احادیث
#3409
سنن نسائی - Divorce
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ہے تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، اور اللہ کے رسول! قسم اللہ کی ان کے پاس تو اس جھالر جیسی چیز کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎ انہوں نے اپنی چادر کا پلو پکڑ کر یہ بات کہی۔ اس وقت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، انہوں نے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس عورت سے ) کہا: تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو، یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ تم اس کے شہد کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمہارے شہد کا مزہ نہ چکھ لے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت امراة رفاعة القرظي الى النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر عنده فقالت يا رسول الله اني كنت تحت رفاعة القرظي فطلقني البتة فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وانه والله يا رسول الله ما معه الا مثل هذه الهدبة واخذت هدبة من جلبابها وخالد بن سعيد بالباب فلم ياذن له فقال يا ابا بكر الا تسمع هذه تجهر بما تجهر به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال " تريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3409
- Book Index
- 21
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
