Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! رات دن کے کسی بھی حصہ میں کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جبیر مطعم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن ابی نجیح نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- مکے میں عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۱؎ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ۲؎ سے دلیل لی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر کوئی عصر کے بعد طواف کرے تو سورج ڈوبنے تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی فجر کے بعد طواف کرے تو سورج نکلنے تک نماز نہ پڑھے۔ ان کی دلیل عمر رضی الله عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد طواف کیا اور نماز نہیں پڑھی پھر مکہ سے نکل گئے یہاں تک کہ وہ ذی طویٰ میں اترے تو سورج نکل جانے کے بعد نماز پڑھی۔ یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے۔
حدثنا ابو عمار، وعلي بن خشرم، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن عبد الله بن باباه، عن جبير بن مطعم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يا بني عبد مناف لا تمنعوا احدا طاف بهذا البيت وصلى اية ساعة شاء من ليل او نهار " . وفي الباب عن ابن عباس وابي ذر . قال ابو عيسى حديث جبير بن مطعم حديث حسن صحيح . وقد رواه عبد الله بن ابي نجيح عن عبد الله بن باباه ايضا . وقد اختلف اهل العلم في الصلاة بعد العصر وبعد الصبح بمكة فقال بعضهم لا باس بالصلاة والطواف بعد العصر وبعد الصبح . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق واحتجوا بحديث النبي صلى الله عليه وسلم هذا . وقال بعضهم اذا طاف بعد العصر لم يصل حتى تغرب الشمس وكذلك ان طاف بعد صلاة الصبح لم يصل حتى تطلع الشمس . واحتجوا بحديث عمر انه طاف بعد صلاة الصبح فلم يصل وخرج من مكة حتى نزل بذي طوى فصلى بعد ما طلعت الشمس . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کی دو رکعت میں اخلاص کی دونوں سورتیں یعنی «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھیں ۱؎۔
اخبرنا ابو مصعب المدني، قراءة عن عبد العزيز بن عمران، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا في ركعتى الطواف بسورتى الاخلاص : ( قل يا ايها الكافرون ) و ( قل هو الله احد)
محمد (محمد بن علی الباقر) سے روایت ہے کہ وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان کی جعفر بن محمد عن أبیہ کی روایت عبدالعزیز بن عمران کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- اور ( سفیان کی روایت کردہ ) جعفر بن محمد کی حدیث جسے وہ اپنے والد ( کے عمل سے ) سے روایت کرتے ہیں ( عبدالعزیز کی روایت کردہ ) جعفر بن محمد کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ اپنے والد سے اور وہ جابر سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۱؎، ۳- عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، انه كان يستحب ان يقرا، في ركعتى الطواف ب ( قل يا ايها الكافرون ) و ( قل هو الله احد ) . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث عبد العزيز بن عمران وحديث جعفر بن محمد عن ابيه في هذا اصح من حديث جعفر بن محمد عن ابيه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وعبد العزيز بن عمران ضعيف في الحديث
زید بن اثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ۱؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہو گا۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق، عن زيد بن اثيع، قال سالت عليا باى شيء بعثت قال باربع لا يدخل الجنة الا نفس مسلمة ولا يطوف بالبيت عريان ولا يجتمع المسلمون والمشركون بعد عامهم هذا ومن كان بينه وبين النبي صلى الله عليه وسلم عهد فعهده الى مدته ومن لا مدة له فاربعة اشهر . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن
ہم سے ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے بیان کیا، یہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور سفیان نے ابواسحاق سبیعی سے اسی طرح کی حدیث روایت کی، البتہ ابن ابی عمر اور نصر بن علی نے ( زید بن اثیع کے بجائے ) زید بن یثیع کہا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ کو اس میں وہم ہوا ہے، انہوں نے: زید بن اثیل کہا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، ونصر بن علي، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق، نحوه وقالا زيد بن يثيع . وهذا اصح . قال ابو عيسى وشعبة وهم فيه فقال زيد بن اثيل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکل کر گئے، آپ کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور طبیعت خوش، پھر میرے پاس لوٹ کر آئے، تو غمگین اور افسردہ تھے، میں نے آپ سے ( وجہ ) پوچھی، تو آپ نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر گیا۔ اور میری خواہش ہوئی کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ میں ڈر رہا ہوں کہ اپنے بعد میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا وكيع، عن اسماعيل بن عبد الملك، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت خرج النبي صلى الله عليه وسلم من عندي وهو قرير العين طيب النفس فرجع الى وهو حزين فقلت له فقال " اني دخلت الكعبة ووددت اني لم اكن فعلت اني اخاف ان اكون اتعبت امتي من بعدي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
بلال رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی۔ جب کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: آپ نے نماز نہیں پڑھی بلکہ آپ نے صرف تکبیر کہی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بلال رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید، فضل بن عباس، عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں: کعبے میں نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، اور انہوں نے کعبہ کے اندر فرض نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں: کعبہ کے اندر فرض اور نفل کوئی بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ نفل اور فرض کا حکم وضو اور قبلے کے بارے میں ایک ہی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، عن بلال، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى في جوف الكعبة . قال ابن عباس لم يصل ولكنه كبر . قال وفي الباب عن اسامة بن زيد والفضل بن عباس وعثمان بن طلحة وشيبة بن عثمان . قال ابو عيسى حديث بلال حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم لا يرون بالصلاة في الكعبة باسا . وقال مالك بن انس لا باس بالصلاة النافلة في الكعبة . وكره ان تصلى المكتوبة في الكعبة . وقال الشافعي لا باس ان تصلى المكتوبة والتطوع في الكعبة لان حكم النافلة والمكتوبة في الطهارة والقبلة سواء
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما نے ان سے کہا: تم مجھ سے وہ باتیں بیان کرو، جسے ام المؤمنین یعنی عائشہ رضی الله عنہا تم سے رازدارانہ طور سے بیان کیا کرتی تھیں، انہوں نے کہا: مجھ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کے لوگ جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے، تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا“، چنانچہ ابن زبیر رضی الله عنہما جب اقتدار میں آئے تو انہوں نے کعبہ گرا کر اس میں دو دروازے کر دیئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، ان ابن الزبير، قال له حدثني بما، كانت تفضي اليك ام المومنين يعني عايشة فقال حدثتني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها " لولا ان قومك حديثو عهد بالجاهلية لهدمت الكعبة وجعلت لها بابين " . قال فلما ملك ابن الزبير هدمها وجعل لها بابين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں میں چاہتی تھی کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم ۱؎ کے اندر کر دیا اور فرمایا: ”اگر تم بیت اللہ کے اندر داخل ہونا چاہتی ہو تو حطیم میں نماز پڑھ لو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے، لیکن تمہاری قوم کے لوگوں نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اسے چھوٹا کر دیا، اور اتنے حصہ کو بیت اللہ سے خارج کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن علقمة بن ابي علقمة، عن امه، عن عايشة، قالت كنت احب ان ادخل، البيت فاصلي فيه فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فادخلني الحجر فقال " صلي في الحجر ان اردت دخول البيت فانما هو قطعة من البيت ولكن قومك استقصروه حين بنوا الكعبة فاخرجوه من البيت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وعلقمة بن ابي علقمة هو علقمة بن بلال
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حجر اسود جنت سے اترا، وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، لیکن اسے بنی آدم کے گناہوں نے کالا کر دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نزل الحجر الاسود من الجنة وهو اشد بياضا من اللبن فسودته خطايا بني ادم " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ نے ان کا نور ختم کر دیا، اگر اللہ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے سارے مقام کو روشن کر دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے موقوفاً ان کا قول روایت کیا جاتا ہے، ۳- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يزيد بن زريع، عن رجاء ابي يحيى، قال سمعت مسافعا الحاجب، قال سمعت عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الركن والمقام ياقوتتان من ياقوت الجنة طمس الله نورهما ولو لم يطمس نورهما لاضاءتا ما بين المشرق والمغرب " . قال ابو عيسى هذا يروى عن عبد الله بن عمرو موقوفا قوله . وفيه عن انس ايضا وهو حديث غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ ۱؎ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھائی ۲؎ پھر آپ صبح ۳؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسماعیل بن مسلم پر ان کے حافظے کے تعلق سے لوگوں نے کلام کیا ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عبد الله بن الاجلح، عن اسماعيل بن مسلم، عن عطاء، عن ابن عباس، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم غدا الى عرفات . قال ابو عيسى واسماعيل بن مسلم قد تكلموا فيه من قبل حفظه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ۱؎، پھر آپ صبح ہی صبح ۲؎ عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے، ۲- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں، اور انہوں نے انہیں شمار کیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمار کی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی، ۳- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عبد الله بن الاجلح، عن الاعمش، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بمنى الظهر والفجر ثم غدا الى عرفات . قال وفي الباب عن عبد الله بن الزبير وانس . قال ابو عيسى حديث مقسم عن ابن عباس قال علي بن المديني قال يحيى قال شعبة لم يسمع الحكم من مقسم الا خمسة اشياء . وعدها وليس هذا الحديث فيما عد شعبة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منی میں ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں ۱؎، منیٰ میں اس کا حق ہے جو وہاں پہلے پہنچے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، ومحمد بن ابان، قالا حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابراهيم بن مهاجر، عن يوسف بن ماهك، عن امه، مسيكة عن عايشة، قالت قلنا يا رسول الله الا نبني لك بيتا يظلك بمنى قال " لا منى مناخ من سبق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی جب کہ لوگ ہمیشہ سے زیادہ مامون اور بےخوف تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حارثہ بن وہب کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ ان کے ابتدائی دور خلافت میں دو رکعتیں پڑھیں، ۴- اہل مکہ کے منیٰ میں نماز قصر کرنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ میں نماز قصر کریں ۱؎، بجز ایسے شخص کے جو منیٰ میں مسافر کی حیثیت سے ہو، یہ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اوزاعی، مالک، سفیان بن عیینہ، اور عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن وهب، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى امن ما كان الناس واكثره ركعتين . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابن عمر وانس . قال ابو عيسى حديث حارثة بن وهب حديث حسن صحيح . وروي عن ابن مسعود انه قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين ومع ابي بكر ومع عمر ومع عثمان ركعتين صدرا من امارته . وقد اختلف اهل العلم في تقصير الصلاة بمنى لاهل مكة فقال بعض اهل العلم ليس لاهل مكة ان يقصروا الصلاة بمنى الا من كان بمنى مسافرا . وهو قول ابن جريج وسفيان الثوري ويحيى بن سعيد القطان والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم لا باس لاهل مكة ان يقصروا الصلاة بمنى . وهو قول الاوزاعي ومالك وسفيان بن عيينة وعبد الرحمن بن مهدي
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری رضی الله عنہ آئے، ہم لوگ موقف ( عرفات ) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ۱؎ تو یزید بن مربع نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تم لوگ مشاعر ۲؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یزید بن مربع انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے ہم صرف ابن عیینہ کے طریق سے جانتے ہیں، اور ابن عیینہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں، ۳- ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے، ان کی صرف یہی ایک حدیث جانی جاتی ہے، ۴- اس باب میں علی، عائشہ، جبیر بن مطعم، شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن يزيد بن شيبان، قال اتانا ابن مربع الانصاري ونحن وقوف بالموقف مكانا يباعده عمرو - فقال اني رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم اليكم يقول " كونوا على مشاعركم فانكم على ارث من ارث ابراهيم " . قال وفي الباب عن علي وعايشة وجبير بن مطعم والشريد بن سويد الثقفي . قال ابو عيسى حديث ابن مربع الانصاري حديث حسن لا نعرفه الا من حديث ابن عيينة عن عمرو بن دينار . وابن مربع اسمه يزيد بن مربع الانصاري وانما يعرف له هذا الحديث الواحد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ – اور یہ «حمس» ۱؎ کہلاتے ہیں – مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم تو اللہ کے خادم ہیں۔ ( عرفات نہیں جاتے ) ، اور جوان کے علاوہ لوگ تھے وہ عرفہ میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے آیت کریمہ «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ”اور تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ ( البقرہ: ۱۹۹ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اہل مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفہ حرم سے باہر ہے۔ اہل مکہ مزدلفہ ہی میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم اللہ کے آباد کئے ہوئے لوگ ہیں۔ اور اہل مکہ کے علاوہ لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے حکم نازل فرمایا: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ”تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں“ «حمس» سے مراد اہل حرم ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني البصري، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت قريش ومن كان على دينها وهم الحمس يقفون بالمزدلفة يقولون نحن قطين الله . وكان من سواهم يقفون بعرفة فانزل الله تعالى : (ثم افيضوا من حيث افاض الناس ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ومعنى هذا الحديث ان اهل مكة كانوا لا يخرجون من الحرم وعرفة خارج من الحرم واهل مكة كانوا يقفون بالمزدلفة ويقولون نحن قطين الله يعني سكان الله ومن سوى اهل مكة كانوا يقفون بعرفات . فانزل الله تعالى: (ثم افيضوا من حيث افاض الناس ) . والحمس هم اهل الحرم
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں قیام کیا اور فرمایا: ”یہ عرفہ ہے، یہی وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے، عرفہ ( عرفات ) کا پورا ٹھہرنے کی جگہ ہے، پھر آپ جس وقت سورج ڈوب گیا تو وہاں سے لوٹے۔ اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا، اور آپ اپنی عام رفتار سے چلتے ہوئے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، اور لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے، آپ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہتے جاتے تھے: ”لوگو! سکون و وقار کو لازم پکڑو“، پھر آپ مزدلفہ آئے اور لوگوں کو دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء قصر کر کے ) ایک ساتھ پڑھائیں، جب صبح ہوئی تو آپ قزح ۱؎ آ کر ٹھہرے، اور فرمایا: ”یہ قزح ہے اور یہ بھی موقف ہے اور مزدلفہ پورا کا پورا موقف ہے“، پھر آپ لوٹے یہاں تک کہ آپ وادی محسر ۲؎ پہنچے اور آپ نے اپنی اونٹنی کو مارا تو وہ دوڑی یہاں تک کہ اس نے وادی پار کر لی، پھر آپ نے وقوف کیا۔ اور فضل بن عباس رضی الله عنہما کو ( اونٹنی پر ) پیچھے بٹھایا، پھر آپ جمرہ آئے اور رمی کی، پھر منحر ( قربانی کی جگہ ) آئے اور فرمایا: ”یہ منحر ہے، اور منیٰ پورا کا پورا منحر ( قربانی کرنے کی جگہ ) ہے“، قبیلہ خثعم کی ایک نوجوان عورت نے آپ سے مسئلہ پوچھا، اس نے عرض کیا: میرے والد بوڑھے ہو چکے ہیں اور ان پر اللہ کا فریضہ حج واجب ہو چکا ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنے باپ کی طرف سے حج کر لے“۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کی گردن موڑ دی، اس پر آپ سے، عباس رضی الله عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کی گردن کیوں پلٹ دی؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں جوان ہیں تو میں ان دونوں کے سلسلہ میں شیطان سے مامون نہیں رہا“ ۳؎، پھر ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے سر منڈانے سے پہلے طواف افاضہ کر لیا۔ آپ نے فرمایا: ”سر منڈوا لو یا بال کتروا لو کوئی حرج نہیں ہے“۔ پھر ایک دوسرے شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی، آپ نے فرمایا: ”رمی کر لو کوئی حرج نہیں“ ۴؎ پھر آپ بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا، پھر زمزم پر آئے، اور فرمایا: ”بنی عبدالمطلب! اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہیں مغلوب کر دیں گے تو میں بھی ( تمہارے ساتھ ) پانی کھینچتا“۔ ( اور لوگوں کو پلاتے ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم اسے علی کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ یعنی عبدالرحمٰن بن حارث بن عیاش کی سند سے، اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ثوری سے اسی کے مثل روایت کی ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا خیال ہے کہ عرفہ میں ظہر کے وقت ظہر اور عصر کو ملا کر ایک ساتھ پڑھے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: جب آدمی اپنے ڈیرے ( خیمے ) میں نماز پڑھے اور امام کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہو تو چاہے دونوں نمازوں کو ایک ساتھ جمع اور قصر کر کے پڑھ لے، جیسا کہ امام نے کیا ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر میں تیز چال چلے۔ ( بشر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ) آپ مزدلفہ سے لوٹے، آپ پرسکون یعنی عام رفتار سے چل رہے تھے، لوگوں کو بھی آپ نے سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دیا۔ ( اور ابونعیم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ نے انہیں ایسی کنکریوں سے رمی کرنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جا سکیں، اور فرمایا: ”شاید میں اس سال کے بعد تمہیں نہ دیکھ سکوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، وبشر بن السري، وابو نعيم قالوا حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اوضع في وادي محسر . وزاد فيه بشر وافاض من جمع وعليه السكينة وامرهم بالسكينة . وزاد فيه ابو نعيم وامرهم ان يرموا بمثل حصى الخذف وقال " لعلي لا اراكم بعد عامي هذا " . قال وفي الباب عن اسامة بن زيد . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا سفيان الثوري، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن مالك، ان ابن عمر، صلى بجمع فجمع بين الصلاتين باقامة وقال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل مثل هذا في هذا المكان
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ابي ربيعة، عن زيد بن علي، عن ابيه، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، رضى الله عنه قال وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة فقال " هذه عرفة وهذا هو الموقف وعرفة كلها موقف " . ثم افاض حين غربت الشمس واردف اسامة بن زيد وجعل يشير بيده على هييته والناس يضربون يمينا وشمالا يلتفت اليهم ويقول " يا ايها الناس عليكم السكينة " . ثم اتى جمعا فصلى بهم الصلاتين جميعا فلما اصبح اتى قزح فوقف عليه وقال " هذا قزح وهو الموقف وجمع كلها موقف " . ثم افاض حتى انتهى الى وادي محسر فقرع ناقته فخبت حتى جاوز الوادي فوقف واردف الفضل ثم اتى الجمرة فرماها ثم اتى المنحر فقال " هذا المنحر ومنى كلها منحر " . واستفتته جارية شابة من خثعم فقالت ان ابي شيخ كبير قد ادركته فريضة الله في الحج افيجزي ان احج عنه قال " حجي عن ابيك " . قال ولوى عنق الفضل فقال العباس يا رسول الله لم لويت عنق ابن عمك قال " رايت شابا وشابة فلم امن الشيطان عليهما " . ثم اتاه رجل فقال يا رسول الله اني افضت قبل ان احلق . قال " احلق او قصر ولا حرج " . قال وجاء اخر فقال يا رسول الله اني ذبحت قبل ان ارمي . قال " ارم ولا حرج " . قال ثم اتى البيت فطاف به ثم اتى زمزم فقال " يا بني عبد المطلب لولا ان يغلبكم الناس عنه لنزعت " . قال وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن صحيح لا نعرفه من حديث علي الا من هذا الوجه من حديث عبد الرحمن بن الحارث بن عياش . وقد رواه غير واحد عن الثوري مثل هذا . والعمل على هذا عند اهل العلم راوا ان يجمع بين الظهر والعصر بعرفة في وقت الظهر . وقال بعض اهل العلم اذا صلى الرجل في رحله ولم يشهد الصلاة مع الامام ان شاء جمع هو بين الصلاتين مثل ما صنع الامام . قال وزيد بن علي هو ابن حسين بن علي بن ابي طالب عليه السلام