احادیث
#3475
سنن نسائی - Divorce
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کسی نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا ( تو کیا کرے ) ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے ایک مرد اور عورت کے مابین تفریق کر دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کا ارادہ رکھتا ہے“، آپ نے یہ بات ان دونوں سے تین بار کہی پھر بھی ان دونوں نے ( توبہ کرنے سے ) انکار کیا تو آپ نے ان دونوں کے مابین جدائی کر دی۔ ( ایوب کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے کہا: اس حدیث میں ایک ایسی بات ہے، میں نہیں سمجھتا کہ تم اسے بیان کرو گے؟ کہتے ہیں: اس شخص نے کہا: میرے مال کا کیا ہو گا ( ملے گا یا نہیں ) ؟ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ تو اپنی بات میں سچا ہو پھر بھی تیرا مال تجھے واپس نہیں ملے گا کیونکہ تو اس کے ساتھ دخول کر چکا ہے اور اگر اپنی بات میں تو جھوٹا ہے تو تیری جانب مال کا واپس ہونا بعید ترشئی ہے“ ۱؎۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عمر رجل قذف امراته . قال فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب فهل منكما تايب " . قال لهما ثلاثا فابيا ففرق بينهما . قال ايوب وقال عمرو بن دينار ان في هذا الحديث شييا لا اراك تحدث به قال قال الرجل مالي قال " لا مال لك ان كنت صادقا فقد دخلت بها وان كنت كاذبا فهي ابعد منك
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3475
- Book Index
- 87
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
