احادیث
#3540
سنن نسائی - Divorce
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ اس کی آنکھیں کہیں خراب نہ ہو جائیں۔ اس کا مقصد تھا کہ آپ اسے سرمہ لگانے کی اجازت دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کوئی بھی عورت ( جو سوگ منا رہی ہوتی تھی ) سوگ کے سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں“ ( یہ بھی تم لوگوں سے گزارے نہیں جاتے ) “۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے زینب سے پوچھا «رأس الحول» ( سال بھر کے بعد ) کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو وہ عورت اپنے گھروں میں سے سب سے خراب ( بوسیدہ ) گھر میں جا بیٹھتی تھی، جب اس کا سال پورا ہو جاتا تو وہ اس گھر سے نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی تھی۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى بن معدان، قال حدثنا ابن اعين، قال حدثنا زهير بن معاوية، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن حميد بن نافع، مولى الانصار عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة، ان امراة، من قريش جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابنتي توفي عنها زوجها وقد خفت على عينها وهي تريد الكحل فقال " قد كانت احداكن ترمي بالبعرة على راس الحول وانما هي اربعة اشهر وعشرا " . فقلت لزينب ما راس الحول قالت كانت المراة في الجاهلية اذا هلك زوجها عمدت الى شر بيت لها فجلست فيه حتى اذا مرت بها سنة خرجت فرمت وراءها ببعرة
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3540
- Book Index
- 154
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
