Loading...

Loading...
کتب
۱۲۰ احادیث
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے، اور کہا گیا کہ اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، یہ تین بار کہا، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ پہنچا تاکہ ( آپ کو ) دیکھوں، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا، اس وقت سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتوں کو جوڑو، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو، ( ایسا کرنے سے ) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عوف، عن زرارة بن اوفى، حدثني عبد الله بن سلام، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة انجفل الناس قبله وقيل قد قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قدم رسول الله قد قدم رسول الله . ثلاثا فجيت في الناس لانظر فلما تبينت وجهه عرفت ان وجهه ليس بوجه كذاب فكان اول شىء سمعته تكلم به ان قال " يا ايها الناس افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا الارحام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، اور بھائی بھائی ہو جاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، قال سليمان بن موسى حدثنا عن نافع، ان عبد الله بن عمر، كان يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " افشوا السلام واطعموا الطعام وكونوا اخوانا كما امركم الله عز وجل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا اسلام بہتر ہے ۱؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کھلانا، ہر شخص کو سلام کرنا، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو، . ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اى الاسلام خير قال " تطعم الطعام وتقرا السلام على من عرفت ومن لم تعرف
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله الرقي، حدثنا يحيى بن زياد الاسدي، انبانا ابن جريج، انبانا ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الاربعة وطعام الاربعة يكفي الثمانية
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا سعيد بن زيد، حدثنا عمرو بن دينار، قهرمان ال الزبير قال سمعت سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن جده، عمر بن الخطاب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان طعام الواحد يكفي الاثنين وان طعام الاثنين يكفي الثلاثة والاربعة وان طعام الاربعة يكفي الخمسة والستة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن ياكل في معى واحد والكافر ياكل في سبعة امعاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے، اور مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكافر ياكل في سبعة امعاء والمومن ياكل في معى واحد
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن ياكل في معى واحد والكافر ياكل في سبعة امعاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر آپ کو کھانا اچھا لگتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال ما عاب رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما قط ان رضيه اكله والا تركه . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي يحيى، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو بكر نخالف فيه يقولون عن ابي حازم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلما نے فرمایا: جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آ جائے، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا كثير بن سليم، سمعت انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب ان يكثر الله خير بيته فليتوضا اذا حضر غداوه واذا رفع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ؟ ۱؎۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا صاعد بن عبيد الجزري، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا محمد بن جحادة، حدثنا عمرو بن دينار المكي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه خرج من الغايط فاتي بطعام فقال رجل يا رسول الله الا اتيك بوضوء قال " اريد الصلاة
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن مسعر، عن علي بن الاقمر، عن ابي جحيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا اكل متكيا
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا ۱؎۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ابي، انبانا محمد بن عبد الرحمن بن عرق، حدثنا عبد الله بن بسر، قال اهديت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة فجثى رسول الله صلى الله عليه وسلم على ركبتيه ياكل فقال اعرابي ما هذه الجلسة فقال " ان الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو، اگر یہ شخص «بسم الله» کہہ لیتا، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ ( «بسم الله» ) کہے، اگر وہ شروع میں ( «بسم الله» ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے: «بسم الله في أوله وآخره» ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن هشام الدستوايي، عن بديل بن ميسرة، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل طعاما في ستة نفر من اصحابه فجاء اعرابي فاكله بلقمتين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انه لو كان قال بسم الله لكفاكم فاذا اكل احدكم طعاما فليقل بسم الله فان نسي ان يقول بسم الله في اوله فليقل بسم الله في اوله واخره
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں کھانے جا رہا تھا تو مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لو،، یعنی «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کرو۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم وانا اكل " سم الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الهقل بن زياد، حدثنا هشام بن حسان، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لياكل احدكم بيمينه وليشرب بيمينه ولياخذ بيمينه وليعط بيمينه فان الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله ويعطي بشماله وياخذ بشماله
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: لڑکے! «بسم الله» کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الوليد بن كثير، عن وهب بن كيسان، سمعه من، عمر بن ابي سلمة قال كنت غلاما في حجر النبي صلى الله عليه وسلم وكانت يدي تطيش في الصحفة فقال لي " يا غلام سم الله وكل بيمينك وكل مما يليك
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ، اس لیے کہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تاكلوا بالشمال فان الشيطان ياكل بالشمال
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے، سفیان ( ابن عیینہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث: تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے کے بارے میں بتاؤ، وہ کس سے مروی ہے؟ عمرو بن دینار نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، عمرو بن دینار نے کہا: ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یاد کی ہے، اور یہ بات جابر رضی اللہ عنہ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات جابر رضی اللہ عنہ سے اس سال ہوئی جب وہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے۱؎۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم طعاما فلا يمسح يده حتى يلعقها او يلعقها " . قال سفيان سمعت عمر بن قيس، يسال عمرو بن دينار ارايت حديث عطاء " لا يمسح احدكم يده حتى يلعقها او يلعقها " . عمن هو قال عن ابن عباس . قال فانه حدثناه عن جابر . قال حفظناه من عطاء عن ابن عباس قبل ان يقدم جابر علينا وانما لقي عطاء جابرا في سنة جاور فيها بمكة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۱؎۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن، انبانا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمسح احدكم يده حتى يلعقها فانه لا يدري في اى طعامه البركة