Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں ( یعنی ماں باپ ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا کر لو“، پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ نے فرمایا: ”کیسے بیان کیا تم نے ( ذرا ادھر آؤ تو ) “؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ ( اس پر ) آپ نے فرمایا: ”جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن يزيد بن محمد، عن سعد بن اسحاق، عن عمته، زينب بنت كعب عن الفريعة بنت مالك، ان زوجها، تكارى علوجا ليعملوا له فقتلوه فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقالت اني لست في مسكن له ولا يجري على منه رزق افانتقل الى اهلي ويتاماى واقوم عليهم قال " افعلي " . ثم قال " كيف قلت " . فاعادت عليه قولها قال " اعتدي حيث بلغك الخبر
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے ( بھاگے ہوئے کچھ ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کر دیئے گئے، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہو جانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے ( وہاں رہنے کی صورت میں ) اپنے کچھ حالات ( اور پریشانیوں ) کا ذکر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( منتقل ہو جانے کی ) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو“
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن سعد بن اسحاق، عن زينب، عن فريعة، ان زوجها، خرج في طلب اعلاج له فقتل بطرف القدوم - قالت - فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له النقلة الى اهلي وذكرت له حالا من حالها - قالت - فرخص لي فلما اقبلت ناداني فقال " امكثي في اهلك حتى يبلغ الكتاب اجله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آیت «متاعا الی الحول غیر اخراج» … «الی آخرہ» جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے ( اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف» ( البقرة: 240 ) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ۱؎۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا ورقاء، عن ابن ابي نجيح، قال عطاء عن ابن عباس، نسخت هذه الاية عدتها في اهلها فتعتد حيث شاءت وهو قول الله عز وجل { غير اخراج}
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کا قدوم ( بستی ) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر ( بستی سے ) دور ( الگ تھلگ ) ہے ( تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟ ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: ”اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن سعد بن اسحاق، قال حدثتني زينب بنت كعب، قالت حدثتني فريعة بنت مالك، اخت ابي سعيد الخدري قالت توفي زوجي بالقدوم فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له ان دارنا شاسعة فاذن لها ثم دعاها فقال " امكثي في بيتك اربعة اشهر وعشرا حتى يبلغ الكتاب اجله
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، انها اخبرته بهذه الاحاديث الثلاثة، قالت زينب دخلت على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي ابوها ابو سفيان بن حرب فدعت ام حبيبة بطيب فدهنت منه جارية ثم مست بعارضيها ثم قالت والله ما لي بالطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
قالت زينب ثم دخلت على زينب بنت جحش حين توفي اخوها وقد دعت بطيب ومست منه ثم قالت والله ما لي بالطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على المنبر " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ ( آنے والی ) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس ( تعزیت میں ) گئی، ( میں نے دیکھا کہ ) انہوں نے خوشبو منگوائی، ( پہلے ) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر ( میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ( اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں ) ۔ ۲- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر ( مسئلہ بتانے کے لیے ) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ( و اعلان کرتے ) ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ۳- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ ) کہتی ہیں: میں نے ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے ) زمانہ جاہلیت میں تمہاری ( بیوہ ) عورت ( سوگ کا ) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ ( چھوٹی کوٹھری ) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ ( سال پورا ہو جانے کے بعد ) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی ( دبوچتی ) وہ ( مر کر ہی چھٹی پاتا ) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی ( اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی ) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں ( یعنی اس سے رگڑتی ) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»، «خص» کو کہتے ہیں ( یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا ) ۔
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت شوہر کے سوا کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی، نہ رنگ کر کپڑا پہنے، نہ ہی رنگین دھاگے سے بنا ہوا کپڑا ( پہنے ) ، نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے، اور نہ خوشبو ملے۔ ہاں جب حیض سے پاک ہو تو اس وقت تھوڑے سے قسط و اظفار کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“ ۱؎۔
اخبرنا حسين بن محمد، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، عن حفصة، عن ام عطية، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحد امراة على ميت فوق ثلاث الا على زوج فانها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا ولا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمتشط ولا تمس طيبا الا عند طهرها حين تطهر نبذا من قسط واظفار
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر مر گیا ہے وہ عورت ( عدت کے ایام میں ) کسم کے رنگ کا اور سرخ پھولوں سے رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، خضاب نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے“۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن ابي بكير، قال حدثنا ابراهيم بن طهمان، قال حدثني بديل، عن الحسن بن مسلم، عن صفية بنت شيبة، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المتوفى عنها زوجها لا تلبس المعصفر من الثياب ولا الممشقة ولا تختضب ولا تكتحل
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ منائے اور سوگ منانے والی نہ سرمہ لگائے گی، نہ خضاب اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنے گی“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عاصم، عن حفصة، عن ام عطية، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث الا على زوج ولا تكتحل ولا تختضب ولا تلبس ثوبا مصبوغا
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا ( یعنی اثمد کا ) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے ( سوگ میں ہونے کے بعد ) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں ( تو لگا سکتی ہے ) ۔ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ” ( خوشبو تو نہیں ہے لیکن ) یہ چہرے کو جوان ( اور تروتازہ کر دیتا ) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی ( بہت ضروری ) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو“۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: ”بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو“ ( اور دھو کر کنگھی کرو ) ۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني مخرمة، عن ابيه، قال سمعت المغيرة بن الضحاك، يقول حدثتني ام حكيم بنت اسيد، عن امها، ان زوجها، توفي وكانت تشتكي عينها فتكتحل الجلاء فارسلت مولاة لها الى ام سلمة فسالتها عن كحل الجلاء فقالت لا تكتحل الا من امر لا بد منه دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفي ابو سلمة وقد جعلت على عيني صبرا فقال " ما هذا يا ام سلمة " . قلت انما هو صبر يا رسول الله ليس فيه طيب . قال " انه يشب الوجه فلا تجعليه الا بالليل ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فانه خضاب " . قلت باى شىء امتشط يا رسول الله قال " بالسدر تغلفين به راسك
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟“ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا شعيب بن الليث، عن ابيه، قال حدثنا ايوب، - وهو ابن موسى - قال حميد وحدثتني زينب بنت ابي سلمة، عن امها ام سلمة، قالت جاءت امراة من قريش فقالت يا رسول الله ان ابنتي رمدت افاكحلها . وكانت متوفى عنها . فقال " الا اربعة اشهر وعشرا " . ثم قالت اني اخاف على بصرها فقال " لا الا اربعة اشهر وعشرا قد كانت احداكن في الجاهلية تحد على زوجها سنة ثم ترمي على راس السنة بالبعرة
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کر کے جس کا شوہر مر گیا تھا اور اس کی آنکھیں دکھتی تھیں ( اس کے علاج و معالجے کے لیے ) مسئلہ پوچھا، آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہر عورت ( جس کا شوہر مر جاتا تھا ) پورے سال سوگ مناتی تھی ( اور ہر طرح کی تکلیف اٹھاتی تھی ) اور پھر سال پورا ہونے پر مینگنیاں پھینکتی تھی اور اب یہ ( اسلام میں گھٹ کر ) چار مہینے دس دن ہیں ( تو تمہیں آنکھ کی تھوڑی سی تکلیف بھی برداشت نہیں ہوتی؟ ) “۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، عن امها، ان امراة، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فسالته عن ابنتها مات زوجها وهي تشتكي قال " قد كانت احداكن تحد السنة ثم ترمي البعرة على راس الحول وانما هي اربعة اشهر وعشرا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ اس کی آنکھیں کہیں خراب نہ ہو جائیں۔ اس کا مقصد تھا کہ آپ اسے سرمہ لگانے کی اجازت دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کوئی بھی عورت ( جو سوگ منا رہی ہوتی تھی ) سوگ کے سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں“ ( یہ بھی تم لوگوں سے گزارے نہیں جاتے ) “۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے زینب سے پوچھا «رأس الحول» ( سال بھر کے بعد ) کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھروں میں سے سب سے خراب ( بوسیدہ ) گھر میں جا بیٹھتی تھی، جب اس کا سال پورا ہو جاتا تو وہ اس گھر سے نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی تھی۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى بن معدان، قال حدثنا ابن اعين، قال حدثنا زهير بن معاوية، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن حميد بن نافع، مولى الانصار عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة، ان امراة، من قريش جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابنتي توفي عنها زوجها وقد خفت على عينها وهي تريد الكحل فقال " قد كانت احداكن ترمي بالبعرة على راس الحول وانما هي اربعة اشهر وعشرا " . فقلت لزينب ما راس الحول قالت كانت المراة في الجاهلية اذا هلك زوجها عمدت الى شر بيت لها فجلست فيه حتى اذا مرت بها سنة خرجت فرمت وراءها ببعرة
زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا ( جو تم نے کیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مر جاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی“۔ ( تب اس کی عدت پوری ہوتی ) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں ) ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن يحيى بن سعيد، عن حميد بن نافع، عن زينب، ان امراة، سالت ام سلمة وام حبيبة اتكتحل في عدتها من وفاة زوجها فقالت اتت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فسالته عن ذلك فقال " قد كانت احداكن في الجاهلية اذا توفي عنها زوجها اقامت سنة ثم قذفت خلفها ببعرة ثم خرجت وانما هي اربعة اشهر وعشرا حتى ينقضي الاجل
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو جس کا شوہر مر گیا ہو عدت کے دوران حیض سے پاک ہونے پر ( خون کی بدبو دور کرنے کے لیے ) قسط اور اظفار کے استعمال کی رخصت دی ہے۔
اخبرنا العباس بن محمد، - هو الدوري - قال حدثنا الاسود بن عامر، عن زايدة، عن هشام، عن حفصة، عن ام عطية، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه رخص للمتوفى عنها عند طهرها في القسط والاظفار
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ”اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں ( یعنی جس وقت مرنے لگیں ) تو وہ اپنی بیبیوں کے لیے ایک سال تک ان کو نہ نکالنے اور خرچ دینے کی وصیت کر جائیں“۔ ( البقرہ: ۲۴۰ ) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت میراث کی آیت سے منسوخ ہو گئی ہے جس میں عورت کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اور ایک سال تک عدت میں رہنے کا حکم چار ماہ دس دن کے حکم سے منسوخ ہو گیا ہے۔
اخبرنا زكريا بن يحيى السجزي، خياط السنة قال حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا علي بن الحسين بن واقد، قال اخبرني ابي قال، حدثنا يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قوله { والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج } نسخ ذلك باية الميراث مما فرض لها من الربع والثمن ونسخ اجل الحول ان جعل اجلها اربعة اشهر وعشرا
عکرمہ آیت کریمہ: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» کے متعلق فرماتے ہیں: یہ آیت اس آیت: «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا» ”اور جو لوگ تم میں سے ( اے مسلمانو! ) مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ ( یعنی بیبیاں ) چار مہینے دس دن تک اپنے تئیں روک رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۳۴ ) سے منسوخ ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن عكرمة، في قوله عز وجل { والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج } قال نسختها { والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشرا}
عبدالرحمٰن بن عاصم سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کی بیوی تھیں، وہ شخص انہیں تین طلاقیں دے کر کسی جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل سے کہہ گیا کہ اسے تھوڑا بہت نفقہ دیدے۔ ( تو اس نے دیا ) مگر اس نے اسے تھوڑا اور کم جانا ( اور واپس کر دیا ) پھر ازواج مطہرات میں سے کسی کے پاس پہنچی اور وہ ان کے پاس ہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت قیس ہیں اور ( ان کے شوہر ) فلاں نے انہیں طلاق دے دی ہے اور ان کے پاس کچھ نفقہ بھیج دیا ہے جسے انہوں نے واپس کر دیا، اس کے وکیل کا خیال ہے کہ یہ تو اس کی طرف سے ایک طرح کا احسان ہے ( ورنہ اس کا بھی حق نہیں بنتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ صحیح کہتا ہے، تم ام کلثوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت گزارو“، پھر آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عبداللہ بن ام مکتوم کے یہاں منتقل ہو جاؤ، ام کلثوم کے گھر ملنے جلنے والے بہت آتے ہیں ( ان کے باربار آنے جانے سے تمہیں تکلیف ہو گی ) اور عبداللہ بن ام مکتوم نابینا آدمی ہیں“، ( وہاں تمہیں پریشان نہ ہونا پڑے گا ) تو وہ عبداللہ ابن ام مکتوم کے یہاں چلی گئیں اور انہیں کے یہاں اپنی عدت کے دن پورے کئے۔ اس کے بعد ابوالجہم اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں شادی کا پیغام دیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان دونوں کے بارے میں کسی ایک سے شادی کرنے کا مشورہ چاہا، تو آپ نے فرمایا: ”رہے ابوالجہم تو مجھے ان کے تم پر لٹھ چلا دینے کا ڈر ہے اور رہے معاویہ تو وہ مفلس انسان ہیں۔ یہ سننے کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے شادی کر لی“۔
اخبرنا عبد الحميد بن محمد، قال حدثنا مخلد، قال حدثنا ابن جريج، عن عطاء، قال اخبرني عبد الرحمن بن عاصم، ان فاطمة بنت قيس، اخبرته وكانت، عند رجل من بني مخزوم انه طلقها ثلاثا وخرج الى بعض المغازي وامر وكيله ان يعطيها بعض النفقة فتقالتها فانطلقت الى بعض نساء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي عندها فقالت يا رسول الله هذه فاطمة بنت قيس طلقها فلان فارسل اليها ببعض النفقة فردتها وزعم انه شىء تطول به . قال " صدق " . قال النبي صلى الله عليه وسلم " فانتقلي الى ام كلثوم فاعتدي عندها " . ثم قال " ان ام كلثوم امراة يكثر عوادها فانتقلي الى عبد الله ابن ام مكتوم فانه اعمى " . فانتقلت الى عبد الله فاعتدت عنده حتى انقضت عدتها ثم خطبها ابو الجهم ومعاوية بن ابي سفيان فجاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم تستامره فيهما فقال " اما ابو الجهم فرجل اخاف عليك قسقاسته للعصا واما معاوية فرجل املق من المال " . فتزوجت اسامة بن زيد بعد ذلك
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کی بیوی تھیں، انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری تیسری طلاق دے دی۔ فاطمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنے گھر سے اپنے نکل جانے کا مسئلہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مطلقہ کے گھر سے نکلنے کی بات کو صحیح تسلیم نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ کی اس بات کا انکار کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا حجين بن المثنى، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن فاطمة بنت قيس، انها اخبرته انها، كانت تحت ابي عمرو بن حفص بن المغيرة فطلقها اخر ثلاث تطليقات . فزعمت فاطمة انها جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتته في خروجها من بيتها فامرها ان تنتقل الى ابن ام مكتوم الاعمى فابى مروان ان يصدق فاطمة في خروج المطلقة من بيتها . قال عروة انكرت عايشة ذلك على فاطمة
وقالت زينب سمعت ام سلمة، تقول جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابنتي توفي عنها زوجها وقد اشتكت عينها افاكحلها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا " . ثم قال " انما هي اربعة اشهر وعشرا وقد كانت احداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة عند راس الحول " . قال حميد فقلت لزينب وما ترمي بالبعرة عند راس الحول قالت زينب كانت المراة اذا توفي عنها زوجها دخلت حفشا ولبست شر ثيابها ولم تمس طيبا ولا شييا حتى تمر بها سنة ثم توتى بدابة حمار او شاة او طير فتفتض به فقلما تفتض بشىء الا مات ثم تخرج فتعطى بعرة فترمي بها وتراجع بعد ما شاءت من طيب او غيره . قال مالك تفتض تمسح به في حديث محمد . قال مالك الحفش الخص