Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں یمن سے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو وہاں کی باتیں بتانے اور آپ سے باتیں کرنے لگا، ان دنوں علی رضی اللہ عنہ یمن ہی میں تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! تین اشخاص ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا اور آگے وہی حدیث بیان کی جو گزر چکی ہے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا علي بن مسهر، عن الاجلح، عن الشعبي، قال اخبرني عبد الله بن ابي الخليل الحضرمي، عن زيد بن ارقم، قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه رجل من اليمن فجعل يخبره ويحدثه وعلي بها فقال يا رسول الله اتى عليا ثلاثة نفر يختصمون في ولد وقعوا على امراة في طهر . وساق الحديث
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور علی رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے ( کہ یہ بیٹا ہمارا ہے ) علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے ( دوسرے سے ) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کر دیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہو گا ( جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا ) یہ قصہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ( اور ایسے زور سے ہنسے ) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن الاجلح، عن الشعبي، عن عبد الله بن ابي الخليل، عن زيد بن ارقم، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم وعلي رضى الله عنه يوميذ باليمن فاتاه رجل فقال شهدت عليا اتي في ثلاثة نفر ادعوا ولد امراة فقال علي لاحدهم تدعه لهذا . فابى وقال لهذا تدعه لهذا . فابى وقال لهذا تدعه لهذا . فابى قال علي رضى الله عنه انتم شركاء متشاكسون وساقرع بينكم فايكم اصابته القرعة فهو له وعليه ثلثا الدية . فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کر دی ( جو پہلے گزر چکی ہے ) نسائی کہتے ہیں: «خالفہم سلمۃ بن کہیل» سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔
اخبرنا اسحاق بن شاهين، قال حدثنا خالد، عن الشيباني، عن الشعبي، عن رجل، من حضرموت عن زيد بن ارقم، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا على اليمن فاتي بغلام تنازع فيه ثلاثة . وساق الحديث . خالفهم سلمة بن كهيل
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو ابوالخیل سے یا ابن ابی الخیل سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی ( ایک عورت سے ) ایک ہی طہر میں ( جماع کرنے میں ) شریک ہوئے۔ انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا ( جیسا کہ اوپر بیان ہوئی ) لیکن زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، واللہ أعلم۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سلمة بن كهيل، قال سمعت الشعبي، يحدث عن ابي الخليل، او ابن ابي الخليل ان ثلاثة، نفر اشتركوا في طهر فذكر نحوه ولم يذكر زيد بن ارقم ولم يرفعه . قال ابو عبد الرحمن هذا صواب والله سبحانه وتعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ارے تمہیں نہیں معلوم؟ مجزز ( قیافہ شناس ہے ) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا: ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على مسرورا تبرق اسارير وجهه فقال " الم ترى ان مجززا نظر الى زيد بن حارثة واسامة فقال ان بعض هذه الاقدام لمن بعض
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے اور کہا: عائشہ! ارے تم نے نہیں دیکھا مجزز مدلجی ( قیافہ شناس ) میرے پاس آیا اور ( اس وقت ) میرے پاس اسامہ بن زید تھے، اس نے اسامہ بن زید اور ( ان کے والد ) زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا، ان کے اوپر ایک چھوردار چادر پڑی ہوئی تھی جس سے وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر دکھائی پڑ رہے تھے، اس نے ان کے پیر دیکھ کر کہا: یہ وہ پیر ہیں جن کا بعض بعض سے ہے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم مسرورا فقال " يا عايشة الم ترى ان مجززا المدلجي دخل على وعندي اسامة بن زيد فراى اسامة بن زيد وزيدا وعليهما قطيفة وقد غطيا رءوسهما وبدت اقدامهما فقال هذه اقدام بعضها من بعض
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا ( ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا ) اور ساتھ ہی کہا ( یعنی دعا کی ) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا سفيان، عن عثمان البتي، عن عبد الحميد بن سلمة الانصاري، عن ابيه، عن جده، انه اسلم وابت امراته ان تسلم فجاء ابن لهما صغير لم يبلغ الحلم فاجلس النبي صلى الله عليه وسلم الاب ها هنا والام ها هنا ثم خيره فقال " اللهم اهده " . فذهب الى ابيه
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا: ) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، قال اخبرني زياد، عن هلال بن اسامة، عن ابي ميمونة، قال بينا انا عند ابي هريرة، فقال ان امراة جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت فداك ابي وامي ان زوجي يريد ان يذهب بابني وقد نفعني وسقاني من بير ابي عنبة . فجاء زوجها وقال من يخاصمني في ابني فقال " يا غلام هذا ابوك وهذه امك فخذ بيد ايهما شيت " . فاخذ بيد امه فانطلقت به
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ( ایسی مار ماری کہ ) اس کا ہاتھ ( ہی ) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا ( جب وہ آئے تو ) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی عورت جمیلہ کو ) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔
اخبرنا ابو علي، محمد بن يحيى المروزي قال اخبرني شاذان بن عثمان، اخو عبدان قال حدثنا ابي قال، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، قال اخبرني محمد بن عبد الرحمن، ان الربيع بنت معوذ ابن عفراء، اخبرته ان ثابت بن قيس بن شماس ضرب امراته فكسر يدها وهي جميلة بنت عبد الله بن ابى فاتى اخوها يشتكيه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ثابت فقال له " خذ الذي لها عليك وخل سبيلها " . قال نعم . فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتربص حيضة واحدة فتلحق باهلها
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ ( حدیث ) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں ( یعنی طہر سے فراغت کے بعد ) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن ربيع بنت معوذ، قال قلت لها حدثيني حديثك، . قالت اختلعت من زوجي ثم جيت عثمان فسالته ماذا على من العدة فقال لا عدة عليك الا ان تكوني حديثة عهد به فتمكثي حتى تحيضي حيضة - قال - وانا متبع في ذلك قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم في مريم المغالية كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس فاختلعت منه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ۔ ( سورۃ البقرہ کی ) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں“۔ ( البقرہ: ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے“۔ ( النحل: ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے“۔ ( الرعد: ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ( اور یہ جو سورۃ البقرہ کی ) آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۲۸ ) اور ( سورۃ الطلاق کی ) آیت: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے“۔ ( الطلاق: ۴ ) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے ( ان کا عموم ) منسوخ ہو گیا ( سورۃ الاحزاب کی اس ) آیت: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے ”اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ ( الاحزاب: ۴۹ ) ۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا علي بن الحسين بن واقد، قال حدثني ابي قال، انبانا يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قوله { ما ننسخ من اية او ننسها نات بخير منها او مثلها } وقال { واذا بدلنا اية مكان اية والله اعلم بما ينزل } الاية وقال { يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتاب } فاول ما نسخ من القران القبلة وقال { والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء } وقال { واللايي ييسن من المحيض من نسايكم ان ارتبتم فعدتهن ثلاثة اشهر } فنسخ من ذلك قال تعالى { وان طلقتموهن من قبل ان تمسوهن } { فما لكم عليهن من عدة تعتدونها}
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن شعبة، قال حدثني حميد بن نافع، عن زينب بنت ام سلمة، قالت ام حبيبة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاثة ايام الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ ( و کاجل ) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہاری ہر عورت ( اپنے شوہر کے سوگ میں ) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا ( اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح ) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں ( سال پورا ہونے پر ) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ام سلمة، قلت عن امها، قال نعم ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن امراة توفي عنها زوجها فخافوا على عينها اتكتحل فقال " قد كانت احداكن تمكث في بيتها في شر احلاسها حولا ثم خرجت فلا اربعة اشهر وعشرا
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔
اخبرني اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن يحيى بن سعيد بن قيس بن قهد الانصاري، - وجده قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم - عن حميد بن نافع عن زينب بنت ام سلمة عن ام سلمة وام حبيبة قالتا جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابنتي توفي عنها زوجها واني اخاف على عينها افاكحلها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد كانت احداكن تجلس حولا وانما هي اربعة اشهر وعشرا فاذا كان الحول خرجت ورمت وراءها ببعرة
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت نافعا، يقول عن صفية بنت ابي عبيد، انها سمعت حفصة بنت عمر، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث الا على زوج فانها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا
بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
اخبرنا عبد الله بن الصباح، قال حدثنا محمد بن سواء، قال انبانا سعيد، عن ايوب، عن نافع، عن صفية بنت ابي عبيد، عن بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم وعن ام سلمة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت اكثر من ثلاثة ايام الا على زوج فانها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا
صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا السهمي، - يعني عبد الله بن بكر - قال حدثنا سعيد، عن ايوب، عن نافع، عن صفية بنت ابي عبيد، عن بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم وهي ام سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کر لی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ لمحمد - قالا انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن المسور بن مخرمة، ان سبيعة الاسلمية، نفست بعد وفاة زوجها بليال فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستاذنت ان تنكح فاذن لها فنكحت
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نفاس سے فراغت کے بعد شادی کرنے کا حکم دیا۔
اخبرنا نصر بن علي بن نصر، عن عبد الله بن داود، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن المسور بن مخرمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر سبيعة ان تنكح اذا تعلت من نفاسها
ابوسنابل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو مرے ہوئے ۲۳ یا ۲۵ راتیں گزریں تھیں کہ اس نے بچہ جنا پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئی تو اس نے ( نئی ) شادی کی تیاری کی اور اس کے لیے زیب و زینت سے مزین ہوئی تو اس کے لیے ایسا کرنا غیر مناسب سمجھا ( اور ناپسند کیا ) گیا اور اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جب اس کی عدت پوری ہو چکی ہے تو اب اس کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟“ ۱؎۔
اخبرني محمد بن قدامة، قال اخبرني جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن ابي السنابل، قال وضعت سبيعة حملها بعد وفاة زوجها بثلاثة وعشرين او خمسة وعشرين ليلة فلما تعلت تشوفت للازواج فعيب ذلك عليها فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما يمنعها قد انقضى اجلها