Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور اللہ کے رسول! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے ) کہا: تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت امراة رفاعة القرظي الى النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر عنده فقالت يا رسول الله اني كنت تحت رفاعة القرظي فطلقني البتة فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وانه والله يا رسول الله ما معه الا مثل هذه الهدبة واخذت هدبة من جلبابها وخالد بن سعيد بالباب فلم ياذن له فقال يا ابا بكر الا تسمع هذه تجهر بما تجهر به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال " تريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ( میں کسی کو بھی نہیں جانتا ) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں“ تو ( اس کا حال یہ ہے کہ ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے ( اس حدیث کے متعلق ) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں ( کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے ) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی ( کہ وہ ایسا کہتے ہیں ) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے ( انہوں نے ایسی بات کہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔
اخبرنا علي بن نصر بن علي، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، قال قلت لايوب هل علمت احدا قال في امرك بيدك انها ثلاث غير الحسن فقال لا ثم قال اللهم غفرا الا ما حدثني قتادة عن كثير مولى ابن سمرة عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاث " . فلقيت كثيرا فسالته فلم يعرفه فرجعت الى قتادة فاخبرته فقال نسي . قال ابو عبد الرحمن هذا حديث منكر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ( آپ سے ) کہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور طلاق بھی بتہ دی ( کہ وہ رجوع نہیں کر سکتے ) تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، لیکن ان کے پاس تو اس کپڑے کے جھالر جیسے کے سوا کچھ نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”لگتا ہے رفاعہ سے تم دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو؟ ( سن لو ) تو رفاعہ کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک کہ وہ ( یعنی دوسرا شوہر ) تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے اور تم اس کے شہد کا“۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت امراة رفاعة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ان زوجي طلقني فابت طلاقي واني تزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وما معه الا مثل هدبة الثوب . فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " لعلك تريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو اس عورت نے دوسرے شخص سے شادی کر لی۔ اس ( دوسرے شخص ) نے اس سے جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا ( ایسی صورت میں ) وہ عورت پہلے والے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ وہ ( دوسرا ) اس کے شہد کا مزہ نہ لے لو جس طرح اس کے پہلے شوہر نے مزہ چکھ لیا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثني عبيد الله، قال حدثني القاسم، عن عايشة، ان رجلا، طلق امراته ثلاثا فتزوجت زوجا فطلقها قبل ان يمسها فسيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اتحل للاول فقال " لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول
عبیداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نامی عورت اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہ وہ اس کے پاس نہیں آتا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کا شوہر بھی آ گیا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ جھوٹی عورت ہے، وہ اس کے پاس جاتا ہے، لیکن یہ اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہے ( اس لیے ایسا کہہ رہی ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کا شہد چکھ نہ لو“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا هشيم، قال انبانا يحيى بن ابي اسحاق، عن سليمان بن يسار، عن عبيد الله بن عباس، ان الغميصاء، او الرميصاء اتت النبي صلى الله عليه وسلم تشتكي زوجها انه لا يصل اليها فلم يلبث ان جاء زوجها فقال يا رسول الله هي كاذبة وهو يصل اليها ولكنها تريد ان ترجع الى زوجها الاول . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس ذلك حتى تذوقي عسيلته
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے وہ اسے طلاق دے دیتا ہے، پھر اس سے دوسرا شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے جماع کیے بغیر طلاق دے دیتا ہے، تو وہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹ جانا چاہتی ہے؟ تو اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت ایسا نہیں کر سکتی جب تک کہ اس ( دوسرے شوہر ) کے شہد کو نہ چکھ لے“ ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، قال سمعت سالم بن رزين، يحدث عن سالم بن عبد الله، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل تكون له المراة يطلقها ثم يتزوجها رجل اخر فيطلقها قبل ان يدخل بها فترجع الى زوجها الاول قال " لا حتى تذوق العسيلة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں ( مغلظہ ) دے دیتا ہے پھر اس سے دوسرا آدمی نکاح کر لیتا ہے اور ( اسے لے کر ) دروازہ بند کر لیتا ہے، پردے گرا دیتا ہے، ( کہ کوئی اندر نہ آ سکے ) پھر اس سے جماع کیے بغیر اسے طلاق دے دیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے والے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک اس کا دوسرا شوہر اس سے جماع نہ کر لے“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث صواب سے قریب تر ہے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن رزين بن سليمان الاحمري، عن ابن عمر، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الرجل يطلق امراته ثلاثا فيتزوجها الرجل فيغلق الباب ويرخي الستر ثم يطلقها قبل ان يدخل بها قال " لا تحل للاول حتى يجامعها الاخر " . قال ابو عبد الرحمن هذا اولى بالصواب
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو ( بڑا کرنے کے لیے ) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، عن سفيان، عن ابي قيس، عن هزيل، عن عبد الله، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الواشمة والموتشمة والواصلة والموصولة واكل الربا وموكله والمحلل والمحلل له
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بچنے کے لیے، اللہ کی ) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ ( فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان ) جب ( منکوحہ کی حیثیت سے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی اور ( اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی ) کہہ بیٹھی «أعوذباللہ منک» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فوراً ) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ( یہ کہہ کر گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی ) ۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا الاوزاعي، قال سالت الزهري عن التي، استعاذت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اخبرني عروة عن عايشة ان الكلابية لما دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم قالت اعوذ بالله منك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد عذت بعظيم الحقي باهلك
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر ) پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں؟“ میں نے کہا: تین، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہو جائیں تو مجھے خبر دو“، یہ حدیث طویل ہے، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابي بكر، - وهو ابن ابي الجهم - قال سمعت فاطمة بنت قيس، تقول ارسل الى زوجي بطلاقي فشددت على ثيابي ثم اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كم طلقك " . فقلت ثلاثا . قال " ليس لك نفقة واعتدي في بيت ابن عمك ابن ام مكتوم فانه ضرير البصر تلقين ثيابك عنده فاذا انقضت عدتك فاذنيني " . مختصر
مجاہد فاطمہ (فاطمہ بنت قیس) کے غلام تمیم سے اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے طرح جیسی کہ اوپر روایت گزری ہے روایت کرتے ہیں۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن تميم، مولى فاطمة عن فاطمة، نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، تو انہوں نے اس سے کہا: تم غلط کہتے ہو وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ( اور کہا ) تم پر سخت ترین کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن عبد الصمد بن علي الموصلي، قال حدثنا مخلد، عن سفيان، عن سالم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اتاه رجل فقال اني جعلت امراتي على حراما . قال كذبت ليست عليك بحرام ثم تلا هذه الاية { يا ايها النبي لم تحرم ما احل الله لك } عليك اغلظ الكفارة عتق رقبة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پی کر آتے تو ہم نے اور حفصہ نے آپس میں صلاح و مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ ( کیا بات ہے ) مجھے آپ کے منہ سے مغافیر ۱؎ کی بو آتی ہے، آپ ہم میں سے ایک کے پاس آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بات کہی۔ آپ نے کہا: ”میں نے تو کچھ کھایا پیا نہیں بس زینب کے پاس صرف شہد پیا ہے ( اور جب تم ایسا کہہ رہی ہو کہ اس سے مغافیر کی بو آتی ہے ) تو آئندہ نہ پیوں گا“۔ چنانچہ عائشہ اور حفصہ کی وجہ سے یہ آیت: «يا أيها النبي لم تحرم ما أحل اللہ لك» ”اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں“ ( التحریم: ۱ ) اور «إن تتوبا إلى اللہ» ” ( اے نبی کی دونوں بیویو! ) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو ( تو بہت بہتر ہے ) “۔ ( التحریم: ۴ ) نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: میں نے تو شہد پیا ہے کی وجہ سے یہ آیت: «وإذ أسر النبي إلى بعض أزواجه حديثا» ”اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی“ ( التحریم: ۳ ) نازل ہوئی ہے، اور یہ ساری تفصیل عطا کی حدیث میں موجود ہے۔
اخبرنا قتيبة، عن حجاج، عن ابن جريج، عن عطاء، انه سمع عبيد بن عمير، قال سمعت عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث عند زينب ويشرب عندها عسلا فتواصيت وحفصة ايتنا ما دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم فلتقل اني اجد منك ريح مغافير فدخل على احداهما فقالت ذلك له فقال " بل شربت عسلا عند زينب - وقال - لن اعود له " . فنزل { يا ايها النبي لم تحرم ما احل الله لك } { ان تتوبا الى الله } لعايشة وحفصة { واذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا } لقوله " بل شربت عسلا " . كله في حديث عطاء
اخبرنا محمد بن حاتم بن نعيم، قال حدثنا محمد بن مكي بن عيسى، قال حدثنا عبد الله، قال حدثنا يونس، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وقال فيه اذا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتيني فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ح واخبرني سليمان بن داود قال انبانا ابن وهب عن يونس قال ابن شهاب اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك ان عبد الله بن كعب بن مالك قال سمعت كعب بن مالك يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وساق قصته وقال اذا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتي فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تعتزل امراتك . فقلت اطلقها ام ماذا قال لا بل اعتزلها فلا تقربها . فقلت لامراتي الحقي باهلك فكوني عندهم حتى يقضي الله عز وجل في هذا الامر
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے ( اور وہ ان تینوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول ہوئی ہے ۱؎، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ساتھیوں ۲؎ کے پاس ( ایک شخص کو ) بھیجا ( اس نے کہا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیویوں سے الگ رہو، میں نے قاصد سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو بلکہ اس سے الگ تھلگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہیں کے ساتھ رہو، تو وہ ان کے پاس جا کر رہنے لگی۔
اخبرني محمد بن جبلة، ومحمد بن يحيى بن محمد، قالا حدثنا محمد بن موسى بن اعين، قال حدثنا ابي، عن اسحاق بن راشد، عن الزهري، اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه، قال سمعت ابي كعب بن مالك، - قال وهو احد الثلاثة الذين تيب عليهم - يحدث قال ارسل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم والى صاحبى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامركم ان تعتزلوا نساءكم . فقلت للرسول اطلق امراتي ام ماذا افعل قال لا بل تعتزلها فلا تقربها . فقلت لامراتي الحقي باهلك فكوني فيهم فلحقت بهم
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ کو اپنا اس وقت کا قصہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب وہ غزوہ تبوک میں جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے اور شریک نہ ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے ذکر کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی کو چھوڑ دو، میں نے ( اس سے ) کہا: میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: ( طلاق نہ دو ) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ایسا ہی پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور ان لوگوں کے ساتھ رہو اور اس وقت تک رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں اپنا فیصلہ نہ سنا دے۔ معقل بن عبیداللہ نے ان سب کے خلاف ذکر کیا ہے ( تفصیل آگے حدیث میں آ رہی ہے ) ۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج بن محمد، قال حدثنا الليث بن سعد، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعبا، يحدث حديثه حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وقال فيه اذا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتيني ويقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تعتزل امراتك . فقلت اطلقها ام ماذا افعل قال بل اعتزلها ولا تقربها . وارسل الى صاحبى بمثل ذلك فقلت لامراتي الحقي باهلك وكوني عندهم حتى يقضي الله عز وجل في هذا الامر . خالفهم معقل بن عبيد الله
عبیداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور میرے دونوں ( پیچھے رہ جانے والے ) ساتھیوں کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم لوگ اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ، میں نے پیغام لانے والے سے کہا: میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، طلاق نہ دو، بلکہ اس سے الگ رہو، اس کے قریب نہ جاؤ، ( یہ سن کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور جب تک اللہ عزوجل فیصلہ نہ کر دے انہیں لوگوں میں رہو، تو بیوی انہیں لوگوں کے پاس جا کر رہنے لگی۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) معمر نے معقل کے خلاف ذکر کیا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى، قال حدثنا الحسن بن اعين، قال حدثنا معقل، عن الزهري، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب، عن عمه، عبيد الله بن كعب قال سمعت ابي كعبا، يحدث قال ارسل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم والى صاحبى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامركم ان تعتزلوا نساءكم فقلت للرسول اطلق امراتي ام ماذا افعل قال لا بل تعتزلها ولا تقربها . فقلت لامراتي الحقي باهلك فكوني فيهم حتى يقضي الله عز وجل . فلحقت بهم . خالفه معمر
عبدالرحمٰن بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے واقعے کے ذکر میں بتایا: اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا تم اپنی بیوی سے جدا ہو جاؤ، میں نے اس سے کہا: میں اسے طلاق دے دوں، اس نے کہا نہیں، طلاق نہ دو، لیکن اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس حدیث میں انہوں نے «الحقی باھلک» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
اخبرني محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا محمد، - وهو ابن ثور - عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن ابيه، قال في حديثه اذا رسول من النبي صلى الله عليه وسلم قد اتاني فقال اعتزل امراتك . فقلت اطلقها قال لا ولكن لا تقربها . ولم يذكر فيه الحقي باهلك
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال سمعت يحيى، قال حدثنا علي بن المبارك، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن عمر بن معتب، ان ابا حسن، مولى بني نوفل اخبره قال كنت انا وامراتي، مملوكين فطلقتها تطليقتين ثم اعتقنا جميعا فسالت ابن عباس فقال ان راجعتها كانت عندك على واحدة قضى بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم . خالفه معمر
بنی نوفل کے غلام حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں پھر وہ دونوں آزاد کر دیے گئے، پوچھا گیا: کیا وہ اس سے شادی کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، ( کر سکتا ہے ) کسی نے کہا کس سے سن کر یہ بات کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فتویٰ دیا ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے کہا: یہ حسن کون ہیں؟ انہوں نے تو اپنے سر پر ایک بڑی چٹان لاد لی ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عمر بن معتب، عن الحسن، مولى بني نوفل قال سيل ابن عباس عن عبد طلق، امراته تطليقتين ثم عتقا ايتزوجها قال نعم . قال عمن قال افتى بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال عبد الرزاق قال ابن المبارك لمعمر الحسن هذا من هو لقد حمل صخرة عظيمة