Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم میں اس عورت کی عدت کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور اس نے بچہ جن دیا ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ( وضع حمل کے بعد نفاس سے فارغ ہو کر ) وہ شادی کر سکتی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں ( یعنی وضع حمل اور عدت طلاق ) میں سے جس عدت کی مدت لمبی ہو گی اسے وہ عدت پوری کرنی ہو گی ( یعنی چار ماہ دس دن، اس کے بعد ہی وہ شادی کر سکے گی ) آخر کار ان لوگوں نے کسی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا سبیعہ رضی اللہ عنہا کے شوہر انتقال کر گئے اور ان کے انتقال کے پندرہ دن بعد اس نے بچہ جنا۔ پھر اسے دو آدمیوں نے شادی کا پیغام دیا، جن میں سے ایک کی طرف وہ مائل ہو گئی ( اور اس کا بھی خیال اس سے شادی کر ڈالنے کا ہو گیا ) تو جب ( دوسرا شادی کا خواہشمند اور اس کے ساتھی ) لوگ ڈرے کہ یہ تو ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو انہوں نے ( شادی روکنے اور رکاوٹ ڈالنے کی خاطر ) کہا: ابھی تو تم حلال ہی نہیں ہوئی ہو ( تمہاری عدت پوری نہیں ہوئی ہے تم شادی رچانے کیسے جا رہی ہو ) وہ کہتی ہیں ( جب ان لوگوں نے یہ بات کہی ) تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم حلال ہو گئی ہو تو جس سے بھی چاہو اس سے نکاح کر سکتی ہو“۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد ربه بن سعيد، قال سمعت ابا سلمة، يقول اختلف ابو هريرة وابن عباس في المتوفى عنها زوجها اذا وضعت حملها قال ابو هريرة تزوج . وقال ابن عباس ابعد الاجلين . فبعثوا الى ام سلمة فقالت توفي زوج سبيعة فولدت بعد وفاة زوجها بخمسة عشر نصف شهر - قالت - فخطبها رجلان فحطت بنفسها الى احدهما فلما خشوا ان تفتات بنفسها قالوا انك لا تحلين . قالت فانطلقت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " قد حللت فانكحي من شيت
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت ( کی عدت ) کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو اور وہ ( انتقال کے وقت ) حاملہ رہی ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جو آخر میں ہو یعنی لمبی ہو اور دوسری کے مقابل میں بعد میں پوری ہوتی ہو ۱؎، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت عورت بچہ جنے اسی وقت اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ ( یہ اختلاف سن کر ) ابوسلمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے پندرہ دن بعد بچہ جنا پھر دو آدمیوں نے اسے شادی کرنے کا پیغام دیا، ان دونوں میں سے ایک جوان تھا اور دوسرا ادھیڑ عمر کا، وہ جوان کی طرف مائل ہوئی اور اسے شادی کے لیے پسند کر لیا۔ ادھیڑ عمر والے نے اس سے کہا: تو تم ابھی حلال نہیں ہوئی ہو ( شادی کرنے کیسے جا رہی ہو ) ، اس کے گھر والے غیر موجود تھے ادھیڑ عمر والے نے امید لگائی ( کہ میرے ایسا کہنے سے شادی ابھی نہ ہو گی اور ) جب لڑکی کے گھر والے آ جائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کا اس کے ساتھ رشتہ کر دینے کو ترجیح دیں ( اور سبیعہ کو اس کے ساتھ شادی کر لینے پر راضی کر لیں ) ۔ لیکن وہ تو ( سیدھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ( بچہ جن کر ) حلال ہو چکی ہو، تمہارا دل جس سے چاہے اس سے شادی کر لو“ ۲؎۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ لمحمد - قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن عبد ربه بن سعيد، عن ابي سلمة، قال سيل ابن عباس وابو هريرة عن المتوفى، عنها زوجها وهي حامل قال ابن عباس اخر الاجلين . وقال ابو هريرة اذا ولدت فقد حلت . فدخل ابو سلمة الى ام سلمة فسالها عن ذلك، فقالت ولدت سبيعة الاسلمية بعد وفاة زوجها بنصف شهر فخطبها رجلان احدهما شاب والاخر كهل فحطت الى الشاب فقال الكهل لم تحلل . وكان اهلها غيبا فرجا اذا جاء اهلها ان يوثروه بها فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " قد حللت فانكحي من شيت
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حکم مطلقہ ( حاملہ ) کا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے ) اس گفتگو کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں ( ساری بات ) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل رضی اللہ عنہ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا حجاج، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال قيل لابن عباس في امراة وضعت بعد وفاة زوجها بعشرين ليلة ايصلح لها ان تزوج قال لا الا اخر الاجلين . قال قلت قال الله تبارك وتعالى { واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن } فقال انما ذلك في الطلاق . فقال ابو هريرة انا مع ابن اخي . يعني ابا سلمة . فارسل غلامه كريبا فقال ايت ام سلمة فسلها هل كان هذا سنة من رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فقال قالت نعم سبيعة الاسلمية وضعت بعد وفاة زوجها بعشرين ليلة فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تزوج فكان ابو السنابل فيمن يخطبها
سلیمان بن یسار سے روایت ہے، ابوہریرہ، ابن عباس (رضی الله عنہم) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کے بارے میں جس کا شوہر مر گیا ہو اور شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنا ہو آپس میں بات چیت کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو عدت بعد میں پوری ہو اس کا وہ لحاظ و شمار کرے گی، ابوسلمہ نے کہا: نہیں وہ وضع حمل کے ساتھ ہی ( دوسرے کے لیے ) حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ان کا ہم خیال ہوں ) ، پھر ان لوگوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تھوڑے ہی دنوں بعد بچہ جنا پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کا حکم دیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يحيى، عن سليمان بن يسار، ان ابا هريرة، وابن، عباس وابا سلمة بن عبد الرحمن تذاكروا عدة المتوفى عنها زوجها تضع عند وفاة زوجها فقال ابن عباس تعتد اخر الاجلين . وقال ابو سلمة بل تحل حين تضع . فقال ابو هريرة انا مع ابن اخي . فارسلوا الى ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت وضعت سبيعة الاسلمية بعد وفاة زوجها بيسير فاستفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها ان تتزوج
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دنوں بعد بچہ جنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی پسند کے شخص سے ) شادی کر لینے کا حکم دیا۔
اخبرنا عبد الاعلى بن واصل بن عبد الاعلى، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن سليمان بن يسار، عن كريب، عن ام سلمة، ومحمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن كريب، عن ام سلمة، قالت وضعت سبيعة بعد وفاة زوجها بايام فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تزوج
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان اس عورت ( کی عدت ) کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے چند ہی راتوں بعد بچہ جنے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس عدت کی مدت زیادہ ہو گی اس پر عمل کرے گی اور ابوسلمہ نے کہا: جب بچہ پیدا ہو جائے گا تو وہ حلال ہو جائے گی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ( وہاں ) پہنچ گئے ( اور باتوں میں شریک ہو گئے ) انہوں نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ساتھ ہوں ( یعنی میری بھی وہی رائے ہے جو ابوسلمہ کی ہے ) پھر ان سبھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کو ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا وہ پوچھ کر ان لوگوں کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ وہ کہتی ہیں کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چند راتوں بعد بچہ جنا پھر اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ نے فرمایا: ”تو حلال ہو چکی ہے ( جس سے بھی تو شادی کرنا چاہے کر سکتی ہے ) “۔
اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن القاسم، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن سليمان بن يسار، ان عبد الله بن عباس، وابا، سلمة بن عبد الرحمن اختلفا في المراة تنفس بعد وفاة زوجها بليال فقال عبد الله بن عباس اخر الاجلين . وقال ابو سلمة اذا نفست فقد حلت . فجاء ابو هريرة فقال انا مع ابن اخي . يعني ابا سلمة بن عبد الرحمن . فبعثوا كريبا مولى ابن عباس الى ام سلمة يسالها عن ذلك فجاءهم فاخبرهم انها قالت ولدت سبيعة بعد وفاة زوجها بليال فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " قد حللت
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ( سب ) ساتھ میں تھے، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب عورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جنے گی تو وہ عورت دونوں عدتوں میں سے وہ عدت گزارے گی جس کی مدت بعد میں ختم ہوتی ہو۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: ہم نے ام سلمہ ( ام المؤمنین ) رضی اللہ عنہا سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے ان کے پاس کریب کو بھیجا، وہ ہمارے پاس ان کے پاس سے یہ خبر لے کر آئے کہ سبیعہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا، ان کے انتقال چند دنوں بعد سبیعہ کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شادی کرنے کا حکم دیا۔
اخبرنا حسين بن منصور، قال حدثنا جعفر بن عون، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال اخبرني سليمان بن يسار، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال كنت انا وابن، عباس وابو هريرة فقال ابن عباس اذا وضعت المراة بعد وفاة زوجها فان عدتها اخر الاجلين . فقال ابو سلمة فبعثنا كريبا الى ام سلمة يسالها عن ذلك فجاءنا من عندها ان سبيعة توفي عنها زوجها فوضعت بعد وفاة زوجها بايام فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتزوج
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سن کر مجھے خبر دی کہ قبیلہ اسلم کی سبیعہ نامی ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی اور حاملہ تھی ( اسی دوران ) شوہر کا انتقال ہو گیا تو ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ نے اسے شادی کا پیغام دیا جسے اس نے ٹھکرا دیا، اس نے اس سے کہا: تیرے لیے درست نہیں ہے کہ دونوں عدتوں میں سے آخری مدت کی عدت پوری کئے بغیر شادی کرے۔ پھر وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ ( اس کے بعد ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ( اور آپ سے اسی بارے میں مسئلہ پوچھا اور صورت حال بتائی ) آپ نے فرمایا: ”تو ( جس سے چاہے ) نکاح کر لے“۔
اخبرنا عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد، قال حدثني ابي، عن جدي، قال حدثني جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان زينب بنت ابي سلمة، اخبرته عن امها ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان امراة من اسلم يقال لها سبيعة كانت تحت زوجها فتوفي عنها وهي حبلى فخطبها ابو السنابل بن بعكك فابت ان تنكحه فقال ما يصلح لك ان تنكحي حتى تعتدي اخر الاجلين . فمكثت قريبا من عشرين ليلة ثم نفست فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انكحي
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ۔ ( ایک روز ) میں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، اتنے میں ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی: وہ حمل سے تھی کہ اسی دوران اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اسے مرے ہوئے قریب چار مہینے ہوئے تھے کہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا ( اس کی عدت کیا ہو گی؟ ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: دونوں عدتوں میں سے جس کی مدت لمبی ہو گی وہی تمہاری عدت ہو گی، ( یہ سن کر ) ابوسلمہ نے کہا: مجھے ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ سبیعہ اسلمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: اس کا شوہر انتقال کر گیا، اس وقت وہ حاملہ تھی پھر اس نے قریب چار مہینے پر بچہ جنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کر لینے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں اس مسئلہ میں گواہ ہوں ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا ابن جريج، قال اخبرني داود بن ابي عاصم، ان ابا سلمة بن عبد الرحمن، اخبره قال بينما انا وابو هريرة عند ابن عباس اذ جاءته امراة فقالت توفي عنها زوجها وهي حامل فولدت لادنى من اربعة اشهر من يوم مات . فقال ابن عباس اخر الاجلين . فقال ابو سلمة اخبرني رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان سبيعة الاسلمية جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت توفي عنها زوجها وهي حامل فولدت لادنى من اربعة اشهر فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتزوج . قال ابو هريرة وانا اشهد على ذلك
عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ان کے باپ عبداللہ ( عبداللہ بن عتبہ ) نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھ کر حکم دیا کہ تم سبیعہ اسلمی بنت حارث رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان کا قصہ معلوم کرو اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کیا فرمایا تھا جس وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، عمر بن عبداللہ نے ( سبیعہ اسلمی سے ملاقات کر کے ) عبیداللہ بن عتبہ کو باخبر کرتے ہوئے لکھا: سبیعہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں اور وہ ( سعد ) بنو عامر بن لوئی کے قبیلے سے تھے اور بدری بھی تھے، ان کا انتقال حجۃ الوداع میں ہوا اور اس وقت وہ حاملہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو انہوں نے شادی کے پیغامات آنے کے خیال سے بناؤ سنگھار کیا ( اور زیب و زینت کے ساتھ رہنے لگیں ) ، ان کے پاس قبیلہ بنو عبدالدار کے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا: کیا بات ہے میں تمہیں بنی سنوری دیکھتا ہوں، لگتا ہے تم شادی کرنا چاہ رہی ہو؟ قسم اللہ کی! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک تم چار مہینے دس دن عدت کے پوری نہ کر لو۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب انہوں نے مجھے ایسی بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے لپیٹے و سمیٹے ( اور اوڑھ پہن کر اور سلیقے سے ہو کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ ”جس وقت میں نے بچہ جنا ہے اسی وقت سے میں حلال ہو چکی ہوں اور مجھے حکم دیا کہ میں شادی کر لوں اگر میرا جی چاہے“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان عبيد الله بن عبد الله، حدثه ان اباه كتب الى عمر بن عبد الله بن ارقم الزهري يامره ان يدخل على سبيعة بنت الحارث الاسلمية فيسالها حديثها وعما قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم حين استفتته فكتب عمر بن عبد الله الى عبد الله بن عتبة يخبره ان سبيعة اخبرته انها كانت تحت سعد ابن خولة - وهو من بني عامر بن لوى وكان ممن شهد بدرا فتوفي عنها زوجها في حجة الوداع وهي حامل - فلم تنشب ان وضعت حملها بعد وفاته فلما تعلت من نفاسها تجملت للخطاب فدخل عليها ابو السنابل بن بعكك - رجل من بني عبد الدار - فقال لها ما لي اراك متجملة لعلك تريدين النكاح انك والله ما انت بناكح حتى تمر عليك اربعة اشهر وعشرا . قالت سبيعة فلما قال لي ذلك جمعت على ثيابي حين امسيت فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته عن ذلك فافتاني باني قد حللت حين وضعت حملي وامرني بالتزويج ان بدا لي
زفر بن اوس بن حدثان نصری بیان کرتے ہیں کہ ابوسنابل بن بعکک بن سباق رضی اللہ عنہ نے سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم ( نکاح کے لیے ) حلال نہ ہو گی جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے لمبی مدت والی عدت کے چار ماہ دس دن تم پر گزر نہ جائیں، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ جب وہ بچہ جن چکی ہے تو نکاح کر لے، وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں جب ان کے شوہر سعد کا انتقال ہوا تو ان کے حمل کا نوواں مہینہ چل رہا تھا، وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا تھا، چنانچہ بچہ جننے کے بعد انہوں نے اپنی قوم کے ایک نوجوان سے شادی کر لی۔
اخبرنا محمد بن وهب، قال حدثنا محمد بن سلمة، قال حدثني ابو عبد الرحيم، قال حدثني زيد بن ابي انيسة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن محمد بن مسلم الزهري، قال كتب اليه يذكر ان عبيد الله بن عبد الله حدثه ان زفر بن اوس بن الحدثان النصري حدثه ان ابا السنابل بن بعكك بن السباق قال لسبيعة الاسلمية لا تحلين حتى يمر عليك اربعة اشهر وعشرا اقصى الاجلين . فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته عن ذلك فزعمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افتاها ان تنكح اذا وضعت حملها وكانت حبلى في تسعة اشهر حين توفي زوجها وكانت تحت سعد ابن خولة فتوفي في حجة الوداع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فنكحت فتى من قومها حين وضعت ما في بطنها
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت الحارث اسلمی رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حمل کے سلسلے میں انہیں کیا فتویٰ دیا تھا؟ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں ( اس خط کے بعد ) عمر بن عبداللہ نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان سے پوچھا تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو غزوہ بدر میں شریک تھے، وہ حجۃ الوداع میں وفات پا گئے اور شوہر کی وفات سے لے کر چار مہینہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا، پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئیں تو بنو عبدالدار کے ایک شخص ابوالسنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں زیب و زینت میں دیکھا تو کہا ( عدت کے ) چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے ہی غالباً تم شادی کرنے کا ارادہ کر رہی ہو؟ وہ ( سبیعہ ) کہتی ہیں: جب میں نے ابوالسنابل سے یہ بات سنی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، میں نے آپ کو اپنی ( اور ان کی ) بات چیت بتائی۔ آپ نے فرمایا: ”تم تو اسی وقت سے حلال ہو گئی ہو جب تم نے بچہ جنا“ ۱؎۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، ان عبد الله بن عتبة، كتب الى عمر بن عبد الله بن الارقم الزهري ان ادخل، على سبيعة بنت الحارث الاسلمية فاسالها عما افتاها به رسول الله صلى الله عليه وسلم في حملها . قال فدخل عليها عمر بن عبد الله فسالها فاخبرته انها كانت تحت سعد ابن خولة - وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا - فتوفي عنها في حجة الوداع فولدت قبل ان تمضي لها اربعة اشهر وعشرا من وفاة زوجها فلما تعلت من نفاسها دخل عليها ابو السنابل - رجل من بني عبد الدار - فراها متجملة فقال لعلك تريدين النكاح قبل ان تمر عليك اربعة اشهر وعشرا . قالت فلما سمعت ذلك من ابي السنابل جيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فحدثته حديثي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد حللت حين وضعت حملك
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں انصار کی ایک بڑی مجلس میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، اس مجلس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلی بھی موجود تھے، ان لوگوں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ چھیڑا تو میں نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کی روایت کا ذکر کیا جو ( روایت ) ابن عون کے قول «حتیٰ تضع» کے معنی اور حق میں تھی ( یعنی حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے ) ، ( اس بات پر ) ابن ابی لیلیٰ نے کہا: لیکن ان کے ( یعنی عبداللہ بن عتبہ کے ) چچا ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) اس کے قائل نہ تھے ( کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے بلکہ وہ زیادہ مدت والی عدت کے قائل تھے ) تب میں نے اپنی آواز بلند کی اور ( زور سے ) کہا: کیا میں جرات کر سکتا ہوں کہ عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹا الزام لگاؤں ( یہ نہیں ہو سکتا ) وہ ( عبداللہ بن عتبہ ) کوفہ کے علاقے میں موجود ہیں ( جس کو ذرا بھی شک و شبہ ہو وہ ان سے پوچھ سکتا ہے ) پھر میں مالک ( بن عامر ابن عود ) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا کہتے تھے؟ مالک نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ اس پر سختی اور تنگی ڈالتے ہو ( اس سے زیادہ مدت والی عدت پر عمل کرانا چاہتے ہو ) اور اسے رخصت سے فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہتے۔ جب کہ چھوٹی سورۃ النساء ( یعنی سورۃ الطلاق، جس میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے ) بڑی سورۃ ( بقرہ ) کے بعد اتری ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن عون، عن محمد، قال كنت جالسا في ناس بالكوفة في مجلس - للانصار - عظيم فيهم عبد الرحمن بن ابي ليلى فذكروا شان سبيعة فذكرت عن عبد الله بن عتبة بن مسعود في معنى قول ابن عون حتى تضع . قال ابن ابي ليلى لكن عمه لا يقول ذلك فرفعت صوتي وقلت اني لجريء ان اكذب على عبد الله بن عتبة وهو في ناحية الكوفة . قال فلقيت مالكا قلت كيف كان ابن مسعود يقول في شان سبيعة قال قال اتجعلون عليها التغليظ ولا تجعلون لها الرخصة لانزلت سورة النساء القصرى بعد الطولى
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: جو کوئی مجھ سے مباہلہ کرنا چاہے میں اس سے اس بات پر مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں ( کہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے ) کیونکہ وضع حمل کی مدت سے متعلق آیت «متوفی عنہا زوجہا» والی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے جس کا شوہر مر گیا ہو جب وہ بچہ جن دے گی حلال ہو جائے گی۔ اس روایت کے الفاظ میمون کے ہیں۔
اخبرني محمد بن مسكين بن نميلة، - يمامي - قال انبانا سعيد بن ابي مريم، قال انبانا محمد بن جعفر، ح واخبرني ميمون بن العباس، قال حدثنا سعيد بن الحكم بن ابي مريم، قال اخبرني محمد بن جعفر، قال حدثني ابن شبرمة الكوفي، عن ابراهيم النخعي، عن علقمة بن قيس، ان ابن مسعود، قال من شاء لاعنته ما انزلت { واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن } الا بعد اية المتوفى عنها زوجها اذا وضعت المتوفى عنها زوجها فقد حلت واللفظ لميمون
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نسائی ( یعنی طلاق ) کی چھوٹی سورۃ البقرہ کی ( بڑی ) سورۃ کے بعد نازل ہوئی ہے۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف قال حدثنا الحسن، وهو ابن اعين قال حدثنا زهير، ح واخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا زهير بن معاوية، قال حدثنا ابو اسحاق، عن الاسود، ومسروق، وعبيدة، عن عبد الله، ان سورة النساء القصرى، نزلت بعد البقرة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کی مہر متعین نہ کی اور دخول سے پہلے مر گیا تو انہوں نے کہا: اسے اس کے خاندان کی عورتوں کے مہر کے مثل مہر دلائی جائے گی نہ کم نہ زیادہ، اسے عدت گزارنی ہو گی اور اس عورت کو شوہر کے مال سے میراث ملے گی، یہ سن کر معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا: ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ دیا تھا جیسا آپ نے دیا ہے، یہ سن کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود، انه سيل عن رجل، تزوج امراة ولم يفرض لها صداقا ولم يدخل بها حتى مات قال ابن مسعود لها مثل صداق نسايها لا وكس ولا شطط وعليها العدة ولها الميراث . فقام معقل بن سنان الاشجعي فقال قضى فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بروع بنت واشق - امراة منا - مثل ما قضيت . ففرح ابن مسعود رضى الله عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے اپنے شوہر کے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تحد على ميت اكثر من ثلاث الا على زوجها
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو شوہر کے سوا کسی پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا حبان، قال حدثنا سليمان بن كثير، قال حدثنا الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد فوق ثلاثة ايام الا على زوج
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی منبر سے فرماتے ہوئے سنا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے سوائے شوہر کے، اس ( کے مرنے ) پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، قال حدثني ايوب بن موسى، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، ان ام حبيبة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على هذا المنبر " لا يحل لامراة تومن بالله ورسوله ان تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر ( بھاگے ہوئے ) غلاموں کی تلاش میں نکلے ( جب وہ ان کے سامنے آئے ) تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔ ( شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں: اس عورت کا گھر دور ( آبادی کے ایک سرے پر ) تھا، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا ( کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے ) آپ نے اسے ( وہاں سے ہٹ کر رہنے کی ) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ ( گھر جانے کے لیے ) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ ( قرآن ) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔“ ( اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو ) ۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابن ادريس، عن شعبة، وابن، جريج ويحيى بن سعيد ومحمد بن اسحاق عن سعد بن اسحاق، عن زينب بنت كعب، عن الفارعة بنت مالك، ان زوجها، خرج في طلب اعلاج فقتلوه - قال شعبة وابن جريج وكانت في دار قاصية فجاءت ومعها اخوها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له فرخص لها حتى اذا رجعت دعاها فقال " اجلسي في بيتك حتى يبلغ الكتاب اجله