احادیث
#3480
سنن نسائی - Divorce
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟“، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیا ہیں؟“، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟“، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟“، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو ( یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو“۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا ابو حيوة، - حمصي - قال حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قام رجل فقال يا رسول الله اني ولد لي غلام اسود . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فانى كان ذلك " . قال ما ادري قال " فهل لك من ابل " . قال نعم . قال " فما الوانها " . قال حمر . قال " فهل فيها جمل اورق " . قال فيها ابل ورق . قال " فانى كان ذلك " . قال ما ادري يا رسول الله الا ان يكون نزعه عرق . قال " وهذا لعله نزعه عرق " . فمن اجله قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا لا يجوز لرجل ان ينتفي من ولد ولد على فراشه الا ان يزعم انه راى فاحشة
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3480
- Book Index
- 92
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
