Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا لعان ہلال بن امیہ کا اس طرح ہوا کہ انہوں نے شریک بن سمحاء پر اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو اس بات کی خبر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”چار گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہو گی ( کوڑے پڑیں گے ) “ آپ نے یہ بات بارہا کہی، ہلال نے آپ سے کہا: قسم اللہ کی، اللہ کے رسول! اللہ عزوجل بخوبی جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور ( مجھے یقین ہے ) اللہ بزرگ و برتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسا حکم ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو کوڑے کھانے سے بچا دے گا، ہم سب یہی باتیں آپس میں کر ہی رہے تھے کہ آپ پر لعان کی آیت: «والذين يرمون أزواجهم» ۔ آخر تک نازل ہوئی ۱؎ آیت نازل ہونے کے بعد آپ نے ہلال کو بلایا، انہوں نے اللہ کا نام لے کر ( یعنی قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہیں اور پانچویں بار انہوں نے کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹے لوگوں میں سے ہوں، پھر عورت بلائی گئی اور اس نے بھی چار بار اللہ کا نام لے کر ( قسم کھا کر ) چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے ( راوی کو شک ہو گیا ) چوتھی بار یا پانچویں بار قسم کھانے کا جب موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( ذرا ) اسے روکے رکھو ( آخری قسم کھانے سے پہلے اسے خوب سوچ سمجھ لینے دو ہو سکتا ہے وہ سچائی کا اعتراف کر لے ) کیونکہ یہ گواہی ( اللہ کی لعنت و غضب کو ) واجب و لازم کر دے گی“، وہ رکی اور ہچکائی تو ہم نے شک کیا ( سمجھا ) کہ ( شاید ) وہ اعتراف گناہ کر لے گی، مگر وہ بولی: میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے شرمندہ، رسوا و ذلیل نہیں کر سکتی، یہ کہہ کر ( آخری ) قسم بھی کھا گئی۔ ( اس کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھتے رہو اگر وہ سفید ( گورا ) لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو کہ ) وہ ہلال بن امیہ کا لڑکا ہے اور اگر وہ بچہ گندم گوں، پیچیدہ الجھے ہوئے بالوں والا، میانہ قد کا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے“۔ تو اس عورت نے گندمی رنگ کا گھونگھریالے بالوں والا، درمیانی سائز کا، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا، ( اس کے جننے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس معاملے میں اللہ کا فیصلہ نہ آ چکا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ( یعنی میں اس پر حد قائم کر کے رہتا ) “۔ واللہ اعلم
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا مخلد بن حسين الازدي، قال حدثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن انس بن مالك، قال ان اول لعان كان في الاسلام ان هلال بن امية قذف شريك ابن السحماء بامراته فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بذلك فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اربعة شهداء والا فحد في ظهرك " . يردد ذلك عليه مرارا فقال له هلال والله يا رسول الله ان الله عز وجل ليعلم اني صادق ولينزلن الله عز وجل عليك ما يبري ظهري من الجلد . فبينما هم كذلك اذ نزلت عليه اية اللعان { والذين يرمون ازواجهم } الى اخر الاية فدعا هلالا فشهد اربع شهادات بالله انه لمن الصادقين والخامسة ان لعنة الله عليه ان كان من الكاذبين ثم دعيت المراة فشهدت اربع شهادات بالله انه لمن الكاذبين فلما ان كان في الرابعة او الخامسة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وقفوها فانها موجبة " . فتلكات حتى ما شككنا انها ستعترف ثم قالت لا افضح قومي ساير اليوم . فمضت على اليمين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انظروها فان جاءت به ابيض سبطا قضيء العينين فهو لهلال بن امية وان جاءت به ادم جعدا ربعا حمش الساقين فهو لشريك ابن السحماء " . فجاءت به ادم جعدا ربعا حمش الساقين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ما سبق فيها من كتاب الله لكان لي ولها شان " . قال الشيخ والقضيء طويل شعر العينين ليس بمفتوح العين ولا جاحظهما والله سبحانه وتعالى اعلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کا ذکر آیا، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کہی پھر وہ چلے گئے تو ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص شکایت لے کر آیا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ پایا ہے، یہ بات سن کر عاصم رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں اپنی بات کی وجہ سے اس آزمائش میں ڈال دیا گیا ۱؎ تو وہ اس آدمی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اس نے آپ کو اس آدمی کے متعلق خبر دی جس کے ساتھ اپنی بیوی کو ملوث پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، کم گوشت والا ( چھریرا بدن ) سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کو اپنی بیوی کے پاس پانے کا مجرم قرار دیا تھا وہ شخص گندمی رنگ، بھری پنڈلیوں والا، زیادہ گوشت والا ( موٹا بدن ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللہم بین» اے اللہ معاملہ کو واضح کر دے“، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہہ بچہ جنا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا حکم دیا۔ اس مجلس کے ایک آدمی نے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی کہا: ( ابن عباس! ) کیا یہ عورت وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کر دیتا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، یہ عورت وہ عورت نہیں ہے۔ وہ عورت وہ تھی جو اسلام میں شر پھیلاتی تھی ۲؎۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال انبانا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم بن محمد، عن ابن عباس، انه قال ذكر التلاعن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عاصم بن عدي في ذلك قولا ثم انصرف فاتاه رجل من قومه يشكو اليه انه وجد مع امراته رجلا قال عاصم ما ابتليت بهذا الا بقولي فذهب به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بالذي وجد عليه امراته وكان ذلك الرجل مصفرا قليل اللحم سبط الشعر وكان الذي ادعى عليه انه وجده عند اهله ادم خدلا كثير اللحم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بين " . فوضعت شبيها بالرجل الذي ذكر زوجها انه وجده عندها فلاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما . فقال رجل لابن عباس في المجلس اهي التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو رجمت احدا بغير بينة رجمت هذه " . قال ابن عباس لا تلك امراة كانت تظهر في الاسلام الشر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کی بات آئی تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں کوئی بات کہی پھر واپس چلے گئے، ان کی قوم کا ایک آدمی ان کے پاس پہنچا اور اس نے انہیں بتایا کہ اس نے ایک شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ ( زنا کرتا ہوا ) پایا ہے تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے، اس نے آپ کو اس شخص سے باخبر کیا جس کے ساتھ اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ آدمی ( یعنی شوہر ) زردی مائل، دبلا، سیدھے بالوں والا تھا اور وہ شخص جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی کے پاس پایا ہے گندمی رنگ، بھری ہوئی پنڈلیوں والا، فربہ، گھونگھریالے چھوٹے بالوں والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ” «اللھم بیّن» اے اللہ تو اسے واضح کر دے“ پھر اس نے بچہ جنا، وہ بچہ بالکل اسی طرح تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اس نے اسے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا، ایک آدمی نے جو ( اس وقت ) مجلس میں موجود تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا یہ وہی عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے رجم کرتا تو اس عورت کو کر دیتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں، یہ عورت تو اسلام میں رہتے ہوئے شر پھیلاتی تھی ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن محمد بن السكن، قال حدثنا محمد بن جهضم، عن اسماعيل بن جعفر، عن يحيى، قال سمعت عبد الرحمن بن القاسم، يحدث عن ابيه، عن عبد الله بن عباس، انه قال ذكر التلاعن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عاصم بن عدي في ذلك قولا ثم انصرف فلقيه رجل من قومه فذكر انه وجد مع امراته رجلا فذهب به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بالذي وجد عليه امراته وكان ذلك الرجل مصفرا قليل اللحم سبط الشعر وكان الذي ادعى عليه انه وجد عند اهله ادم خدلا كثير اللحم جعدا قططا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بين " . فوضعت شبيها بالذي ذكر زوجها انه وجده عندها فلاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما فقال رجل لابن عباس في المجلس اهي التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو رجمت احدا بغير بينة رجمت هذه " . قال ابن عباس لا تلك امراة كانت تظهر الشر في الاسلام
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو ( یہ بھی ) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی“ ۲؎۔
اخبرنا علي بن ميمون، قال حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر رجلا حين امر المتلاعنين ان يتلاعنا ان يضع يده عند الخامسة على فيه وقال " انها موجبة
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی امارت کے زمانہ میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ جب وہ دونوں لعان کر چکیں گے تو ) کیا ان دونوں کے درمیان تفریق ( جدائی ) کر دی جائے گی؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر چلا گیا، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، سبحان اللہ، پاک و برتر ہے ذات اللہ کی۔ سب سے پہلے اس بارے میں فلاں ابن فلاں نے مسئلہ پوچھا تھا ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا نام نہیں لیا ) اس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! ( «ارأیت» عمرو بن علی جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں انہوں نے اپنی روایت میں «ارأیت» کا لفظ نہیں استعمال کیا ہے ) ، آپ بتائیے ہم میں سے کوئی شخص کسی شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ بدکاری کرتے ہوئے دیکھے ( تو کیا کرے؟ ) اگر وہ زبان کھولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے ۱؎ اور اگر وہ چپ رہتا ہے تو بھی وہ ایسی بڑی اور بری بات پر چپ رہتا ہے ( جو ناقابل برداشت ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ( اس روایت میں ـ «فأمر عظیم» کے الفاظ آئے ہیں، یہ اس روایت کے ایک راوی محمد بن مثنیٰ کے الفاظ ہیں، اس روایت کے دوسرے راوی عمرو بن علی نے اس کے بجائے «اتی امراً عظیماً» کے الفاظ استعمال کیے ہیں ) ۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش آ گیا تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جس بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ پوچھا تھا میں خود ہی اس سے دوچار ہو گیا، ( اس وقت ) اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت: «والذين يرمون أزواجهم» سے لے کر «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن كان من الصادقين» تک نازل فرمائیں، ( اس کارروائی کا ) آغاز آپ نے مرد کو وعظ و نصیحت سے کیا، آپ نے اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا، آسان اور کم تر ہے۔ اس شخص نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے عورت کو بھی خطاب کیا، آپ نے اسے بھی وعظ و نصیحت کی، ڈرایا اور آخرت کے سخت عذاب کا خوف دلایا۔ اس نے بھی کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ شخص جھوٹا ہے۔ ( اس وعظ و نصیحت کے بعد لعان کی کارروائی روبہ عمل آئی ) تو آپ نے ( یہ کارروائی ) مرد سے شروع کی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ سچے لوگوں میں سے ہے اور پانچویں بار اس نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے عورت سے گواہی لینی شروع کی، اس نے بھی اللہ کا نام لے کر چار گواہیاں دیں کہ وہ ( شوہر ) جھوٹوں میں سے ہے اور اس نے پانچویں بار کہا: اس پر ( یعنی مجھ پر ) اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ ( شوہر ) سچوں میں سے ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۲؎۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کی ( لعان کے بعد انہیں ایک ساتھ رہنے دیا ) ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، - واللفظ له - قالا حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن جبير، قال لم يفرق المصعب بين المتلاعنين . قال سعيد فذكرت ذلك لابن عمر فقال فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا ( تو کیا کرے ) ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے“، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے ( توبہ کرنے سے ) انکار کیا تو آپ نے ان دونوں کے مابین جدائی کر دی۔ ( ایوب کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی بات ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بیان کرو گے؟ کہتے ہیں: اس شخص نے کہا: میرے مال کا کیا ہو گا ( ملے گا یا نہیں ) ؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ تو اپنی بات میں سچا ہو پھر بھی تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا کیونکہ تو اس کے ساتھ دخول کر چکا ہے اور اگر اپنی بات میں تو جھوٹا ہے تو تیری جانب مال کا واپس ہونا بعید ترشئی ہے“ ۱؎۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عمر رجل قذف امراته . قال فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب فهل منكما تايب " . قال لهما ثلاثا فابيا ففرق بينهما . قال ايوب وقال عمرو بن دينار ان في هذا الحديث شييا لا اراك تحدث به قال قال الرجل مالي قال " لا مال لك ان كنت صادقا فقد دخلت بها وان كنت كاذبا فهي ابعد منك
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، ( مرد سے کہا: ) تمہارا اب اس ( عورت ) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ۱؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہو گیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے“ ۲؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، قال سمعت سعيد بن جبير، يقول سالت ابن عمر عن المتلاعنين، فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمتلاعنين " حسابكما على الله احدكما كاذب ولا سبيل لك عليها " . قال يا رسول الله مالي قال " لا مال لك ان كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وان كنت كذبت عليها فذاك ابعد لك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کا حکم دیا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور بچے کو ماں کی سپردگی میں دے دیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال لاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بين رجل وامراته وفرق بينهما والحق الولد بالام
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کس رنگ کے ہیں؟“، اس نے کہا لال رنگ ( کے ہیں ) ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟“ اس نے کہا: ( جی ہاں ) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہی بات یہاں بھی سمجھو ) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو“ ۲؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رجلا، من بني فزارة اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي ولدت غلاما اسود . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل لك من ابل " . قال نعم . قال " فما الوانها " . قال حمر . قال " فهل فيها من اورق " . قال ان فيها لورقا . قال " فانى ترى اتى ذلك " . قال عسى ان يكون نزعه عرق . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وهذا عسى ان يكون نزعه عرق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟“ اس نے کہا ( جی ہاں ) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟“ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: ” ( یہ بھی ایسا ہی سمجھ ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال جاء رجل من بني فزارة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي ولدت غلاما اسود . وهو يريد الانتفاء منه . فقال " هل لك من ابل " . قال نعم . قال " ما الوانها " . قال حمر . قال " هل فيها من اورق " . قال فيها ذود ورق . قال " فما ذاك ترى " . قال لعله ان يكون نزعها عرق . قال " فلعل هذا ان يكون نزعه عرق " . قال فلم يرخص له في الانتفاء منه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟“، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟“، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟“، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو ( یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو“۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا ابو حيوة، - حمصي - قال حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قام رجل فقال يا رسول الله اني ولد لي غلام اسود . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانى كان ذلك " . قال ما ادري قال " فهل لك من ابل " . قال نعم . قال " فما الوانها " . قال حمر . قال " فهل فيها جمل اورق " . قال فيها ابل ورق . قال " فانى كان ذلك " . قال ما ادري يا رسول الله الا ان يكون نزعه عرق . قال " وهذا لعله نزعه عرق " . فمن اجله قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا لا يجوز لرجل ان ينتفي من ولد ولد على فراشه الا ان يزعم انه راى فاحشة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت کسی قوم ( خاندان و قبیلے ) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم ( خاندان و قبیلے ) کا نہ ہو ( یعنی زنا و بدکاری کرے ) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور ( ایسے ہی ) جو شخص اپنے بیٹے کا ( کسی بھی سبب سے ) انکار کر دے اور دیکھ رہا ( اور سمجھ بوجھ رہا ) ہو ( کہ وہ بیٹا اسی کا ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، قال شعيب قال حدثنا الليث، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن يونس، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول حين نزلت اية الملاعنة " ايما امراة ادخلت على قوم رجلا ليس منهم فليست من الله في شىء ولا يدخلها الله جنته وايما رجل جحد ولده وهو ينظر اليه احتجب الله عز وجل منه وفضحه على رءوس الاولين والاخرين يوم القيامة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے ( یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا ) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الولد للفراش وللعاهر الحجر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے ( یعنی شوہر ) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ( یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا ) “۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، عن عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الولد للفراش وللعاهر الحجر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے سلسلہ میں ٹکراؤ اور جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ ان کا بیٹا ہے ( میں اسے حاصل کر لوں ) ، آپ اس کی ان سے مشابہت دیکھئیے ( کتنی زیادہ ہے ) ، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت پر نظر ڈالی تو اسے صاف اور واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبد ( عبد بن زمعہ ) وہ بچہ تمہارے لیے ہے ( قانونی طور پر تم اس کے بھائی و سر پرست ہو ) ، بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے تحت بچے کی ماں ہوتی ہے، اور زنا کار کی قسمت و حصے میں پتھر ہے۔ اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو ۱؎، تو اس نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا ( وہ خود ان کے سامنے کبھی نہیں آیا ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت اختصم سعد بن ابي وقاص وعبد بن زمعة في غلام فقال سعد هذا يا رسول الله ابن اخي عتبة بن ابي وقاص عهد الى انه ابنه انظر الى شبهه . وقال عبد بن زمعة اخي ولد على فراش ابي من وليدته . فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى شبهه فراى شبها بينا بعتبة فقال " هو لك يا عبد الولد للفراش وللعاهر الحجر واحتجبي منه يا سودة بنت زمعة " . فلم ير سودة قط
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ صحبت کرتا تھا اور اس کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اس سے بدکاری کیا کرتا ہے۔ چنانچہ اس لونڈی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ اس شخص کی صورت کے مشابہ تھا جس کے بارے میں زمعہ کا گمان تھا کہ وہ اس کی لونڈی سے بدکاری کرتا ہے، وہ لونڈی حاملہ تھی جب ہی زمعہ کا انتقال ہو گیا، اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین سودہ ( سودہ بنت زمعہ ) رضی اللہ عنہا نے کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ فراش والے کا ہے ۱؎ اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ ( فی الواقع ) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن يوسف بن الزبير، - مولى لهم - عن عبد الله بن الزبير، قال كانت لزمعة جارية يطوها هو وكان يظن باخر يقع عليها فجاءت بولد شبه الذي كان يظن به فمات زمعة وهي حبلى فذكرت ذلك سودة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش واحتجبي منه يا سودة فليس لك باخ
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکا فراش والے کا ہے ۱؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے“ ۲؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن مغيرة، عن ابي وايل، عن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الولد للفراش وللعاهر الحجر " . قال ابو عبد الرحمن ولا احسب هذا عن عبد الله بن مسعود والله تعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا ( کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو ( اور اسے حاصل کر لو ) وہ میرا بیٹا ہے۔ چنانچہ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر ( یعنی اس کی ملکیت میں ) پیدا ہوا ہے ( اس لیے وہ میرا بھائی ہے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو ( اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے ) اور اے سودہ ( اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن ) تم اس سے پردہ کرو ( کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے ) “۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت اختصم سعد بن ابي وقاص وعبد بن زمعة في ابن زمعة قال سعد اوصاني اخي عتبة اذا قدمت مكة فانظر ابن وليدة زمعة فهو ابني . فقال عبد بن زمعة هو ابن امة ابي ولد على فراش ابي . فراى رسول الله صلى الله عليه وسلم شبها بينا بعتبة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش واحتجبي منه يا سودة
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر ( پاکی ) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا ( جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے ) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کر دیا ( اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا ) ۱؎ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ۲؎۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا الثوري، عن صالح الهمداني، عن الشعبي، عن عبد خير، عن زيد بن ارقم، قال اتي علي رضى الله عنه بثلاثة وهو باليمن وقعوا على امراة في طهر واحد فسال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . ثم سال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . فاقرع بينهم فالحق الولد بالذي صارت عليه القرعة وجعل عليه ثلثى الدية فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك حتى بدت نواجذه
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، قال سمعت سعيد بن جبير، يقول سيلت عن المتلاعنين، في امارة ابن الزبير ايفرق بينهما فما دريت ما اقول فقمت من مقامي الى منزل ابن عمر فقلت يا ابا عبد الرحمن المتلاعنين ايفرق بينهما قال نعم . سبحان الله ان اول من سال عن ذلك فلان بن فلان فقال يا رسول الله ارايت - ولم يقل عمرو ارايت - الرجل منا يرى على امراته فاحشة ان تكلم فامر عظيم - وقال عمرو اتى امرا عظيما - وان سكت سكت على مثل ذلك . فلم يجبه فلما كان بعد ذلك اتاه فقال ان الامر الذي سالتك ابتليت به فانزل الله عز وجل هولاء الايات في سورة النور { والذين يرمون ازواجهم } حتى بلغ { والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين } فبدا بالرجل فوعظه وذكره واخبره ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة فقال والذي بعثك بالحق ما كذبت . ثم ثنى بالمراة فوعظها وذكرها فقالت والذي بعثك بالحق انه لكاذب فبدا بالرجل فشهد اربع شهادات بالله انه لمن الصادقين والخامسة ان لعنة الله عليه ان كان من الكاذبين ثم ثنى بالمراة فشهدت اربع شهادات بالله انه لمن الكاذبين والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ففرق بينهما