احادیث
#3447
سنن نسائی - Divorce
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے تین سنتیں تھیں ۱؎، ایک یہ کہ وہ لونڈی تھیں آزاد کی گئیں، ( آزادی کے باعث ) انہیں ان کے شوہر کے سلسلہ میں اختیار دیا گیا ( اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا ) اور ( دوسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے“، اور ( تیسری سنت یہ کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے ) گھر گئے ( اس وقت ان کے یہاں ) ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا، آپ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں نے گوشت کی ہنڈیا نہیں دیکھی ہے؟“ ( تو پھر گوشت کیوں نہیں لائے؟ ) لوگوں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! ( آپ نے صحیح دیکھا ہے ) لیکن یہ گوشت وہ ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا ہے اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ( اس لیے آپ کے سامنے گوشت نہیں رکھا گیا ہے ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ( جب تم اسے مجھے پیش کرو گے تو ) وہ میرے لیے ہدیہ ہو گا ( اس لیے اسے پیش کر سکتے ہو ) “ ۳؎۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن ربيعة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان في بريرة ثلاث سنن احدى السنن انها اعتقت فخيرت في زوجها وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعتق " . ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم والبرمة تفور بلحم فقرب اليه خبز وادم من ادم البيت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الم ار برمة فيها لحم " . فقالوا بلى يا رسول الله ذلك لحم تصدق به على بريرة وانت لا تاكل الصدقة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو عليها صدقة وهو لنا هدية
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3447
- Book Index
- 59
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
