احادیث
#910
سنن ترمذی - Hajj
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں نحر ( ذبح ) کر دو، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون میں لت پت کر دو، پھر انہیں لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ ان کا گوشت کھائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ناجیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خزاعی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نفلی ہدی کا جانور جب مرنے لگے تو نہ وہ خود اسے کھائے اور نہ اس کے سفر کے ساتھی کھائیں۔ وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے، کہ وہ اسے کھائیں۔ یہی اس کے لیے کافی ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو جتنا اس نے اس میں سے کھایا ہے اسی کے بقدر وہ تاوان دے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ نفلی ہدی کے جانور میں سے کچھ کھا لے تو جس نے کھایا وہ اس کا ضامن ہو گا۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ناجية الخزاعي، صاحب بدن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت يا رسول الله كيف اصنع بما عطب من البدن قال " انحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم خل بين الناس وبينها فياكلوها " . وفي الباب عن ذويب ابي قبيصة الخزاعي . قال ابو عيسى حديث ناجية حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم قالوا في هدى التطوع اذا عطب لا ياكل هو ولا احد من اهل رفقته ويخلى بينه وبين الناس ياكلونه وقد اجزا عنه . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقالوا ان اكل منه شييا غرم بقدر ما اكل منه . وقال بعض اهل العلم اذا اكل من هدى التطوع شييا فقد ضمن الذي اكل
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #910
- Book Index
- 103
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
