احادیث
#3511
سنن نسائی - Divorce
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی عورت کے متعلق پوچھا گیا جس نے اپنے شوہر کے انتقال کے بیس رات بعد بچہ جنا، کیا اس کے لیے نکاح کر لینا جائز و درست ہو گا؟ انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں جب تک کہ دونوں عدتوں میں سے بعد میں مکمل ہونے والی عدت کو پوری نہ کر لے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» یعنی ”جن کے پیٹ میں بچہ ہے ان کی عدت یہ ہے کہ بچہ جن دیں“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حکم مطلقہ ( حاملہ ) کا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے ابوسلمہ کے ساتھ ہوں ( یعنی ابوسلمہ جو کہتے ہیں وہی میرے نزدیک بھی صحیح اور بہتر ہے ) اس گفتگو کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو بھیجا کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا اس سلسلے میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت موجود ہے؟ کریب ان کے پاس آئے اور انہیں ( ساری بات ) بتائی، تو انہوں نے کہا: ہاں، سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد کی بیس راتیں گزرنے کے بعد بچہ جنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شادی کرنے کی اجازت دی، اور ابوسنابل رضی اللہ عنہ انہیں لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اسے شادی کا پیغام دیا تھا۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا حجاج، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال قيل لابن عباس في امراة وضعت بعد وفاة زوجها بعشرين ليلة ايصلح لها ان تزوج قال لا الا اخر الاجلين . قال قلت قال الله تبارك وتعالى { واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن } فقال انما ذلك في الطلاق . فقال ابو هريرة انا مع ابن اخي . يعني ابا سلمة . فارسل غلامه كريبا فقال ايت ام سلمة فسلها هل كان هذا سنة من رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فقال قالت نعم سبيعة الاسلمية وضعت بعد وفاة زوجها بعشرين ليلة فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تزوج فكان ابو السنابل فيمن يخطبها
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3511
- Book Index
- 123
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
