احادیث
#3488
سنن نسائی - Divorce
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر ( پاکی ) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا ( جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے ) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کر دیا ( اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا ) ۱؎ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ۲؎۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا الثوري، عن صالح الهمداني، عن الشعبي، عن عبد خير، عن زيد بن ارقم، قال اتي علي رضى الله عنه بثلاثة وهو باليمن وقعوا على امراة في طهر واحد فسال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . ثم سال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . فاقرع بينهم فالحق الولد بالذي صارت عليه القرعة وجعل عليه ثلثى الدية فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك حتى بدت نواجذه
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3488
- Book Index
- 100
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
