Loading...

Loading...
کتب
۱۲۰ احادیث
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن جبلة بن سحيم، سمعت ابن عمر، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستاذن اصحابه
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا ابو عامر الخزاز، عن الحسن، عن سعد، مولى ابي بكر - وكان سعد يخدم النبي صلى الله عليه وسلم وكان يعجبه حديثه - ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الاقران . يعني في التمر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابو قتيبة، عن همام، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بتمر عتيق فجعل يفتشه
بسر سلمی کے دو بیٹے (رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثني ابن جابر، حدثني سليم بن عامر، عن ابنى، بسر السلميين قالا دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعنا تحته قطيفة لنا صببناها له صبا فجلس عليها فانزل الله عز وجل عليه الوحى في بيتنا وقدمنا له زبدا وتمرا وكان يحب الزبد صلى الله عليه وسلم
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي قال، سالت سهل بن سعد هل رايت النقي قال ما رايت النقي حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقلت فهل كان لهم مناخل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما رايت منخلا حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت فكيف كنتم تاكلون الشعير غير منخول قال نعم ننفخه فيطير منه ما طار وما بقي ثريناه
ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( چھان کر نکالی گئی بھوسی ) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، اخبرني بكر بن سوادة، ان حنش بن عبد الله، حدثه عن ام ايمن، انها غربلت دقيقا فصنعته للنبي صلى الله عليه وسلم رغيفا فقال " ما هذا " . قالت طعام نصنعه بارضنا فاحببت ان اصنع منه لك رغيفا . فقال " رديه فيه ثم اعجنيه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی ایک آنکھ سے بھی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا محمد بن عثمان ابو الجماهر، حدثنا سعيد بن بشير، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، قال ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رغيفا محورا بواحد من عينيه حتى لحق بالله
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی ( چہ جائے کہ کھاتے ) ۱؎۔
حدثنا ابو عمير، عيسى بن محمد بن النحاس الرملي حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن ابن عطاء، عن ابيه، قال زار ابو هريرة قومه بيبنا فاتوه برقاق من رقاق الاول فبكى وقال ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا بعينه قط
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے ( اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا ) ، ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی۔
حدثنا اسحاق بن منصور، واحمد بن سعيد الدارمي، قالا حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا همام، حدثنا قتادة، قال كنا ناتي انس بن مالك - قال اسحاق وخبازه قايم وقال الدارمي وخوانه موضوع - فقال يوما كلوا فما اعلم رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رغيفا مرققا بعينه حتى لحق بالله ولا شاة سميطا قط
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: «فالوذج» کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
حدثنا عبد الوهاب بن الضحاك السلمي ابو الحارث، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا محمد بن طلحة، عن عثمان بن يحيى، عن ابن عباس، قال اول ما سمعنا بالفالوذج، ان جبريل، عليه السلام اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امتك تفتح عليهم الارض فيفاض عليهم من الدنيا حتى انهم لياكلون الفالوذج . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وما الفالوذج " . قال يخلطون السمن والعسل جميعا . فشهق النبي صلى الله عليه وسلم لذلك شهقة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔
حدثنا هدية بن عبد الوهاب، حدثنا الفضل بن موسى السيناني، حدثنا الحسين بن واقد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم " وددت لو ان عندنا خبزة بيضاء من برة سمراء ملبقة بسمن ناكلها " . قال فسمع بذلك رجل من الانصار فاتخذه فجاء به اليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في اى شىء كان هذا السمن " . قال في عكة ضب . قال فابى ان ياكله
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ اٹھو، چلو ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے، اور فرمایا: جو تم نے پکایا ہے، لاؤ ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ تو سہی ، پھر فرمایا: اے انس! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا، سب نے سیر ہو کر کھایا، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن، حدثنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال صنعت ام سليم للنبي صلى الله عليه وسلم خبزة وضعت فيها شييا من سمن ثم قالت اذهب الى النبي صلى الله عليه وسلم فادعه قال فاتيته فقلت امي تدعوك . قال فقام وقال لمن كان عنده من الناس " قوموا " . قال فسبقتهم اليها فاخبرتها فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال " هاتي ما صنعت " . فقالت انما صنعته لك وحدك . فقال " هاتيه " . فقال " يا انس ادخل على عشرة عشرة " . قال فما زلت ادخل عليه عشرة عشرة فاكلوا حتى شبعوا وكانوا ثمانين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا مروان بن معاوية، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، انه قال والذي نفسي بيده ما شبع نبي الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة ايام تباعا من خبز الحنطة حتى توفاه الله عز وجل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے وہ مدینہ آئے ہیں، کبھی بھی تین دن مسلسل گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زايدة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ما شبع ال محمد صلى الله عليه وسلم منذ قدموا المدينة ثلاث ليال تباعا من خبز بر حتى توفي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے، پھر میں نے انہیں تولا تو وہ ختم ہو گئے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لقد توفي النبي صلى الله عليه وسلم وما في بيتي من شىء ياكله ذو كبد الا شطر شعير في رف لي فاكلت منه حتى طال على فكلته ففني
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال نے کبھی بھی جو کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمعت عبد الرحمن بن يزيد، يحدث عن الاسود، عن عايشة، قالت ما شبع ال محمد صلى الله عليه وسلم من خبز الشعير حتى قبض
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا ثابت بن يزيد، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبيت الليالي المتتابعة طاويا واهله لا يجدون العشاء وكان عامة خبزهم خبز الشعير
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، - وكان يعد من الابدال - حدثنا بقية، حدثنا يوسف بن ابي كثير، عن نوح بن ذكوان، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال لبس رسول الله صلى الله عليه وسلم الصوف واحتذى المخصوف . وقال اكل رسول الله صلى الله عليه وسلم بشعا ولبس خشنا . فقيل للحسن ما البشع قال غليظ الشعير ما كان يسيغه الا بجرعة ماء
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عبد الملك الحمصي، حدثنا محمد بن حرب، حدثتني امي، عن امها، انها سمعت المقدام بن معديكرب، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما ملا ادمي وعاء شرا من بطن حسب الادمي لقيمات يقمن صلبه فان غلبت الادمي نفسه فثلث للطعام وثلث للشراب وثلث للنفس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ڈکار لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ڈکار کو ہم سے روکو، اس لیے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله ابو يحيى، عن يحيى البكاء، عن ابن عمر، قال تجشا رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كف جشاءك عنا فان اطولكم جوعا يوم القيامة اكثركم شبعا في دار الدنيا