Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ محمد بن بشار نے ( «حدثنا» کے بجائے ) «قال یحییٰ» کہا ہے۔ اور صحیح سفیان والی روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث جسے سفیان نے روایت کی ہے اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور سفیان کی حدیث صحیح حسن ہے، ۲- اسرائیل نے یہ حدیث ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور عبداللہ اور خالد نے ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سعید بن جبیر کی حدیث جسے انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، رہے ابواسحاق سبیعی تو انہوں نے اسے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور ان دونوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوایوب، عبداللہ بن سعید، جابر اور اسامہ بن زید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس لیے کہ مغرب مزدلفہ آنے سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی، جب حجاج جمع ۱؎ یعنی مزدلفہ جائیں تو دونوں نمازیں ایک اقامت سے اکٹھی پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھیں گے۔ یہی مسلک ہے جسے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے اور اس کی طرف گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری کا بھی قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہے تو مغرب پڑھے پھر شام کا کھانا کھائے، اور اپنے کپڑے اتارے پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کے لیے اذان کہے اور تکبیر کہے اور مغرب پڑھے، پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے یہ شافعی کا قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله . قال محمد بن بشار قال يحيى والصواب حديث سفيان . قال وفي الباب عن علي وابي ايوب وعبد الله بن مسعود وجابر واسامة بن زيد . قال ابو عيسى حديث ابن عمر في رواية سفيان اصح من رواية اسماعيل بن ابي خالد وحديث سفيان حديث صحيح حسن . قال ابو عيسى وروى اسراييل هذا الحديث عن ابي اسحاق عن عبد الله وخالد ابنى مالك عن ابن عمر . وحديث سعيد بن جبير عن ابن عمر هو حديث حسن صحيح ايضا رواه سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير . واما ابو اسحاق فرواه عن عبد الله وخالد ابنى مالك عن ابن عمر . والعمل على هذا عند اهل العلم لانه لا تصلى صلاة المغرب دون جمع فاذا اتى جمعا وهو المزدلفة جمع بين الصلاتين باقامة واحدة ولم يتطوع فيما بينهما وهو الذي اختاره بعض اهل العلم وذهب اليه . وهو قول سفيان الثوري . قال سفيان وان شاء صلى المغرب ثم تعشى ووضع ثيابه ثم اقام فصلى العشاء . وقال بعض اهل العلم يجمع بين المغرب والعشاء بالمزدلفة باذان واقامتين يوذن لصلاة المغرب ويقيم ويصلي المغرب ثم يقيم ويصلي العشاء . وهو قول الشافعي . قال ابو عيسى وروى اسراييل هذا الحديث عن ابي اسحق عن عبد الله وخالد ابني مالك عن ابن عمر وحديث سعيد بن جبير عن ابن عمر هو حديث حسن صحيح ايضا رواه سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير واما ابو اسحق فرواه عن عبد الله وخالد ابني مالك عن ابن عمر
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔ انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ۱؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آ جائے، اس نے حج کو پا لیا ۲؎ منی کے تین دن ہیں، جو جلدی کرے اور دو دن ہی میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو دیر کرے تیسرے دن جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ ( یحییٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایا اور اس نے آواز لگائی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا سفيان، عن بكير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يعمر، ان ناسا، من اهل نجد اتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بعرفة فسالوه فامر مناديا فنادى " الحج عرفة من جاء ليلة جمع قبل طلوع الفجر فقد ادرك الحج ايام منى ثلاثة فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه " . قال محمد وزاد يحيى واردف رجلا فنادى
ابن ابی عمر نے بسند سفیان بن عیینہ عن سفیان الثوری عن بکیر بن عطاء عن عبدالرحمٰن بن یعمر عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: قال سفیان بن عیینہ، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جسے سفیان ثوری نے روا ابن ابی عمر نے بسند «سفيان الثوري عن بكير بن عطاء عن عبدالرحمٰن بن يعمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: «قال سفيان بن عيينة»، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جسے سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ نے بھی بکیر بن عطا سے ثوری ہی کی طرح روایت کی ہے، ۲- وکیع نے اس حدیث کا ذکر کیا تو کہا کہ یہ حدیث حج کے سلسلہ میں ”ام المناسک“ کی حیثیت رکھتی ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر ہے کہ ”جو طلوع فجر سے پہلے عرفات میں نہیں ٹھہرا، اس کا حج فوت ہو گیا، اور اگر وہ طلوع فجر کے بعد آئے تو یہ اسے کافی نہیں ہو گا۔ اسے عمرہ بنا لے اور اگلے سال حج کرے“، یہ ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سفيان الثوري، عن بكير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن يعمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . وقال ابن ابي عمر قال سفيان بن عيينة وهذا اجود حديث رواه سفيان الثوري . قال ابو عيسى والعمل على حديث عبد الرحمن بن يعمر عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم انه من لم يقف بعرفات قبل طلوع الفجر فقد فاته الحج ولا يجزي عنه ان جاء بعد طلوع الفجر ويجعلها عمرة وعليه الحج من قابل . وهو قول الثوري والشافعي واحمد واسحاق . قال ابو عيسى وقد روى شعبة عن بكير بن عطاء نحو حديث الثوري . قال وسمعت الجارود يقول سمعت وكيعا انه ذكر هذا الحديث فقال هذا الحديث ام المناسك
عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام الطائی رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ آیا، جس وقت آپ نماز کے لیے نکلے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قبیلہ طی کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو اور خود اپنے کو خوب تھکا دیا ہے، اللہ کی قسم! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جہاں میں نے ( یہ سوچ کر کہ عرفات کا ٹیلہ ہے ) وقوف نہ کیا ہو تو کیا میرا حج ہو گیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی ہماری اس نماز میں حاضر رہا اور اس نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم یہاں سے روانہ ہوں اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفہ میں وقوف کر چکا ہو ۱؎ تو اس نے اپنا حج پورا کر لیا، اور اپنا میل کچیل ختم کر لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- «تَفَثَهُ» کے معنی «نسكه» کے ہیں یعنی مناسک حج کے ہیں۔ اور اس کے قول: «ما تركت من حبل إلا وقفت عليه» ”کوئی ٹیلہ ایسا نہ تھا جہاں میں نے وقوف نہ کیا ہو“ کے سلسلے میں یہ ہے کہ جب ریت کا ٹیلہ ہو تو اسے حبل اور جب پتھر کا ہو تو اسے جبل کہتے ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن داود بن ابي هند، واسماعيل بن ابي خالد، وزكريا بن ابي زايدة، عن الشعبي، عن عروة بن مضرس بن اوس بن حارثة بن لام الطايي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمزدلفة حين خرج الى الصلاة فقلت يا رسول الله اني جيت من جبلى طيي اكللت راحلتي واتعبت نفسي والله ما تركت من حبل الا وقفت عليه فهل لي من حج فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شهد صلاتنا هذه ووقف معنا حتى ندفع وقد وقف بعرفة قبل ذلك ليلا او نهارا فقد اتم حجه وقضى تفثه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال قوله " تفثه " . يعني نسكه . قوله " ما تركت من حبل الا وقفت عليه " . اذا كان من رمل يقال له حبل واذا كان من حجارة يقال له جبل
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثقل من جمع بليل . قال وفي الباب عن عايشة وام حبيبة واسماء بنت ابي بكر والفضل بن عباس
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن المسعودي، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قدم ضعفة اهله وقال " لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس " . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم لم يروا باسا ان يتقدم الضعفة من المزدلفة بليل يصيرون الى منى . وقال اكثر اهل العلم بحديث النبي صلى الله عليه وسلم انهم لا يرمون حتى تطلع الشمس . ورخص بعض اهل العلم في ان يرموا بليل . والعمل على حديث النبي صلى الله عليه وسلم انهم لا يرمون . وهو قول الثوري والشافعي . . قال ابو عيسى حديث ابن عباس بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثقل حديث صحيح روي عنه من غير وجه . وروى شعبة هذا الحديث عن مشاش عن عطاء عن ابن عباس عن الفضل بن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم قدم ضعفة اهله من جمع بليل . وهذا حديث خطا اخطا فيه مشاش وزاد فيه عن الفضل بن عباس . وروى ابن جريج وغيره هذا الحديث عن عطاء عن ابن عباس . ولم يذكروا فيه عن الفضل بن عباس . ومشاش بصري روى عنه شعبة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو ( ٹھنڈی ) چاشت کے وقت رمی کرتے تھے اور اس کے بعد زوال کے بعد کرتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ وہ دسویں ذی الحجہ کے زوال بعد کے بعد ہی رمی کرے۔
حدثنا علي بن خشرم، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يرمي يوم النحر ضحى واما بعد ذلك فبعد زوال الشمس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اكثر اهل العلم انه لا يرمي بعد يوم النحر الا بعد الزوال
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مزدلفہ سے ) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن الاعمش، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم افاض قبل طلوع الشمس . قال وفي الباب عن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وانما كان اهل الجاهلية ينتظرون حتى تطلع الشمس ثم يفيضون
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے: ثبیر! تو روشن ہو جا ( تب ہم لوٹیں گے ) ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی، چنانچہ عمر رضی الله عنہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت عمرو بن ميمون، يحدث يقول كنا وقوفا بجمع فقال عمر بن الخطاب ان المشركين كانوا لا يفيضون حتى تطلع الشمس وكانوا يقولون اشرق ثبير . وان رسول الله صلى الله عليه وسلم خالفهم . فافاض عمر قبل طلوع الشمس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایسی کنکریوں سے رمی جمار کر رہے تھے جو انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے درمیان پکڑی جا سکتی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سلیمان بن عمرو بن احوص ( جو اپنی ماں ام جندب ازدیہ سے روایت کرتے ہیں ) ، ابن عباس، فضل بن عباس، عبدالرحمٰن بن عثمان تمیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ کنکریاں جن سے رمی کی جاتی ہے ایسی ہوں جو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑی جا سکیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمي الجمار بمثل حصى الخذف . قال وفي الباب عن سليمان بن عمرو بن الاحوص عن امه وهي ام جندب الازدية وابن عباس والفضل بن عباس وعبد الرحمن بن عثمان التيمي وعبد الرحمن بن معاذ . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو الذي اختاره اهل العلم ان تكون الجمار التي يرمى بها مثل حصى الخذف
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي البصري، حدثنا زياد بن عبد الله، عن الحجاج، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمي الجمار اذا زالت الشمس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر، قدامہ بن عبداللہ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ( رضی الله عنہم ) سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں، ۵- ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے، ۶- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، اخبرنا الحجاج، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم رمى الجمرة يوم النحر راكبا . قال وفي الباب عن جابر وقدامة بن عبد الله وام سليمان بن عمرو بن الاحوص . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم واختار بعضهم ان يمشي الى الجمار . وقد روي عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يمشي الى الجمار . ووجه هذا الحديث عندنا انه ركب في بعض الايام ليقتدى به في فعله وكلا الحديثين مستعمل عند اهل العلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی جمار کرتے، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ ( العمری ) سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہو سکتا ہے، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی اتباع ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا ابن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا رمى الجمار مشى اليها ذاهبا وراجعا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه بعضهم عن عبيد الله ولم يرفعه . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وقال بعضهم يركب يوم النحر ويمشي في الايام التي بعد يوم النحر . قال ابو عيسى وكان من قال هذا انما اراد اتباع النبي صلى الله عليه وسلم في فعله لانه انما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه ركب يوم النحر حيث ذهب يرمي الجمار ولا يرمي يوم النحر الا جمرة العقبة
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر اپنے داہنے ابرو کے مقابل رمی شروع کی۔ پھر سات کنکریوں سے رمی کی۔ ہر کنکری پر وہ ”اللہ اکبر“ کہتے تھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس ذات نے بھی یہیں سے رمی کی جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں فضل بن عباس، ابن عباس، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کے نزدیک پسندیدہ یہی ہے کہ آدمی بطن وادی میں کھڑے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کرے اور ہر کنکری پر ”اللہ اکبر“ کہے، ۴- اور بعض اہل علم نے اجازت دی ہے کہ اگر بطن وادی سے رمی کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی جگہ سے کرے جہاں سے وہ اس پر قادر ہو گو وہ بطن وادی میں نہ ہو۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا المسعودي، عن جامع بن شداد ابي صخرة، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال لما اتى عبد الله جمرة العقبة استبطن الوادي واستقبل القبلة وجعل يرمي الجمرة على حاجبه الايمن ثم رمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ثم قال والله الذي لا اله الا هو من ها هنا رمى الذي انزلت عليه سورة البقرة . حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن المسعودي، بهذا الاسناد نحوه . قال وفي الباب عن الفضل بن عباس وابن عباس وابن عمر وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم يختارون ان يرمي الرجل من بطن الوادي بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة . وقد رخص بعض اهل العلم ان لم يمكنه ان يرمي من بطن الوادي رمى من حيث قدر عليه وان لم يكن في بطن الوادي
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، وعلي بن خشرم، قالا حدثنا عيسى بن يونس، عن عبيد الله بن ابي زياد، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما جعل رمى الجمار والسعى بين الصفا والمروة لاقامة ذكر الله " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک اونٹنی پر جمرات کی رمی کر رہے تھے، نہ لوگوں کو دھکیلنے اور ہانکنے کی آواز تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قدامہ بن عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اسی طریق سے جانی جاتی ہے، یہ ایمن بن نابل کی حدیث ہے۔ اور ایمن اہل حدیث ( محدثین ) کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن حنظلہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن معاوية، عن ايمن بن نابل، عن قدامة بن عبد الله، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يرمي الجمار على ناقة ليس ضرب ولا طرد ولا اليك اليك . قال وفي الباب عن عبد الله بن حنظلة . قال ابو عيسى حديث قدامة بن عبد الله حديث حسن صحيح . وانما يعرف هذا الحديث من هذا الوجه وهو حديث ايمن بن نابل وهو ثقة عند اهل الحديث
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر ( ذبح ) کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہو گی۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی اور احمد کا قول ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہو گا ۱؎۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں ( ملاحظہ ہو آنے والی حدیث:)
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نحرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم عام الحديبية البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة وعايشة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يرون الجزور عن سبعة والبقرة عن سبعة . وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد . وروي عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم ان البقرة عن سبعة والجزور عن عشرة . وهو قول اسحاق واحتج بهذا الحديث . وحديث ابن عباس انما نعرفه من وجه واحد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ عید الاضحی کا دن آ گیا، چنانچہ گائے میں ہم سات سات لوگ اور اونٹ میں دس دس لوگ شریک ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حسین بن واقد کی حدیث ( روایت ) ہے۔
حدثنا الحسين بن حريث، وغير، واحد، قالوا حدثنا الفضل بن موسى، عن حسين بن واقد، عن علباء بن احمر، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر . فحضر الاضحى فاشتركنا في البقرة سبعة وفي الجزور عشرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وهو حديث حسين بن واقد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں ( ہدی کے جانور کو ) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ۱؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اشعار کے قائل ہیں۔ یہی ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۳- یوسف بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع کو کہتے سنا جس وقت انہوں نے یہ حدیث روایت کی کہ اس سلسلے میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ۴- میں نے ابوسائب کو کہتے سنا کہ ہم لوگ وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے جو ان لوگوں میں سے تھا جو رائے میں غور و فکر کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ مثلہ ہے تو اس آدمی نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ اشعار مثلہ ہے، ابوسائب کہتے ہیں: تو میں نے وکیع کو دیکھا کہ ( اس کی اس بات سے ) وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا: میں تم سے کہتا ہوں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے“ اور تم کہتے ہو: ابراہیم نے کہا: تم تو اس لائق ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے پھر اس وقت تک قید سے تمہیں نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ ۲؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن هشام الدستوايي، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قلد نعلين واشعر الهدى في الشق الايمن بذي الحليفة واماط عنه الدم . قال وفي الباب عن المسور بن مخرمة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وابو حسان الاعرج اسمه مسلم . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يرون الاشعار . وهو قول الثوري والشافعي واحمد واسحاق . قال ابو عيسى سمعت يوسف بن عيسى يقول سمعت وكيعا يقول حين روى هذا الحديث قال لا تنظروا الى قول اهل الراى في هذا فان الاشعار سنة وقولهم بدعة . قال وسمعت ابا السايب يقول كنا عند وكيع فقال لرجل عنده ممن ينظر في الراى اشعر رسول الله صلى الله عليه وسلم ويقول ابو حنيفة هو مثلة . قال الرجل فانه قد روي عن ابراهيم النخعي انه قال الاشعار مثلة . قال فرايت وكيعا غضب غضبا شديدا وقال اقول لك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقول قال ابراهيم ما احقك بان تحبس ثم لا تخرج حتى تنزع عن قولك هذا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں: اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ۱؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۲؎۔
حدثنا قتيبة، وابو سعيد الاشج قالا حدثنا يحيى بن اليمان، عن سفيان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى هديه من قديد . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث الثوري الا من حديث يحيى بن اليمان . وروي عن نافع ان ابن عمر اشترى هديه من قديد . قال ابو عيسى وهذا اصح