احادیث
#3454
سنن نسائی - Divorce
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں آپ کی رائے پوچھی، میرا ارادہ اسے خرید لینے کا ہے، لیکن اس کے مالکان کی طرف سے ( اپنے لیے ) ولاء ( میراث ) کی شرط لگائی گئی ہے ( پھر میں کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( اس شرط کے ساتھ بھی ) تم اسے خرید لو ( یہ شرط لغو و باطل ہے ) ولاء ( میراث ) اس شخص کا حق ہے جو آزاد کرے“۔ راوی کہتے ہیں: ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر آزاد کر دیا ) اور اسے اختیار دیا گیا ( شوہر کے ساتھ رہنے یا اسے چھوڑ دینے کا ) اس کا شوہر غلام تھا۔ یہ کہنے کے بعد راوی پھر کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ( کہ اس کا شوہر واقعی غلام تھا یا آزاد تھا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت پیش کیا گیا اور لوگوں نے بتایا کہ بریرہ کے پاس صدقہ میں آئے ہوئے گوشت میں سے یہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہ بریرہ کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ و تحفہ ہے“ ( اس لیے ہم کھا سکتے ہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى بن ابي بكير الكرماني، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، - قال وكان وصي ابيه قال وفرقت ان اقول، سمعته من، ابيك - قالت عايشة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بريرة واردت ان اشتريها واشترط الولاء لاهلها فقال " اشتريها فان الولاء لمن اعتق " . قال وخيرت وكان زوجها عبدا ثم قال بعد ذلك ما ادري واتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم . فقالوا هذا مما تصدق به على بريرة . قال " هو لها صدقة ولنا هدية
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3454
- Book Index
- 66
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
