Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدا تو اس کے ( بیچنے والے ) مالکان نے اس کی ولاء ( وراثت ) کی شرط لگائی ( کہ اس کے مرنے کا ترکہ ہم پائیں گے ) ، میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہوتا ہے جو پیسہ خرچ کرے ( یعنی لونڈی یا غلام خرید کر آزاد کرے ) ، چنانچہ میں نے اسے آزاد کر دیا پھر ( میرے آزاد کر دینے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدگی اختیار کر لینے کا اختیار دیا۔ اس نے کہا: اگر وہ مجھے اتنا اتنا دیں تب بھی میں ان کے پاس نہیں رہوں گی، اس نے اپنے حق خود اختیاری کا استعمال کیا ( اور علیحدگی ہو گئی ) ، اس کا شوہر آزاد شخص تھا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت اشتريت بريرة فاشترط اهلها ولاءها فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اعتقيها فانما الولاء لمن اعطى الورق " . قالت فاعتقتها فدعاها رسول الله صلى الله عليه وسلم فخيرها من زوجها قالت لو اعطاني كذا وكذا ما اقمت عنده . فاختارت نفسها وكان زوجها حرا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے ولاء ( میراث ) خود لینے کی شرط رکھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء ( میراث ) آزاد کرنے والے کا حق ہے ۱؎، اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانے کے لیے ) گوشت لایا گیا اور بتا بھی دیا گیا کہ یہ اس گوشت میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں دیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے تو ہدیہ و تحفہ ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی بریرہ کو ) اختیار دیا، بریرہ کا شوہر آزاد شخص تھا۔
اخبرنا عمرو بن علي، عن عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، انها ارادت ان تشتري، بريرة فاشترطوا ولاءها فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اشتريها واعتقيها فان الولاء لمن اعتق " . واتي بلحم فقيل ان هذا مما تصدق به على بريرة . فقال " هو لها صدقة ولنا هدية " . وخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان زوجها حرا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنی آزادی کے لیے نو اوقیہ ۱؎ پر مکاتبت کی اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنے کی شرط ٹھہرائی اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد حاصل کرنے کے لیے ان کے پاس آئی۔ انہوں نے کہا: میں اس طرح مدد تو نہیں کرتی لیکن اگر وہ اس پر راضی ہوں کہ میں انہیں ایک ہی دفعہ میں پوری رقم گن دوں اور ولاء ( وراثت ) میرا حق ہو ( تو میں ایسا کر سکتی ہوں ) ، بریرہ اپنے لوگوں کے پاس گئی اور ان لوگوں سے اس معاملے میں بات کی، تو انہوں نے بغیر ولاء ( وراثت ) کے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا ( کہا ولاء ( میراث ) ہم لیں گے ) تو وہ لوٹ کر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اور اسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے، بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مالک کے جواب سے انہیں ( عائشہ کو ) آگاہ کیا، انہوں نے کہا: نہ قسم اللہ کی جب تک ولاء ( میراث ) مجھے نہ ملے گی ( میں اکٹھی رقم نہ دوں گی ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا قصہ ہے؟ انہوں کہا: اللہ کے رسول! ( بات یہ ہے کہ ) بریرہ اپنی مکاتبت رضی اللہ عنہا پر مجھ سے امداد طلب کرنے آئی تو میں نے اس سے کہا میں یوں تو مدد نہیں کرتی مگر ہاں اگر وہ ولاء ( میراث ) کو میرا حق تسلیم کریں تو میں ساری رقم انہیں یکبارگی گن دیتی ہوں، اس بات کا ذکر اس نے اپنے مالک سے کیا تو انہوں نے کہا: نہیں، ولاء ( میراث ) ہم لیں گے ( تب ہی ہم اس پر راضی ہوں گے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ سے ) کہا: ”تم اسے خرید لو اور ان کے لیے ولاء ( میراث ) کی شرط مان لو، ولاء اس شخص کا حق ہے جو اسے آزاد کرے ( اس طرح جب تم خرید کر آزاد کر دو گی تو حق ولاء ( میراث ) تم کو مل جائے گا ) “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں کو خطاب کیا ( سب سے پہلے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ ( قرآن ) میں نہیں ہیں، کہتے ہیں: ( ہم سے خرید کر ) آزاد تم کرو لیکن ولاء ( وراثت ) ہم لیں گے۔ اللہ عزوجل کی کتاب بر حق و صحیح تر ہے اور اللہ کی شرط مضبوط، ٹھوس اور قابل اعتماد ہے اور ہر وہ شرط جس کا کتاب اللہ میں وجود و ثبوت نہیں ہے باطل و بے اثر ہے، اگرچہ وہ ایک نہیں سو شرطیں ہوں“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہو جانے کا اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا تو اس نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا۔ عروہ کہتے ہیں: اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ( علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار نہ دیتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كاتبت بريرة على نفسها بتسع اواق في كل سنة باوقية فاتت عايشة تستعينها فقالت لا الا ان يشاءوا ان اعدها لهم عدة واحدة ويكون الولاء لي . فذهبت بريرة فكلمت في ذلك اهلها فابوا عليها الا ان يكون الولاء لهم فجاءت الى عايشة وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك فقالت لها ما قال اهلها فقالت لاها الله اذا الا ان يكون الولاء لي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما هذا " . فقالت يا رسول الله ان بريرة اتتني تستعين بي على كتابتها فقلت لا الا ان يشاءوا ان اعدها لهم عدة واحدة ويكون الولاء لي فذكرت ذلك لاهلها فابوا عليها الا ان يكون الولاء لهم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابتاعيها واشترطي لهم الولاء فان الولاء لمن اعتق " . ثم قام فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ما بال اقوام يشترطون شروطا ليست في كتاب الله عز وجل يقولون اعتق فلانا والولاء لي كتاب الله عز وجل احق وشرط الله اوثق وكل شرط ليس في كتاب الله فهو باطل وان كان ماية شرط " . فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم من زوجها وكان عبدا فاختارت نفسها . قال عروة فلو كان حرا ما خيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام شخص تھا۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المغيرة بن سلمة، قال حدثنا وهيب، عن عبيد الله بن عمر، عن يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان زوج بريرة عبدا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو کچھ انصاری لوگوں سے خریدا جنہوں نے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) کا حقدار ولی نعمت ( آزاد کرانے والا ) ہوتا ہے“ ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( یعنی بریرہ کو ) اختیار دیا، اس کا شوہر غلام تھا ( اس نے اس حق کا اپنے حق میں استعمال کیا اور شوہر کو چھوڑ دیا ) ، اس نے ( بریرہ نے ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت کا ہدیہ بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گوشت میں ہمارے لیے بھی تو حصہ رکھنا تھا“، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت بریرہ کے پاس صدقہ آیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ( صدقہ نہیں ) ہدیہ ہے“ ۲؎۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن سماك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها اشترت بريرة من اناس من الانصار فاشترطوا الولاء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن ولي النعمة " . وخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان زوجها عبدا واهدت لعايشة لحما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو وضعتم لنا من هذا اللحم " . قالت عايشة تصدق به على بريرة . فقال " هو عليها صدقة وهو لنا هدية
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط لگائی گئی ہے ( پھر میں کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس شرط کے ساتھ بھی ) تم اسے خرید لو ( یہ شرط لغو و باطل ہے ) ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے“۔ راوی کہتے ہیں: ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کر دیا ) اور اسے اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے یا اسے چھوڑ دینے کا ) اس کا شوہر غلام تھا۔ یہ کہنے کے بعد راوی پھر کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ( کہ اس کا شوہر واقعی غلام تھا یا آزاد تھا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت پیش کیا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ بریرہ کے پاس صدقہ میں آئے ہوئے گوشت میں سے یہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ و تحفہ ہے“ ( اس لیے ہم کھا سکتے ہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن ابي بكير الكرماني، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، - قال وكان وصي ابيه قال وفرقت ان اقول، سمعته من، ابيك - قالت عايشة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بريرة واردت ان اشتريها واشترط الولاء لاهلها فقال " اشتريها فان الولاء لمن اعتق " . قال وخيرت وكان زوجها عبدا ثم قال بعد ذلك ما ادري واتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم . فقالوا هذا مما تصدق به على بريرة . قال " هو لها صدقة ولنا هدية
ابویعفور کہتے ہیں کہ ہم ابوالضحیٰ کے پاس تھے اور ہماری بحث مہینہ کے بارے میں چھڑ گئی، بعض نے کہا کہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور بعض نے کہا: انتیس ( ۲۹ ) دن کا۔ ابوالضحیٰ نے کہا: ( سنو ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے حدیث بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک صبح ہم سب کی ایسی آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رو رہی تھیں اور ان سبھی کے پاس ان کے گھر والے موجود تھے، میں مسجد میں پہنچا تو مسجد ( کھچا کھچ ) بھری ہوئی تھی، ( اس وقت ) عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اوپر چڑھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ اپنے بالا خانہ میں تھے، آپ کو سلام کیا تو کسی نے انہیں جواب نہیں دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سلام کیا پھر کسی نے انہیں جواب نہیں دیا، پھر سلام کیا پھر انہیں کسی نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ پھر لوٹ پڑے اور بلال کو بلایا ۱؎ اور اوپر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن میں نے ان سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا ہے، پھر آپ انتیس ( ۲۹ ) دن ( اوپر ) وہاں قیام فرما رہے، پھر نیچے آئے اور اپنی بیویوں کے پاس گئے۔
اخبرنا احمد بن عبد الله بن الحكم البصري، قال حدثنا مروان بن معاوية، قال حدثنا ابو يعفور، عن ابي الضحى، قال تذاكرنا الشهر عنده فقال بعضنا ثلاثين . وقال بعضنا تسعا وعشرين . فقال ابو الضحى حدثنا ابن عباس قال اصبحنا يوما ونساء النبي صلى الله عليه وسلم يبكين عند كل امراة منهن اهلها فدخلت المسجد فاذا هو ملان من الناس - قال - فجاء عمر رضى الله عنه فصعد الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في علية له فسلم عليه فلم يجبه احد ثم سلم فلم يجبه احد ثم سلم فلم يجبه احد فرجع فنادى بلالا فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال اطلقت نساءك فقال " لا ولكني اليت منهن شهرا " . فمكث تسعا وعشرين ثم نزل فدخل على نسايه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہ جانے کا عہد کیا ( یعنی ایلاء کیا ) اور انتیس ( ۲۹ ) راتیں اپنے بالاخانے پر رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر آئے، آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مہینہ بھر کا ایلاء نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”مہینہ انتیس ( ۲۹ ) دن کا ( بھی ) ہوا کرتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا حميد، عن انس، قال الى النبي صلى الله عليه وسلم من نسايه شهرا في مشربة له فمكث تسعا وعشرين ليلة ثم نزل فقيل يا رسول الله اليس اليت على شهر قال " الشهر تسع وعشرون
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر اس سے صحبت کر بیٹھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن میں کفارہ ادا کیے بغیر اس سے جماع کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا کر گزرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ہے“؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میں نے اس کی پازیب دیکھی ( تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس سے جماع کر بیٹھا ) آپ نے فرمایا: ” ( اچھا اب ) اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ نے ( ایسے موقع پر کرنے کا ) حکم دیا ہے ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) “ ۲؎۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن معمر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم قد ظاهر من امراته فوقع عليها فقال يا رسول الله اني ظاهرت من امراتي فوقعت قبل ان اكفر . قال " وما حملك على ذلك يرحمك الله " . قال رايت خلخالها في ضوء القمر . فقال " لا تقربها حتى تفعل ما امر الله عز وجل
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ( یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح کہہ کر حرام کر لیا ) پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے صحبت کر لی، پھر جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ( کہ ایسا ایسا ہو گیا ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں اس قدر بے قابو کر دیا کہ تم اس کام کے کرنے پر مجبور ہو گئے“، اس نے کہا: اللہ کی رحمتیں نازل ہوں آپ پر اللہ کے رسول! میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی پازیب دیکھ لی ( راوی کو شبہ ہو گیا کہ یہ کہا یا یہ کہا ) کہ میں نے چاند کی چاندنی میں اس کی ( چمکتی ہوئی ) پنڈلیاں دیکھ لیں ( تو مجھ سے رہا نہ گیا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے دور رہو جب تک کہ وہ نہ کر لو جس کا اللہ عزوجل نے تمہیں کرنے کا حکم دیا ہے“ ( یعنی کفارہ ادا کر دو ) ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، قال تظاهر رجل من امراته فاصابها قبل ان يكفر فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ما حملك على ذلك " . قال رحمك الله يا رسول الله رايت خلخالها او ساقيها في ضوء القمر . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاعتزلها حتى تفعل ما امرك الله عز وجل
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں ( تو بے قابو ہو گیا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے ( یعنی کفارہ دے دو ) “۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں «فاعتزل» کے بجائے «فاعتزلہا» بیان کیا ہے اور یہ «فاعتزل» لفظ محمد کی روایت میں ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المعتمر، ح وانبانا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت الحكم بن ابان، قال سمعت عكرمة، قال اتى رجل نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله انه ظاهر من امراته ثم غشيها قبل ان يفعل ما عليه . قال " ما حملك على ذلك " . قال يا نبي الله رايت بياض ساقيها في القمر . قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " فاعتزل حتى تقضي ما عليك " . وقال اسحاق في حديثه " فاعتزلها حتى تقضي ما عليك " . واللفظ لمحمد . قال ابو عبد الرحمن المرسل اولى بالصواب من المسند والله سبحانه وتعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں ( کہ انہوں نے ان سے ظہار کر لیا ہے ) ان کی باتیں مجھے سنائی نہ پڑ رہی تھیں، تو اللہ عزوجل نے «قد سمع اللہ قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى اللہ واللہ يسمع تحاوركما» اتاری ( جس سے ہم سبھی کو معلوم ہو گیا کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن الاعمش، عن تميم بن سلمة، عن عروة، عن عايشة، انها قالت الحمد لله الذي وسع سمعه الاصوات لقد جاءت خولة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم تشكو زوجها فكان يخفى على كلامها فانزل الله عز وجل { قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي الى الله والله يسمع تحاوركما } الاية
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے شوہروں سے بلا عذر کے خلع اور طلاق مانگنے والیاں منافق عورتیں ہیں“ ۲؎۔ حسن بصری کہتے ہیں: یہ حدیث میں نے ابوہریرہ کے سوا کسی اور سے نہیں سنی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: حسن بصری نے ( یہ حدیث ہی کیا ) ابوہریرہ سے کچھ بھی نہیں سنا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المخزومي، - وهو المغيرة بن سلمة - قال حدثنا وهيب، عن ايوب، عن الحسن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " المنتزعات والمختلعات هن المنافقات " . قال الحسن لم اسمعه من غير ابي هريرة . قال ابو عبد الرحمن الحسن لم يسمع من ابي هريرة شييا
حبیبہ بنت سہل رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز کے لیے ) صبح صادق میں نکلے تو ان کو اپنے دروازے پر تاریکی میں کھڑا ہوا پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کون ہے یہ؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے، کیسے آنا ہوا؟“ انہوں نے کہا: نہ میں اور نہ ثابت بن قیس ( یعنی دونوں بحیثیت میاں بیوی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، آپ ہم میں علیحدگی کرا دیجئیے ) پھر جب ثابت بن قیس بھی آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حبیبہ بنت سہل ہیں، اللہ کو ان سے جو کہلانا تھا وہ انہوں نے کہا“ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے دیا ہے وہ میرے پاس موجود ہے ( وہ یہ لے سکتے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: ”وہ ان سے لے لو ( اور ان کو چھوڑ دو ) “ تو انہوں نے ان سے لے لیا اور وہ ( وہاں سے آ کر ) اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگیں۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، انها اخبرته عن حبيبة بنت سهل، انها كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس وان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى الصبح فوجد حبيبة بنت سهل عند بابه في الغلس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من هذه " . قالت انا حبيبة بنت سهل يا رسول الله . قال " ما شانك " . قالت لا انا ولا ثابت بن قيس . لزوجها فلما جاء ثابت بن قيس قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذه حبيبة بنت سهل قد ذكرت ما شاء الله ان تذكر " . فقالت حبيبة يا رسول الله كل ما اعطاني عندي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لثابت " خذ منها " . فاخذ منها وجلست في اهلها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین میں کسی کمی و کوتاہی کا الزام نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے کفر و ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے اس کا باغ واپس کر دو گی؟“ ( وہ باغ انہوں نے انہیں مہر میں دیا تھا ) انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے فرمایا: ”اپنا باغ لے لو اور انہیں ایک طلاق دے دو“۔
اخبرنا ازهر بن جميل، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان امراة، ثابت بن قيس اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ثابت بن قيس اما اني ما اعيب عليه في خلق ولا دين ولكني اكره الكفر في الاسلام . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتردين عليه حديقته " . قالت نعم . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقبل الحديقة وطلقها تطليقة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی ۱؎ آپ نے فرمایا: چاہو تو طلاق دے دو، اس نے کہا میں اسے طلاق دے دیتا ہوں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس سے میرا دل اٹکا نہ رہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو اس سے اپنا کام نکالتے رہو“۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، قال حدثنا الحسين بن واقد، عن عمارة بن ابي حفصة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي لا تمنع يد لامس . فقال " غربها ان شيت " . قال اني اخاف ان تتبعها نفسي . قال " استمتع بها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو کسی کو ہاتھ لگانے سے نہیں روکتی، آپ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو“۔ اس نے کہا: میں اس کے بغیر رہ نہیں پاؤں گا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو اسے رہنے دو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، اس کا متصل ہونا غلط ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا النضر بن شميل، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال انبانا هارون بن رياب، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابن عباس، ان رجلا، قال يا رسول الله ان تحتي امراة لا ترد يد لامس قال " طلقها " . قال اني لا اصبر عنها . قال " فامسكها " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا والصواب مرسل
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عجلان کا ایک شخص عویمر میرے پاس آیا اور کہنے لگا: عاصم! بھلا بتاؤ تو صحیح؟ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو دیکھتا ہے، اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے تو کیا تم لوگ اسے قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟ عاصم میرے واسطے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو تو عاصم رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو برا جانا اور ناپسند کیا، عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: عاصم! کیا کیا تو نے؟ ( مسئلہ پوچھا یا نہیں؟ ) انہوں نے کہا: میں نے کیا تو ( یعنی پوچھا تو ) لیکن تو اچھا سوال لے کر نہیں آیا تھا ( جواب کیا ملتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند کیا اور برا مانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھ کر رہوں گا ( یہ کوئی فرضی سوال نہیں امر واقع ہے ) پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں حکم نازل فرما دیا ہے۔ تو ( جاؤ ) اسے لے کر آؤ“، سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، وہ اسے لے کر آئے اور دونوں نے لعان کیا ۱؎۔ پھر اس نے ( یعنی عویمر نے ) کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی اگر میں نے اسے اپنے پاس رکھا تو میں اس پر تہمت لگانے والا ٹھہروں گا ( یہ کہہ کر ) انہوں نے اسے طلاق دے کر چھوڑ دیا اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ دینے کا حکم دیتے۔ ( راوی کہتے ہیں ) پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا ( یعنی لعان کے بعد میاں بیوی دونوں جدا ہو جائیں ) ۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، وابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن سهل بن سعد، عن عاصم بن عدي، قال جاءني عويمر - رجل من بني العجلان - فقال اى عاصم ارايتم رجلا راى مع امراته رجلا ايقتله فتقتلونه ام كيف يفعل يا عاصم سل لي رسول الله صلى الله عليه وسلم . فسال عاصم عن ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فعاب رسول الله صلى الله عليه وسلم المسايل وكرهها . فجاءه عويمر فقال ما صنعت يا عاصم فقال صنعت انك لم تاتني بخير كره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسايل وعابها . قال عويمر والله لاسالن عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم . فانطلق الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد انزل الله عز وجل فيك وفي صاحبتك فايت بها " . قال سهل وانا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء بها فتلاعنا فقال يا رسول الله والله لين امسكتها لقد كذبت عليها . ففارقها قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم بفراقها فصارت سنة المتلاعنين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور اس وقت اس کی بیوی حاملہ تھی۔
حدثنا احمد بن علي، قال حدثنا محمد بن ابي بكر، قال حدثنا عمر بن علي، قال حدثنا ابراهيم بن عقبة، عن ابي الزناد، عن القاسم بن محمد، عن ابن عباس، قال لاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بين العجلاني وامراته وكانت حبلى
عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ ہشام سے ایک ایسے شخص سے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی پر زنا و بدکاری کا تہمت لگاتا ہے تو ہشام نے ( اس کے جواب میں ) محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا اور یہ سمجھ کر پوچھا کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو گا تو انہوں نے کہا: ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ٹھہرایا۔ بلال براء بن مالک کے ماں کے واسطہ سے بھائی تھے اور یہ پہلے شخص تھے جن ہوں نے لعان کیا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کا حکم دیا۔ پھر فرمایا: ”بچے پر نظر رکھو اگر وہ بچہ جنے گورا چٹا، لٹکے ہوئے بالوں اور خراب آنکھوں والا تو سمجھو کہ وہ ہلال بن امیہ کا بیٹا ہے اور اگر وہ سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی ٹانگوں والا بچہ جنے تو ( سمجھو ) وہ شریک بن سحماء کا ہے۔“ وہ ( یعنی انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں والا، گھونگھریالے بالوں والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ چنا ۲؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الاعلى، قال سيل هشام عن الرجل، يقذف امراته فحدثنا هشام، عن محمد، قال سالت انس بن مالك عن ذلك، وانا ارى، ان عنده، من ذلك علما فقال ان هلال بن امية قذف امراته بشريك ابن السحماء - وكان اخو البراء بن مالك لامه وكان اول من لاعن - فلاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما ثم قال " ابصروه فان جاءت به ابيض سبطا قضيء العينين فهو لهلال بن امية وان جاءت به اكحل جعدا احمش الساقين فهو لشريك ابن السحماء " . قال فانبيت انها جاءت به اكحل جعدا احمش الساقين