احادیث
#3521
سنن نسائی - Divorce
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کوفہ میں انصار کی ایک بڑی مجلس میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، اس مجلس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلی بھی موجود تھے، ان لوگوں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ چھیڑا تو میں نے عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کی روایت کا ذکر کیا جو ( روایت ) ابن عون کے قول «حتیٰ تضع» کے معنی اور حق میں تھی ( یعنی حمل والی عورت کی عدت وضع حمل ہے ) ، ( اس بات پر ) ابن ابی لیلیٰ نے کہا: لیکن ان کے ( یعنی عبداللہ بن عتبہ کے ) چچا ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) اس کے قائل نہ تھے ( کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے بلکہ وہ زیادہ مدت والی عدت کے قائل تھے ) تب میں نے اپنی آواز بلند کی اور ( زور سے ) کہا: کیا میں جرات کر سکتا ہوں کہ عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹا الزام لگاؤں ( یہ نہیں ہو سکتا ) وہ ( عبداللہ بن عتبہ ) کوفہ کے علاقے میں موجود ہیں ( جس کو ذرا بھی شک و شبہ ہو وہ ان سے پوچھ سکتا ہے ) پھر میں مالک ( بن عامر ابن عود ) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سبیعہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں کیا کہتے تھے؟ مالک نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ اس پر سختی اور تنگی ڈالتے ہو ( اس سے زیادہ مدت والی عدت پر عمل کرانا چاہتے ہو ) اور اسے رخصت سے فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہتے۔ جب کہ چھوٹی سورۃ النساء ( یعنی سورۃ الطلاق، جس میں حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل بتائی گئی ہے ) بڑی سورۃ ( بقرہ ) کے بعد اتری ہے ۱؎۔
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3521
- Book Index
- 133
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari