Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہہ کر کہ عبداللہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے مسئلہ پوچھا ( کہ کیا اس کی طلاق صحیح ہوئی ہے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو ( طلاق ختم کر کے ) اسے لوٹا لے ( یعنی اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے اپنے اس حیض سے پاک ہو لینے دے، پھر جب وہ دوبارہ حائضہ ہو اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو وہ اگر اسے چھوڑ دینا چاہے تو اسے جماع کرنے سے پہلے چھوڑ دے اور اگر اسے رکھنا چاہے تو اسے رکھ لے ( اور اس سے اپنی ازدواجی زندگی بحال کرے ) یہ ہے وہ عدت جس کے مطابق اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد السرخسي، قال حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن عبيد الله بن عمر، قال اخبرني نافع، عن عبد الله، انه طلق امراته وهي حايض فاستفتى عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان عبد الله طلق امراته وهي حايض فقال " مر عبد الله فليراجعها ثم يدعها حتى تطهر من حيضتها هذه ثم تحيض حيضة اخرى فاذا طهرت فان شاء فليفارقها قبل ان يجامعها وان شاء فليمسكها فانها العدة التي امر الله عز وجل ان تطلق لها النساء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے ( یعنی طلاق ختم کر کے اسے اپنی بیوی بنا لے ) پھر اسے روکے رکھے جب تک کہ وہ حیض سے پاک نہ ہو جائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہو ( جب وہ دوبارہ حیض سے پاک ہو جائے ) تو چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو اسے چھونے ( اس کے پاس جانے اور اس سے صحبت کرنے ) سے پہلے اسے طلاق دیدے۔ یہی وہ عدت ہے جسے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورت کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، انه طلق امراته وهي حايض في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسال عمر بن الخطاب رضى الله عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مره فليراجعها ثم ليمسكها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم ان شاء امسك بعد وان شاء طلق قبل ان يمس فتلك العدة التي امر الله عز وجل ان تطلق لها النساء
زبیدی کہتے ہیں امام زہری سے پوچھا گیا: عدت والی طلاق کس طرح ہوتی ہے؟ ( اشارہ ہے قرآن کریم کی آیت: «فطلقوهن لعدتهن» ( الطلاق: 1 ) کی طرف ) تو انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے انہیں بتایا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، اس بات کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ ہوئے اور فرمایا: ”اسے رجوع کر لینا چاہیئے، پھر اسے روکے رکھے رہنا چاہیئے یہاں تک کہ ( پھر ) اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دے دینا ہی مناسب سمجھے تو طہارت کے ایام میں طلاق دیدے ہاتھ لگانے سے پہلے“۔ عدت والی طلاق کا یہی طریقہ ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اسے لوٹا لیا اور جو طلاق میں اسے دے چکا تھا اسے بھی شمار کر لیا ( کیونکہ ان کے خیال میں وہ طلاق اگرچہ سنت کے خلاف اور حرام تھی پروہ پڑ گئی تھی ) ۔
اخبرني كثير بن عبيد، عن محمد بن حرب، قال حدثنا الزبيدي، قال سيل الزهري كيف الطلاق للعدة فقال اخبرني سالم بن عبد الله بن عمر ان عبد الله بن عمر قال طلقت امراتي في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي حايض . فذكر ذلك عمر لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتغيظ رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك فقال " ليراجعها ثم يمسكها حتى تحيض حيضة وتطهر فان بدا له ان يطلقها طاهرا قبل ان يمسها فذاك الطلاق للعدة كما انزل الله عز وجل " . قال عبد الله بن عمر فراجعتها وحسبت لها التطليقة التي طلقتها
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے سنا: آپ کی کیا رائے ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟ انہوں نے جواب دیا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس وقت طلاق دی جب وہ حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھا کہ عبداللہ بن عمر کی بیوی حالت حیض میں تھی اس نے اسے اسی حالت میں طلاق دے دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ کو چاہیئے کہ وہ اس سے رجوع کرے“، اور پھر آپ نے میری بیوی میرے پاس بھیج دی اور فرمایا: ”جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو جائے تب اسے یا تو طلاق دیدے یا اسے روک لے“ ( اسے دونوں کا اختیار ہے جیسی اس کی مرضی و پسند ہو ) ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ( اس کے بعد ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ”اے نبی! ( اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت ( کے دنوں کے آغاز ) میں انہیں طلاق دو“ ( الطلاق: ۱ ) ۔
اخبرني محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، وعبد الله بن محمد بن تميم، عن حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني ابو الزبير، انه سمع عبد الرحمن بن ايمن، يسال ابن عمر وابو الزبير يسمع كيف ترى في رجل طلق امراته حايضا فقال له طلق عبد الله بن عمر امراته وهي حايض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسال عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان عبد الله بن عمر طلق امراته و هي حايض . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليراجعها " . فردها على قال " اذا طهرت فليطلق او ليمسك " . قال ابن عمر فقال النبي صلى الله عليه وسلم { يا ايها النبي اذا طلقتم النساء فطلقوهن } في قبل عدتهن
مجاہد (اپنے استاذ) ابن عباس رضی الله عنہما سے اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» یعنی ”جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور اس سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی جائے تب طلاق دینی چاہیئے“ کے سلسلے میں روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لعدتهن» کی جگہ «قبل عدتهن» پڑھا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت مجاهدا، يحدثه عن ابن عباس، في قوله عز وجل { يا ايها النبي اذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن } قال ابن عباس رضى الله عنه قبل عدتهن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت اس طرح ہے کہ جب عورت پاک ہو اور اس پاکی کے دنوں میں عورت سے جماع نہ کیا ہو تو اسے ایک طلاق دے، پھر جب دوبارہ اسے حیض آئے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے دوسری طلاق دے پھر جب ( تیسری بار ) حیض سے ہو جائے اور اس حیض سے پاک ہو جائے تو اسے ایک اور طلاق دے۔ پھر اس کے بعد عورت ایک حیض کی عدت گزارے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح بتایا ۲؎۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن ايوب، قال حدثنا حفص بن غياث، قال حدثنا الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، انه قال طلاق السنة تطليقة وهي طاهر في غير جماع فاذا حاضت وطهرت طلقها اخرى فاذا حاضت وطهرت طلقها اخرى ثم تعتد بعد ذلك بحيضة . قال الاعمش سالت ابراهيم فقال مثل ذلك
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں بغیر جماع کیے ہوئے طلاق دے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال طلاق السنة ان يطلقها طاهرا في غير جماع
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ اسے لوٹا لے۔ پھر جب ( حیض سے فارغ ہو کر ) وہ غسل کر لے تو اسے چھوڑے رکھے پھر جب حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے تو اسے نہ چھوئے یعنی ( صحبت نہ کرے ) یہاں تک کہ اسے طلاق دیدے پھر اسے روک لینا چاہے تو روک لے ( اور طلاق نہ دے ) یہی وہ عدت ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن عبد الله، انه طلق امراته وهي حايض تطليقة فانطلق عمر فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " مر عبد الله فليراجعها فاذا اغتسلت فليتركها حتى تحيض فاذا اغتسلت من حيضتها الاخرى فلا يمسها حتى يطلقها فان شاء ان يمسكها فليمسكها فانها العدة التي امر الله عز وجل ان تطلق لها النساء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ ( حیض سے ) پاک ہو جائے یا حاملہ ہو جائے تب اس کو طلاق دے“ ( اگر دینا چاہے ) ۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى طلحة عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر، انه طلق امراته وهي حايض فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " مره فليراجعها ثم ليطلقها وهي طاهر او حامل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس طلاق کو باطل قرار دے کر ) اس عورت کو انہیں لوٹا دیا۔ پھر جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو گئی تو انہوں نے اسے طلاق دی ( اور وہ طلاق نافذ ہوئی ) ۔
اخبرني زياد بن ايوب، قال حدثنا هشيم، قال اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، انه طلق امراته وهي حايض فردها عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى طلقها وهي طاهر
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مرد کے متعلق ( مسئلہ ) پوچھا جس کی بیوی حیض سے ہو اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو؟ انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ ( اس وقت ) حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر کو حکم دیا کہ اسے لوٹا لے اور اس کی عدت کا انتظار کرے۔ ( یونس بن جبیر کہتے ہیں ) میں نے ان سے کہا: یہ طلاق جو وہ دے چکا ہے کیا وہ اس کا شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہو جاتا ( اور رجوع نہ کرتا یا رجوع کرنے سے پہلے مر جاتا ) اور وہ حماقت کر گزرتا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، عن يونس بن جبير، قال سالت ابن عمر عن رجل، طلق امراته وهي حايض فقال هل تعرف عبد الله بن عمر فانه طلق امراته وهي حايض فسال عمر النبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يراجعها ثم يستقبل عدتها . فقلت له فيعتد بتلك التطليقة فقال مه ارايت ان عجز واستحمق
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حیض سے تھی طلاق دے دی ( تو اس کا مسئلہ کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور وہ اس وقت حالت حیض میں تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو لوٹا لے، پھر اس کی عدت کا انتظار کرے۔ میں نے ان سے پوچھا: جب آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدے تو کیا وہ اس طلاق کو شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اگر وہ رجوع نہ کرتا اور حماقت کرتا۔ ( تو کیا وہ شمار نہ ہوتی؟ ہوتی، اس لیے ہو گی ) ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن علية، عن يونس، عن محمد بن سيرين، عن يونس بن جبير، قال قلت لابن عمر رجل طلق امراته وهي حايض فقال اتعرف عبد الله بن عمر فانه طلق امراته وهي حايض فاتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم يساله فامره ان يراجعها ثم يستقبل عدتها قلت له اذا طلق الرجل امراته وهي حايض ايعتد بتلك التطليقة فقال مه وان عجز واستحمق
محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، ( یہ سن کر ) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: ”میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو ۱؎“، ( آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر ) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں؟۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني مخرمة، عن ابيه، قال سمعت محمود بن لبيد، قال اخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل، طلق امراته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبانا ثم قال " ايلعب بكتاب الله وانا بين اظهركم " . حتى قام رجل وقال يا رسول الله الا اقتله
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: عاصم! بتاؤ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ ( وہ قتل کر دے ) تو لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے! بتاؤ وہ کیا اور کیسے کرے؟ عاصم! اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر مجھے بتاؤ، عاصم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ مسئلہ ) پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کے سوالات برے لگے اور آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۱؎، عاصم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بڑی گراں گزری ۲؎، جب عاصم رضی اللہ عنہ لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس آئے تو عویمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے مجھے کوئی اچھی بات نہیں سنائی، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! یہ مسئلہ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر رہوں گا، ( یہ کہہ کر ) عویمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہو گئے اور آپ جہاں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے وہاں پہنچ کر کہا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے ایک شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ ( اگر وہ اسے قتل کر دے ) تو آپ لوگ اسے ( اس کے بدلے میں ) قتل کر ڈالیں گے! ( ایسی صورت حال پیش آ جائے ) تو وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل ہوا ہے، جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( وہ لے کر آئے ) پھر دونوں ( یعنی عویمر اور اس کی بیوی نے ) لعان کیا، میں بھی اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ پھر جب عویمر رضی اللہ عنہ لعان سے فارغ ہوئے تو کہا: اللہ کے رسول! اگر میں نے ( اس لعان کے بعد ) اس کو اپنے گھر رکھا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں جھوٹا ہوں ( اور میں نے اس پر تہمت لگائی ہے ) یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے اسے ( دھڑا دھڑ ) تین طلاقیں دے دیں۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني ابن شهاب، ان سهل بن سعد الساعدي، اخبره ان عويمرا العجلاني جاء الى عاصم بن عدي فقال ارايت يا عاصم لو ان رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله فيقتلونه ام كيف يفعل سل لي يا عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك . فسال عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسايل وعابها حتى كبر على عاصم ما سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رجع عاصم الى اهله جاءه عويمر فقال يا عاصم ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عاصم لعويمر لم تاتني بخير قد كره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسالة التي سالت عنها . فقال عويمر والله لا انتهي حتى اسال عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم . فاقبل عويمر حتى اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسط الناس فقال يا رسول الله ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله فتقتلونه ام كيف يفعل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد نزل فيك وفي صاحبتك فاذهب فايت بها " . قال سهل فتلاعنا وانا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغ عويمر قال كذبت عليها يا رسول الله ان امسكتها . فطلقها ثلاثا قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے کہا: میں آل خالد کی بیٹی ہوں اور میرے شوہر فلاں نے مجھے طلاق کہلا بھیجی ہے، میں نے ان کے گھر والوں سے نفقہ و سکنی ( اخراجات اور رہائش ) کا مطالبہ کیا تو انہوں نے مجھے دینے سے انکار کیا، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے بھیجی ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نفقہ و سکنی اس عورت کو ملتا ہے جس کے شوہر کو اس سے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن يحيى، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سعيد بن يزيد الاحمسي، قال حدثنا الشعبي، قال حدثتني فاطمة بنت قيس، قالت اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت انا بنت ال خالد وان زوجي فلانا ارسل الى بطلاقي واني سالت اهله النفقة والسكنى فابوا على . قالوا يا رسول الله انه قد ارسل اليها بثلاث تطليقات . قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما النفقة والسكنى للمراة اذا كان لزوجها عليها الرجعة
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طلاق پائی ہوئی عورت کو نہ سکنی ملے گا اور نہ نفقہ“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن سلمة، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، عن النبي صلى الله عليه وسلم " المطلقة ثلاثا ليس لها سكنى ولا نفقة
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تین طلاقیں دیں، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اللہ کے رسول! ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو کیا اسے ( عدت کے دوران ) نفقہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے نہ نفقہ ہے اور نہ سکنی“۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، عن ابي عمرو، - وهو الاوزاعي - قال حدثنا يحيى، قال حدثني ابو سلمة، قال حدثتني فاطمة بنت قيس، ان ابا عمرو بن حفص المخزومي، طلقها ثلاثا فانطلق خالد بن الوليد في نفر من بني مخزوم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان ابا عمرو بن حفص طلق فاطمة ثلاثا فهل لها نفقة فقال " ليس لها نفقة ولا سكنى
طاؤس سے روایت ہے کہ ابو الصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: اے ابن عباس! کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور عمر رضی اللہ عنہ کے شروع عہد خلافت میں تین طلاقیں ( ایک ساتھ ) ایک مانی جاتی تھیں، انہوں نے کہا: جی ہاں ( معلوم ہے، ایسا ہوتا تھا ) ۱؎۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف قال حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن طاوس، عن ابيه، ان ابا الصهباء، جاء الى ابن عباس فقال يا ابن عباس الم تعلم ان الثلاث، كانت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وصدرا من خلافة عمر رضي الله عنهما ترد الى الواحدة قال نعم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ اس عورت نے دوسری شادی کر لی، وہ دوسرا شخص ( تنہائی میں ) اس کے پاس گیا اور اسے جماع کیے بغیر طلاق دے دی۔ تو کیا اب یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ اس وقت تک پہلے کے لیے حلال نہ ہو گی جب تک کہ اس کا دوسرا شوہر اس کے شہد کا اور وہ عورت اس دوسرے شوہر کے شہد کا ذائقہ و مزہ نہ چکھ لے“۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امراته فتزوجت زوجا غيره فدخل بها ثم طلقها قبل ان يواقعها اتحل للاول فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حتى يذوق الاخر عسيلتها وتذوق عسيلته
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی اور ان کے پاس تو اس کپڑے کی جھالر جیسے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لگتا ہے تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ( دوسرا شوہر ) تمہارا اور تم اس کا مزہ نہ چکھ لو“۔
اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الحكم، قال حدثنا شعيب بن الليث، عن ابيه، قال حدثني ايوب بن موسى، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت امراة رفاعة القرظي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني نكحت عبد الرحمن بن الزبير والله ما معه الا مثل هذه الهدبة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلك تريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته