Loading...

Loading...
کتب
۱۲۰ احادیث
عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا ۔
حدثنا داود بن سليمان العسكري، قال حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سعيد بن محمد الثقفي، عن موسى الجهني، عن زيد بن وهب، عن عطية بن عامر الجهني، قال سمعت سلمان، واكره، على طعام ياكله فقال حسبي اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اكثر الناس شبعا في الدنيا اطولهم جوعا يوم القيامة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسراف ہے کہ تم ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں رغبت اور خواہش ہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، وسويد بن سعيد، ويحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، قالوا حدثنا بقية بن الوليد، حدثنا يوسف بن ابي كثير، عن نوح بن ذكوان، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من السرف ان تاكل كل ما اشتهيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، آپ نے اسے اٹھایا، صاف کیا پھر اسے کھا لیا، اور فرمایا: عائشہ! احترام کے قابل چیز ( یعنی اللہ کے رزق کی ) عزت کرو، اس لیے کہ جب کبھی کسی قوم سے اللہ کا رزق پھر گیا، تو ان کی طرف واپس نہیں آیا ۔
حدثنا ابراهيم بن محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا وساج بن عقبة بن وساج، حدثنا الوليد بن محمد الموقري، حدثنا الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت دخل النبي صلى الله عليه وسلم البيت فراى كسرة ملقاة فاخذها فمسحها ثم اكلها وقال " يا عايشة اكرمي كريمك فانها ما نفرت عن قوم قط فعادت اليهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا هريم، عن ليث، عن كعب، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من الجوع فانه بيس الضجيع واعوذ بك من الخيانة فانها بيست البطانة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام کا کھانا مت ترک کرو اگرچہ اس کی مقدار ایک مشت کھجور ہو، اس لیے کہ شام کا کھانا نہ کھانے سے بڑھاپا آتا ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله الرقي، حدثنا ابراهيم بن عبد السلام بن عبد الله بن باباه المخزومي، حدثنا عبد الله بن ميمون، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تدعوا العشاء ولو بكف من تمر فان تركه يهرم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف تیزی سے جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں مہمان کثرت سے آتے ہیں ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا كثير بن سليم، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخير اسرع الى البيت الذي يغشى من الشفرة الى سنام البعير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف چلتی ہے اس سے بھی تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں ( مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے ) کھانا پینا ہوتا رہتا ہے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا المحاربي، حدثنا عبد الرحمن بن نهشل، عن الضحاك بن مزاحم، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخير اسرع الى البيت الذي يوكل فيه من الشفرة الى سنام البعير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ ( اسے رخصت کرتے وقت ) گھر کے دروازے تک نکل کر آئے ۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن، عن علي بن عروة، عن عبد الملك، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من السنة ان يخرج الرجل مع ضيفه الى باب الدار
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن هشام الدستوايي، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن علي، قال صنعت طعاما فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فراى في البيت تصاوير فرجع
سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آ گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الجزري، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا سعيد بن جمهان، حدثنا سفينة ابو عبد الرحمن، ان رجلا، اضاف علي بن ابي طالب فصنع له طعاما فقالت فاطمة لو دعونا النبي صلى الله عليه وسلم فاكل معنا . فدعوه فجاء فوضع يده على عضادتى الباب فراى قراما في ناحية البيت فرجع فقالت فاطمة لعلي الحق فقل له ما رجعك يا رسول الله قال " انه ليس لي ان ادخل بيتا مزوقا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی، عمر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کہا، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور ایک لقمہ لیا، پھر دوسرا لقمہ لیا، پھر کہا: مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آ جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھا لی، اور دوسری صدقہ کر دی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسے کھانے والا نہیں
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن الارحبي، حدثنا يونس بن ابي اليعفور، عن ابيه، عن ابن عمر، قال دخل عليه عمر وهو على مايدته فاوسع له عن صدر المجلس فقال بسم الله . ثم ضرب بيده فلقم لقمة ثم ثنى باخرى ثم قال اني لاجد طعم دسم ما هو بدسم اللحم . فقال عبد الله يا امير المومنين اني خرجت الى السوق اطلب السمين لاشتريه فوجدته غاليا فاشتريت بدرهم من المهزول وحملت عليه بدرهم سمنا فاردت ان يتردد عيالي عظما عظما . فقال عمر ما اجتمعا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قط الا اكل احدهما وتصدق بالاخر . قال عبد الله خذ يا امير المومنين فلن يجتمعا عندي الا فعلت ذلك . قال ما كنت لافعل
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا بڑھا لو، اور اس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کو بھجوا دو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا ابو عامر الخزاز، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا عملت مرقة فاكثر ماءها واغترف لجيرانك منها
معدان بن أبی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد الغطفاني، عن معدان بن ابي طلحة اليعمري، ان عمر بن الخطاب، قام يوم الجمعة خطيبا فحمد الله واثنى عليه ثم قال يا ايها الناس انكم تاكلون شجرتين لا اراهما الا خبيثتين هذا الثوم وهذا البصل ولقد كنت ارى الرجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوجد ريحه منه فيوخذ بيده حتى يخرج به الى البقيع فمن كان اكلهما لا بد فليمتهما طبخا
ام ایوب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کچھ سبزیاں ( پیاز اور لہسن ) پڑی تھیں، آپ نے اسے نہیں کھایا، اور فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں ( اس کی بو سے ) اپنے ساتھی ( جبرائیل علیہ السلام ) کو تکلیف پہنچاؤں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، عن ام ايوب، قالت صنعت للنبي صلى الله عليه وسلم طعاما فيه من بعض البقول فلم ياكل وقال " اني اكره ان اوذي صاحبي
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا ابو شريح، عن عبد الرحمن بن نمران الحجري، عن ابي الزبير، عن جابر، ان نفرا، اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فوجد منهم ريح الكراث فقال " الم اكن نهيتكم عن اكل هذه الشجرة ان الملايكة تتاذى مما يتاذى منه الانسان
دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: پیاز مت کھاؤ،، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا: کچی ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن عثمان بن نعيم، عن المغيرة بن نهيك، عن دخين الحجري، انه سمع عقبة بن عامر الجهني، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاصحابه " لا تاكلوا البصل " . ثم قال كلمة خفية " النيء
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے، اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے، اور جس کے بارے میں چپ رہے وہ معاف ( مباح ) ہے ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن موسى السدي، حدثنا سيف بن هارون، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان الفارسي، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السمن والجبن والفراء قال " الحلال ما احل الله في كتابه والحرام ما حرم الله في كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا عنه
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا، جب چند روز ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: خوشے کا کیا ہوا؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ( محبت و مزاح سے ) دغا باز رکھ دیا۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن عرق، عن ابيه، عن النعمان بن بشير، قال اهدي للنبي صلى الله عليه وسلم عنب من الطايف فدعاني فقال " خذ هذا العنقود فابلغه امك " . فاكلته قبل ان ابلغه اياها فلما كان بعد ليال قال لي " ما فعل العنقود هل ابلغته امك " . قلت لا . قال فسماني غدر
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے ہاتھ میں بہی ( سفرجل ) ۱؎ تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: طلحہ! اسے لے لو، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن محمد الطلحي، حدثنا نقيب بن حاجب، عن ابي سعيد، عن عبد الملك الزبيري، عن طلحة، قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وبيده سفرجلة فقال " دونكها يا طلحة فانها تجم الفواد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا جعفر بن برقان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ياكل الرجل وهو منبطح على وجهه