Loading...

Loading...
کتب
۱۲۰ احادیث
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نبیشہ رضی اللہ عنہ آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا ابو اليمان البراء، قال حدثتني جدتي ام عاصم، قالت دخل علينا نبيشة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن ناكل في قصعة فقال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اكل في قصعة فلحسها استغفرت له القصعة
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف ونصر بن علي قالا حدثنا المعلى بن راشد ابو اليمان، حدثتني جدتي، عن رجل، من هذيل يقال له نبيشة الخير قالت دخل علينا نبيشة ونحن ناكل في قصعة لنا فقال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اكل في قصعة ثم لحسها استغفرت له القصعة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے ۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا عبيد الله، حدثنا عبد الاعلى، عن يحيى بن ابي كثير، عن عروة بن الزبير، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضعت المايدة فلياكل مما يليه ولا يتناول من بين يدى جليسه
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك بن ابي السوية، حدثني عبيد الله بن عكراش، عن ابيه، عكراش بن ذويب قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بجفنة كثيرة الثريد والودك فاقبلنا ناكل منها فخبطت يدي في نواحيها فقال " يا عكراش كل من موضع واحد فانه طعام واحد " . ثم اتينا بطبق فيه الوان من الرطب فجالت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الطبق وقال " يا عكراش كل من حيث شيت فانه غير لون واحد
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن عرق اليحصبي، حدثنا عبد الله بن بسر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بقصعة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا من جوانبها ودعوا ذروتها يبارك فيها
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا، اور فرمایا: بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا ابو حفص، عمر بن الدرفس حدثني عبد الرحمن بن ابي قسيمة، عن واثلة بن الاسقع الليثي، قال اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم براس الثريد فقال " كلوا بسم الله من حواليها واعفوا راسها فان البركة تاتيها من فوقها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو، اور درمیان کو چھوڑ دو، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے ۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضع الطعام فخذوا من حافته وذروا وسطه فان البركة تنزل في وسطه
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يزيد بن زريع، عن يونس، عن الحسن، عن معقل بن يسار، قال بينما هو يتغدى اذ سقطت منه لقمة فتناولها فاماط ما كان فيها من اذى فاكلها فتغامز به الدهاقين فقيل اصلح الله الامير ان هولاء الدهاقين يتغامزون من اخذك اللقمة وبين يديك هذا الطعام . قال اني لم اكن لادع ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم لهذه الاعاجم انا كنا نامر احدنا اذا سقطت لقمته ان ياخذها فيميط ما كان فيها من اذى وياكلها ولا يدعها للشيطان
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے، تو اسے چاہیئے کہ اس پر جو گندگی لگ گئی ہے اسے پونچھ لے اور اسے کھا لے ۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وقعت اللقمة من يد احدكم فليمسح ما عليها من الاذى ولياكلها
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن مرة الهمداني، عن ابي موسى الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كمل من الرجال كثير ولم يكمل من النساء الا مريم بنت عمران واسية امراة فرعون وان فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا مسلم بن خالد، عن عبد الله بن عبد الرحمن، انه سمع انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ہی میسر ہوتا تھا، اور جب ہمیں کھانا میسر ہو جاتا تو ہمارے پاس رومال اور تولیے نہیں ہوتے تھے، سوائے اپنی ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے، پھر ہم نماز پڑھتے، اور دوبارہ وضو نہیں کرتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، یہ صرف محمد بن سلمہ سے مروی ہے۔
حدثنا محمد بن سلمة المصري ابو الحارث المرادي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن محمد بن ابي يحيى، عن ابيه، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبد الله، قال كنا زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقليل ما نجد الطعام فاذا نحن وجدناه لم يكن لنا مناديل الا اكفنا وسواعدنا واقدامنا ثم نصلي ولا نتوضا . قال ابو عبد الله غريب ليس الا عن محمد بن سلمة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين»یعنی حمد و ثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج، عن رياح بن عبيدة، عن مولى، لابي سعيد عن ابي سعيد، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اكل طعاما قال " الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کھانا یا جو کچھ سامنے ہوتا اٹھا لیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کی بہت بہت حمد و ثناء ہے، وہ نہایت پاکیزہ اور برکت والا ہے، وہ سب کو کافی ہے اس کے لیے کوئی کافی نہیں، اسے نہ چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے، اے ہمارے رب! ( ہماری دعا سن لے ) ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة الباهلي، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول اذا رفع طعامه او ما بين يديه قال " الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني سعيد بن ابي ايوب، عن ابي مرحوم عبد الرحيم، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكل طعاما فقال الحمد لله الذي اطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه
وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو ، لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ، اور اللہ کا نام لیا کرو، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وداود بن رشيد، ومحمد بن الصباح، قالوا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا وحشي بن حرب بن وحشي بن حرب، عن ابيه، عن جده، وحشي، انهم قالوا يا رسول الله انا ناكل ولا نشبع . قال " فلعلكم تاكلون متفرقين " . قالوا نعم . قال " فاجتمعوا على طعامكم واذكروا اسم الله عليه يبارك لكم فيه
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب مل کر کھانا کھاؤ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا سعيد بن زيد، حدثنا عمرو بن دينار، قهرمان ال الزبير قال سمعت سالم بن عبد الله بن عمر، قال سمعت ابي يقول، سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا جميعا ولا تفرقوا فان البركة مع الجماعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الرحيم بن عبد الرحمن المحاربي، حدثنا شريك، عن عبد الكريم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفخ في طعام ولا شراب ولا يتنفس في الاناء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ خادم کو اپنے ساتھ بیٹھائے اور اس کے ساتھ کھائے، اور اگر اپنے ساتھ کھلانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیئے کہ وہ کھانے میں سے اسے بھی دے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن ابيه، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جاء احدكم خادمه بطعامه فليجلسه فلياكل معه فان ابى فليناوله منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کا غلام جب اس کے سامنے کھانا پیش کرے جس کو تیار کرنے میں اس نے اس کی طرف سے تکلیف اور گرمی برداشت کی ہے، تو اسے چاہیئے کہ اسے بھی بلائے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ کھائے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو چاہیئے کہ ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے ۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا احدكم قرب اليه مملوكه طعاما قد كفاه عناءه وحره فليدعه فلياكل معه فان لم يفعل فلياخذ لقمة فليجعلها في يده