Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
قریظہ رضی الله عنہ کے دونوں بیٹے روایت کرتے ہیں کہ وہ سب ( یعنی بنو قریظہ کے نوجوان ) قریظہ کے ( فیصلے کے ) دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے، تو جسے احتلام ہونے لگا تھا، یا جس کی ناف کے نیچے کے بال اگ آئے تھے اسے ( جوان قرار دے کر ) قتل کر دیا گیا۔ اور جسے ابھی احتلام ہونا شروع نہیں ہوا تھا یا جس کی ناف کے نیچے کے بال نہیں آئے تھے اسے چھوڑ دیا اور قتل نہیں کیا گیا ۱؎۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا اسد بن موسى، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي جعفر الخطمي، عن عمارة بن خزيمة، عن كثير بن السايب، قال حدثني ابناء، قريظة انهم عرضوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة فمن كان محتلما او نبتت عانته قتل ومن لم يكن محتلما او لم تنبت عانته ترك
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ جب سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا فیصلہ دیا تو اس وقت میں بچہ تھا، لوگوں کو میرے متعلق شبہ ہوا ( کہ میں فی الواقع بچہ ہوں یا جوان؟ جب انہوں نے تحقیق کی ) تو مجھے زیر ناف کے بالوں والا نہیں پایا اور میں بچ رہا۔ چنانچہ میں آج تمہارے درمیان موجود ہوں۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن عطية القرظي، قال كنت يوم حكم سعد في بني قريظة غلاما فشكوا في فلم يجدوني انبت فاستبقيت فها انا ذا بين اظهركم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر ( جنگ میں شریک ہونے کے لیے ) ۱۴ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں ( جنگ میں شرکت کی ) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی ( اور مجاہدین میں شامل کر لیا ) ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عرضه يوم احد وهو ابن اربع عشرة سنة فلم يجزه وعرضه يوم الخندق وهو ابن خمس عشرة سنة فاجازه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن حماد، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاث عن النايم حتى يستيقظ وعن الصغير حتى يكبر وعن المجنون حتى يعقل او يفيق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ( عبدالرحمٰن کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کر دیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں اور اس پہ عمل نہ کریں“۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، وعبد الرحمن بن محمد بن سلام، قالا حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم - قال عبد الرحمن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال " ان الله تعالى تجاوز عن امتي كل شىء حدثت به انفسها ما لم تكلم به او تعمل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہماری امت کے وسوسوں اور جی میں گزرنے والے خیالات سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا ابن ادريس، عن مسعر، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل تجاوز لامتي ما وسوست به وحدثت به انفسها ما لم تعمل او تتكلم به
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کے دل میں جو بات کھٹکتی اور گزرتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ اسے زبان سے نہ کہیں یا اس پہ عمل نہ کریں“۔
اخبرني موسى بن عبد الرحمن، قال حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، عن شيبان، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله تعالى تجاوز لامتي عما حدثت به انفسها ما لم تكلم او تعمل به
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارسی پڑوسی تھا جو اچھا شوربہ بناتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، اس نے آپ کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بلایا، آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ”کیا انہیں بھی لے کر آؤں“، اس نے ہاتھ سے اشارہ سے منع کیا دو یا تین بار کہ نہیں ۱؎۔
اخبرنا ابو بكر بن نافع، قال حدثنا بهز، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال حدثنا ثابت، عن انس، قال كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم جار فارسي طيب المرقة فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وعنده عايشة فاوما اليه بيده ان تعال واوما رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عايشة اى وهذه فاوما اليه الاخر هكذا بيده ان لا مرتين او ثلاثا
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ آدمی جیسی نیت کرے گا ویسا ہی پھل پائے گا، جو اللہ و رسول کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی ( اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کا ثواب ملے گا ) اور جو کوئی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے دنیا ملے گی، یا عورت حاصل کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اسے عورت ملے گی۔ ہجرت جس قصد و ارادے سے ہو گی اس کا حاصل اس کے اعتبار سے ہو گا“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال حدثنا مالك، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال اخبرني مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، عن علقمة بن وقاص، عن عمر بن الخطاب، رضى الله عنه - وفي حديث الحارث انه سمع عمر يقول - قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الاعمال بالنية وانما لامري ما نوى فمن كانت هجرته الى الله ورسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته الى ما هاجر اليه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا دیکھو تو ( غور کرو ) اللہ تعالیٰ قریش کی گالیوں اور لعنتوں سے مجھے کس طرح بچا لیتا ہے، وہ لوگ مجھے مذمم کہہ کر گالیاں دیتے اور مذمم کہہ کر مجھ پر لعنت بھیجتے ہیں اور میں محمد ہوں“ ۱؎۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثني شعيب، قال حدثني ابو الزناد، مما حدثه عبد الرحمن الاعرج، مما ذكر انه سمع ابا هريرة، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قال " انظروا كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم انهم يشتمون مذمما ويلعنون مذمما وانا محمد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( اختیار دہی ) کی ابتداء مجھ سے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں تو ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر فیصلہ لینے میں جلدی نہ کرنا“ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخوبی سمجھتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ سے جدا ہونے کا کبھی مشورہ نہ دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم زندگانی دنیا اور زینت دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں“۔ ( الاحزاب: ۲۸ ) تک پڑھی ( یہ آیت سن کر ) میں نے کہا: میں اس بات کے لیے اپنے ماں باپ سے صلاح و مشورہ لوں؟ ( مجھے کسی سے مشورہ نہیں لینا ہے ) میں اللہ عزوجل، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں نے بھی ویسا ہی کیا ( اور کہا ) جیسا میں نے کیا ( اور کہا ) تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سے کہنے اور ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب کر لینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۴؎۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال انبانا يونس بن يزيد، وموسى بن على، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما امر رسول الله بتخيير ازواجه بدا بي فقال " اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان لا تعجلي حتى تستامري ابويك " . قالت قد علم ان ابواى لم يكونا ليامراني بفراقه - قالت - ثم تلا هذه الاية { يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا } الى قوله { جميلا } فقلت افي هذا استامر ابوى فاني اريد الله عز وجل ورسوله والدار الاخرة - قالت عايشة - ثم فعل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم مثل ما فعلت ولم يكن ذلك حين قال لهن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخترنه طلاقا من اجل انهن اخترنه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «إن كنتن تردن اللہ ورسوله» اتری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے مجھ سے بات چیت کی، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تو تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کیے بغیر جواب دینے میں جلدی نہ کرنا۔“ آپ بخوبی جانتے تھے کہ قسم اللہ کی میرے ماں باپ مجھے آپ سے جدائی اختیار کر لینے کا مشورہ و حکم دینے والے ہرگز نہیں ہیں، پھر آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» میں نے ( یہ آیت سن کر ) آپ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کر لینے کے لیے کہہ رہے ہیں، میں تو اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں ( اس بارے میں مشورہ کیا کرنا؟ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ( یعنی حدیث «معمر عن الزہری عن عائشہ» غلط ہے اور اول ( یعنی حدیث «یونس و موسیٰ عن ابن شہاب، عن أبی سلمہ عن عائشہ» زیادہ قریب صواب ہے۔ واللہ أعلم۔)
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت لما نزلت { ان كنتن تردن الله ورسوله } دخل على النبي صلى الله عليه وسلم بدا بي فقال " يا عايشة اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان لا تعجلي حتى تستامري ابويك " . قالت قد علم والله ان ابوى لم يكونا ليامراني بفراقه فقرا على { يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها } فقلت افي هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا والاول اولى بالصواب والله سبحانه وتعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( ازواج مطہرات ) کو اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو چن لیا، تو کیا یہ طلاق ہوئی؟ ( نہیں، یہ طلاق نہیں ہوئی ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، - هو ابن سعيد - عن اسماعيل، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة، قالت خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترناه فهل كان طلاقا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار دینا طلاق نہیں ہوا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن عاصم، قال قال الشعبي عن مسروق، عن عايشة، قالت قد خير رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه فلم يكن طلاقا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تو یہ اختیار طلاق نہیں تھا۔
اخبرنا محمد بن ابراهيم بن صدران، عن خالد بن الحارث، قال حدثنا اشعث، - وهو ابن عبد الملك - عن عاصم، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت قد خير النبي صلى الله عليه وسلم نساءه فلم يكن طلاقا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ( انتخاب کا ) اختیار دیا تو کیا یہ ( اختیار ) طلاق تھا؟ ( نہیں، یہ طلاق نہیں تھا ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت قد خير رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه افكان طلاقا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم سب نے آپ کو منتخب اور قبول کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم سے متعلق کچھ بھی شمار نہ کیا۔
اخبرني عبد الله بن محمد الضعيف، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة، قالت خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترناه فلم يعدها علينا شييا
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام اور ایک لونڈی تھی ( یہ دونوں میاں بیوی تھے ) میرا ارادہ ہوا کہ ان دونوں کو میں آزاد کر دوں۔ میں نے اس ارادہ کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا تو آپ نے فرمایا: ”لونڈی سے پہلے غلام کو آزاد کرو ( پھر لونڈی کو ) “ ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا حماد بن مسعدة، قال حدثنا ابن موهب، عن القاسم بن محمد، قال كان لعايشة غلام وجارية قالت فاردت ان اعتقهما فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ابديي بالغلام قبل الجارية
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ۱؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، ( آزادی کے باعث ) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا ( اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا ) اور ( دوسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے“، اور ( تیسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے ) گھر گئے ( اس وقت ان کے یہاں ) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے؟“ ( تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے؟ ) لوگوں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! ( آپ نے صحیح دیکھا ہے ) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ( اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ( جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو ) وہ میرے لیے ہدیہ ہو گا ( اس لیے اسے پیش کر سکتے ہو ) “ ۳؎۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن ربيعة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان في بريرة ثلاث سنن احدى السنن انها اعتقت فخيرت في زوجها وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعتق " . ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم والبرمة تفور بلحم فقرب اليه خبز وادم من ادم البيت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الم ار برمة فيها لحم " . فقالوا بلى يا رسول الله ذلك لحم تصدق به على بريرة وانت لا تاكل الصدقة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو عليها صدقة وهو لنا هدية
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی ذات سے تین قضیے ( مسئلے ) سامنے آئے: بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے ان کو بیچ دینا اور ان کی ولاء ( وراثت ) کا شرط لگانا چاہا، میں نے اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ” ( ان کے شرط لگانے سے کچھ نہیں ہو گا ) تم اسے خرید لو اور اسے آزاد کر دو، ولاء ( میراث ) اس کا حق ہے جو اسے آزاد کرے“، اور وہ ( خرید کر ) آزاد کر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے آپ کو منتخب کر لیا ( یعنی اپنے شوہر سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ) ، اسے صدقہ دیا جاتا تھا تو اس صدقہ میں ملی ہوئی چیز میں سے ہمیں ہدیہ بھیجا کرتی تھی، میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا: ”اسے کھاؤ وہ ( چیز ) اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“ ۱؎۔
اخبرني محمد بن ادم، قال حدثنا ابو معاوية، عن هشام، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان في بريرة ثلاث قضيات اراد اهلها ان يبيعوها ويشترطوا الولاء فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اشتريها واعتقيها فانما الولاء لمن اعتق " . واعتقت فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاختارت نفسها وكان يتصدق عليها فتهدي لنا منه فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " كلوه فانه عليها صدقة وهو لنا هدية