وارزقنا خيرا منه . ومن سقاه الله لبنا فليقل اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه فاني لا اعلم ما يجزي من الطعام والشراب الا اللبن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلوا ( شیرینی ) اور شہد پسند فرماتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، وعبد الرحمن بن ابراهيم، قالوا حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب الحلواء والعسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر سکیں، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی، تو میں اچھی طرح موٹی ہو گئی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يونس بن بكير، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت امي تعالجني للسمنة تريد ان تدخلني على رسول الله صلى الله عليه وسلم فما استقام لها ذلك حتى اكلت القثاء بالرطب فسمنت كاحسن سمنة
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تر کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے دیکھا۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، واسماعيل بن موسى، قالا حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل القثاء بالرطب
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح، وعمرو بن رافع، قالا حدثنا يعقوب بن الوليد بن ابي هلال المدني، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل الرطب بالبطيخ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن ابي الحواري الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بيت لا تمر فيه جياع اهله
سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا هشام بن سعد، عن عبيد الله بن علي بن ابي رافع، عن جدته، سلمى ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بيت لا تمر فيه كالبيت لا طعام فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے: «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی اے اللہ! ہمارے شہر میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، ہمیں برکت عطا فرما، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے۔
حدثنا محمد بن الصباح، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، اخبرني سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اتي باول الثمرة قال " اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة " . ثم يناوله اصغر من بحضرته من الولدان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچی کھجور اور خشک کھجور کو ملا کر کھاؤ، اور پرانی کو نئی کے ساتھ ملا کر کھاؤ، اس لیے کہ شیطان کو غصہ آتا ہے اور کہتا ہے: آدم کا بیٹا زندہ ہے یہاں تک کہ اس نے پرانی اور نئی دونوں چیزیں کھا لیں ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يحيى بن محمد بن قيس المدني، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا البلح بالتمر كلوا الخلق بالجديد فان الشيطان يغضب ويقول بقي ابن ادم حتى اكل الخلق بالجديد