Loading...

Loading...
کتب
۱۲۰ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا غلام کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ غلام کو اپنے ساتھ بٹھائے، یا یہ کہ اس میں سے اسے بھی دے، اس لیے کہ وہی تو ہے جس نے اس کی گرمی اور اس کے دھوئیں کی تکلیف اٹھائی ہے ۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا ابراهيم الهجري، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جاء خادم احدكم بطعامه فليقعده معه او ليناوله منه فانه هو الذي ولي حره ودخانه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان ( میز ) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ «سکرجہ» ( چھوٹی طشتری ) ۱؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: دستر خوان پر۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن يونس بن ابي الفرات الاسكاف، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال ما اكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان ولا في سكرجة . قال فعلام كانوا ياكلون قال على السفر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستر خوان پر کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔
حدثنا عبيد الله بن يوسف الجبيري، حدثنا ابو بحر، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، حدثنا قتادة، عن انس، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل على خوان حتى مات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ لوگ کھانا اٹھائے جانے سے پہلے اٹھ جائیں۔
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن منير بن الزبير، عن مكحول، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يقام عن الطعام حتى يرفع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگا دیا جائے تو کوئی شخص اس کے اٹھائے جانے سے پہلے نہ اٹھے، اور نہ ہی اپنا ہاتھ کھینچے گرچہ وہ آسودہ ہو چکا ہو جب تک کہ دوسرے لوگ بھی کھانے سے فارغ نہ ہو جائیں، ( اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو ) تو عذر پیش کر دے، اس لیے کہ آدمی اپنے ساتھی سے شرماتا ہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ابھی اس کو کھانے کی حاجت ہو ۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا عبيد الله، انبانا عبد الاعلى، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة بن الزبير، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضعت المايدة فلا يقوم رجل حتى ترفع المايدة ولا يرفع يده وان شبع حتى يفرغ القوم وليعذر فان الرجل يخجل جليسه فيقبض يده وعسى ان يكون له في الطعام حاجة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! وہ شخص خود اپنے ہی کو ملامت کرے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا عبيد بن وسيم الجمال، حدثني الحسن بن الحسن، عن امه، فاطمة بنت الحسين عن الحسين بن علي، عن امه، فاطمة ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا لا يلومن امرو الا نفسه يبيت وفي يده ريح غمر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نام احدكم وفي يده ريح غمر فلم يغسل يده فاصابه شىء فلا يلومن الا نفسه
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حد ثنا وكيع، عن سفيان، عن ابن ابي حسين، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، قالت اتي النبي صلى الله عليه وسلم بطعام فعرض علينا فقلنا لا نشتهيه . فقال " لا تجمعن جوعا وكذبا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ (جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ ،، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھا لیا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن ابي هلال، عن عبد الله بن سوادة، عن انس بن مالك، - رجل من بني عبد الاشهل - قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتغدى فقال " ادن فكل " . فقلت اني صايم فيا لهف نفسي هلا كنت طعمت من طعام رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، وحرملة بن يحيى، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، حدثني سليمان بن زياد الحضرمي، انه سمع عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي، يقول كنا ناكل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد الخبز واللحم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو السايب، سلم بن جنادة حدثنا حفص بن غياث، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ناكل ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے۔
حدثنا احمد بن منيع، انبانا عبيدة بن حميد، عن حميد، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب القرع
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا، جس میں تازہ کھجور تھے، میں نے آپ کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے، اس نے آپ کو دعوت دی تھی، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا، ( غلام نے ) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے، میں نے ( تازہ کھجور کا ) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن حميد، عن انس، قال بعثت معي ام سليم بمكتل فيه رطب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم اجده وخرج قريبا الى مولى له دعاه فصنع له طعاما فاتيته وهو ياكل . قال فدعاني لاكل معه . قال وصنع ثريدة بلحم وقرع . قال فاذا هو يعجبه القرع . قال فجعلت اجمعه فادنيه منه فلما طعمنا منه رجع الى منزله ووضعت المكتل بين يديه فجعل ياكل ويقسم حتى فرغ من اخره
جابر (جابر بن طارق) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر گیا، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ «قرع» یعنی کدو ہے، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن حكيم بن جابر، عن ابيه، قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم في بيته وعنده هذه الدباء فقلت اى شىء هذا قال " هذا القرع هو الدباء نكثر به طعامنا
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل دنیا اور اہل جنت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے ۔
حدثنا العباس بن الوليد الخلال الدمشقي، حدثنا يحيى بن صالح، حدثني سليمان بن عطاء الجزري، حدثني مسلمة بن عبد الله الجهني، عن عمه ابي مشجعة، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سيد طعام اهل الدنيا واهل الجنة اللحم
ابوالدرد۱ء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی دعوت دی گئی ہو اور اسے آپ نے قبول نہ کیا ہو، اور نہ ہی ایسا ہوا کہ آپ کو گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ہو اور آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ہو۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا يحيى بن صالح، حدثنا سليمان بن عطاء الجزري، حدثنا مسلمة بن عبد الله الجهني، عن عمه ابي مشجعة، عن ابي الدرداء، قال ما دعي رسول الله صلى الله عليه وسلم الى لحم قط الا اجاب ولا اهدي له لحم قط الا قبله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر العبدي، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا محمد بن فضيل، قالا حدثنا ابو حيان التيمي، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم بلحم فرفع اليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنہوں نے لوگوں کے لیے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا ہے جب لوگ آپ کے لیے گوشت ڈال رہے تھے: سب سے عمدہ اور لذیذ پٹھے کا گوشت ہوتا ہے ۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن مسعر، حدثني شيخ، من فهم - قال واظنه يسمى محمد بن عبد الله - انه سمع عبد الله بن جعفر يحدث ابن الزبير وقد نحر لهم جزورا او بعيرا انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال والقوم يلقون لرسول الله صلى الله عليه وسلم اللحم - يقول " اطيب اللحم لحم الظهر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال ما اعلم رسول الله صلى الله عليه وسلم راى شاة سميطا حتى لحق بالله عز وجل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بچا ہوا بھنا گوشت نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ کبھی دری ( چٹائی ) لے جائی گئی
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا كثير بن سليم، عن انس بن مالك، قال ما رفع من بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فضل شواء قط ولا حملت معه طنفسة صلى الله عليه وسلم