Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ۳- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہو جاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت فتلت قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لم يحرم ولم يترك شييا من الثياب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قالوا اذا قلد الرجل الهدى وهو يريد الحج لم يحرم عليه شيء من الثياب والطيب حتى يحرم . وقال بعض اهل العلم اذا قلد الرجل هديه فقد وجب عليه ما وجب على المحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے سارے قلادے ( پٹے ) میں ہی بٹتی تھی ۱؎ پھر آپ احرام نہ باندھتے ( حلال ہی رہتے تھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، وہ بکریوں کے قلادہ پہنانے کے قائل ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم كلها غنما ثم لا يحرم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يرون تقليد الغنم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں نحر ( ذبح ) کر دو، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون میں لت پت کر دو، پھر انہیں لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ ان کا گوشت کھائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ناجیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خزاعی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نفلی ہدی کا جانور جب مرنے لگے تو نہ وہ خود اسے کھائے اور نہ اس کے سفر کے ساتھی کھائیں۔ وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے، کہ وہ اسے کھائیں۔ یہی اس کے لیے کافی ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو جتنا اس نے اس میں سے کھایا ہے اسی کے بقدر وہ تاوان دے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ نفلی ہدی کے جانور میں سے کچھ کھا لے تو جس نے کھایا وہ اس کا ضامن ہو گا۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ناجية الخزاعي، صاحب بدن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت يا رسول الله كيف اصنع بما عطب من البدن قال " انحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم خل بين الناس وبينها فياكلوها " . وفي الباب عن ذويب ابي قبيصة الخزاعي . قال ابو عيسى حديث ناجية حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم قالوا في هدى التطوع اذا عطب لا ياكل هو ولا احد من اهل رفقته ويخلى بينه وبين الناس ياكلونه وقد اجزا عنه . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقالوا ان اكل منه شييا غرم بقدر ما اكل منه . وقال بعض اهل العلم اذا اكل من هدى التطوع شييا فقد ضمن الذي اكل
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کے اونٹ ہانکتے دیکھا، تو اسے حکم دیا ”اس پر سوار ہو جاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہدی کا اونٹ ہے، پھر آپ نے اس سے تیسری یا چوتھی بار میں کہا: ”اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎ یا تمہاری ہلاکت ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوہریرہ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہ میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کی اجازت دی ہے، جب کہ وہ اس کا محتاج ہو، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- بعض کہتے ہیں: جب تک مجبور نہ ہو ہدی کے جانور پر سوار نہ ہو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة فقال له " اركبها " . فقال يا رسول الله انها بدنة . قال له في الثالثة او في الرابعة " اركبها ويحك " . او " ويلك " . قال وفي الباب عن علي وابي هريرة وجابر . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وقد رخص قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في ركوب البدنة اذا احتاج الى ظهرها . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم لا يركب ما لم يضطر اليها
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کر لی تو اپنے ہدی کے اونٹ نحر ( ذبح ) کیے۔ پھر سر مونڈنے والے کو اپنے سر کا داہنا جانب ۱؎ دیا اور اس نے سر مونڈا، تو یہ بال آپ نے ابوطلحہ کو دئیے، پھر اپنا بایاں جانب اسے دیا تو اس نے اسے بھی مونڈا تو آپ نے فرمایا: ”یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو“ ۲؎۔ ابن ابی عمر کی سند سے ہشام سے اسی طرح حدیث روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن حسان، عن ابن سيرين، عن انس بن مالك، قال لما رمى النبي صلى الله عليه وسلم الجمرة نحر نسكه ثم ناول الحالق شقه الايمن فحلقه فاعطاه ابا طلحة ثم ناوله شقه الايسر فحلقه فقال " اقسمه بين الناس " . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا، صحابہ کی ایک جماعت نے بھی سر مونڈوایا اور بعض لوگوں نے بال کتروائے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار یا دو بار فرمایا: ”اللہ سر مونڈانے والوں پر رحم فرمائے“، پھر فرمایا: ”کتروانے والوں پر بھی“ ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، قال حلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وحلق طايفة من اصحابه وقصر بعضهم . قال ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رحم الله المحلقين " . مرة او مرتين ثم قال " والمقصرين " . قال وفي الباب عن ابن عباس وابن ام الحصين ومارب وابي سعيد وابي مريم وحبشي بن جنادة وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم يختارون للرجل ان يحلق راسه وان قصر يرون ان ذلك يجزي عنه . وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنا سر مونڈوائے۔
حدثنا محمد بن موسى الجرشي البصري، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا همام، عن قتادة، عن خلاس بن عمرو، عن علي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تحلق المراة راسها
اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی رضی الله عنہ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر ( بال کتروانا ) ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، عن همام، عن خلاس، نحوه . ولم يذكر فيه عن علي، . قال ابو عيسى حديث علي فيه اضطراب . وروي هذا الحديث، عن حماد بن سلمة، عن قتادة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان تحلق المراة راسها . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون على المراة حلقا ويرون ان عليها التقصير
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”اب ذبح کر لو کوئی حرج نہیں“ ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر ( ذبح ) کر لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس، ابن عمر، اسامہ بن شریک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کسی نسک کو یعنی رمی یا نحر یا حلق وغیرہ میں سے کسی ایک کو دوسرے سے پہلے کر لے تو اس پر دم ( ذبیحہ ) لازم ہو گا ( مگر یہ بات بغیر دلیل کے ہے ) ۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وابن ابي عمر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عيسى بن طلحة، عن عبد الله بن عمرو، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال حلقت قبل ان اذبح فقال " اذبح ولا حرج " . وساله اخر فقال نحرت قبل ان ارمي قال " ارم ولا حرج " . قال وفي الباب عن علي وجابر وابن عباس وابن عمر واسامة بن شريك . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا قدم نسكا قبل نسك فعليه دم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، جانور ذبح کر لے، اور سر مونڈا لے یا بال کتروا لے تو اب اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہو گئی جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ اس کے لیے ہر چیز حلال ہو گئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، اور یہی کوفہ والوں کا بھی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا منصور يعني ابن زاذان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل ان يحرم ويوم النحر قبل ان يطوف بالبيت بطيب فيه مسك . وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يرون ان المحرم اذا رمى جمرة العقبة يوم النحر وذبح وحلق او قصر فقد حل له كل شيء حرم عليه الا النساء . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقد روي عن عمر بن الخطاب انه قال حل له كل شيء الا النساء والطيب . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول اهل الكوفة
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے منیٰ تک اپنا ردیف بنایا ( یعنی آپ مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر لے گئے ) آپ برابر تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ ( عقبہ ) کی رمی کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فضل رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن مسعود، اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حاجی تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ جمرہ کی رمی نہ کر لے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، عن الفضل بن عباس، قال اردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم من جمع الى منى فلم يزل يلبي حتى رمى الجمرة . وفي الباب عن علي وابن مسعود وابن عباس . قال ابو عيسى حديث الفضل حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الحاج لا يقطع التلبية حتى يرمي الجمرة . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کر لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کر لے، ۴- بعض کہتے ہیں کہ جب مکے کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بند کر دے۔ لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مذکورہ ) حدیث پر ہے۔ یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا هشيم، عن ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن ابن عباس، يرفع الحديث انه كان يمسك عن التلبية، في العمرة اذا استلم الحجر . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم قالوا لا يقطع المعتمر التلبية حتى يستلم الحجر . وقال بعضهم اذا انتهى الى بيوت مكة قطع التلبية . والعمل على حديث النبي صلى الله عليه وسلم وبه يقول سفيان والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲؎، ۲- بعض اہل علم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے۔ اور بعض نے دسویں ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن بعض نے اُسے منیٰ کے آخری دن تک مؤخر کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن ابن عباس، وعايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اخر طواف الزيارة الى الليل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رخص بعض اهل العلم في ان يوخر طواف الزيارة الى الليل واستحب بعضهم ان يزور يوم النحر ووسع بعضهم ان يوخر ولو الى اخر ايام منى
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی الله عنہم ابطح ۱؎ میں قیام کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اسے صرف عبدالرزاق کی سند سے جانتے ہیں، وہ عبیداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ، ابورافع اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم نے ابطح میں قیام کو مستحب قرار دیا ہے، واجب نہیں، جو چاہے وہاں قیام کرے، ۴- شافعی کہتے ہیں: ابطح کا قیام حج کے مناسک میں سے نہیں ہے۔ یہ تو بس ایک مقام ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان ينزلون الابطح . قال وفي الباب عن عايشة وابي رافع وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث صحيح حسن غريب انما نعرفه من حديث عبد الرزاق عن عبيد الله بن عمر . وقد استحب بعض اهل العلم نزول الابطح من غير ان يروا ذلك واجبا الا من احب ذلك . قال الشافعي ونزول الابطح ليس من النسك في شيء انما هو منزل نزله النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وادی محصب میں قیام کوئی چیز نہیں ۱؎، یہ تو بس ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «تحصیب» کے معنی ابطح میں قیام کرنے کے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس، قال ليس التحصيب بشيء انما هو منزل نزله رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى التحصيب نزول الابطح . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابطح میں قیام فرمایا اس لیے کہ یہاں سے ( مدینے کے لیے ) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا اور سفیان نے ہشام بن عروہ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حبيب المعلم، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت انما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم الابطح لانه كان اسمح لخروجه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، نحوه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھا کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس پر بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور اجر تجھے ملے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن طريف الكوفي، حدثنا ابو معاوية، عن محمد بن سوقة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال رفعت امراة صبيا لها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله الهذا حج قال " نعم ولك اجر " . قال وفي الباب عن ابن عباس . حديث جابر حديث غريب
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن محمد بن يوسف، عن السايب بن يزيد، قال حج بي ابي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وانا ابن سبع سنين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حدثنا قتيبة، حدثنا قزعة بن سويد الباهلي، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . يعني حديث محمد بن طريف . قال ابو عيسى وقد روي عن محمد بن المنكدر عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وقد اجمع اهل العلم ان الصبي اذا حج قبل ان يدرك فعليه الحج اذا ادرك لا تجزي عنه تلك الحجة عن حجة الاسلام وكذلك المملوك اذا حج في رقه ثم اعتق فعليه الحج اذا وجد الى ذلك سبيلا ولا يجزي عنه ما حج في حال رقه . وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم عورتوں کی طرف سے تلبیہ کہتے اور بچوں کی طرف سے رمی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسرا تلبیہ نہیں کہے گا، بلکہ وہ خود ہی تلبیہ کہے گی البتہ اس کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل الواسطي، قال سمعت ابن نمير، عن اشعث بن سوار، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كنا اذا حججنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فكنا نلبي عن النساء ونرمي عن الصبيان . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وقد اجمع اهل العلم على ان المراة لا يلبي عنها غيرها بل هي تلبي عن نفسها ويكره لها رفع الصوت بالتلبية