Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
ابوشریح عدوی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید ۲؎ سے – جب وہ مکہ کی طرف ( عبداللہ بن زبیر سے قتال کے لیے ) لشکر روانہ کر رہے تھے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا، جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: ”مکہ ( میں جنگ و جدال کرنا ) اللہ نے حرام کیا ہے۔ لوگوں نے حرام نہیں کیا ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے، یا اس کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال کو دلیل بنا کر ( قتال کا ) جواز نکالے تو اس سے کہو: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں نہیں دی ہے۔ تو مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے آج اجازت تھی، آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ جو لوگ موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں“، ابوشریح سے پوچھا گیا: اس پر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا؟ کہا: اس نے مجھ سے کہا: ابوشریح! میں یہ بات آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں، حرم مکہ کسی نافرمان ( یعنی باغی ) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوشریح رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوشریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو ہے۔ اور یہی عدوی اور کعبی یہی ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- «ولا فارا بخربة» کی بجائے «ولا فارا بخزية» زائے منقوطہٰ اور یاء کے ساتھ بھی مروی ہے، ۵- اور «ولا فارا بخربة» میں «خربہ» کے معنی گناہ اور جرم کے ہیں یعنی جس نے کوئی جرم کیا یا خون کیا پھر حرم میں پناہ لی تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي شريح العدوي، انه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث الى مكة ايذن لي ايها الامير احدثك قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح سمعته اذناى ووعاه قلبي وابصرته عيناى حين تكلم به انه حمد الله واثنى عليه ثم قال " ان مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس ولا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يسفك فيها دما او يعضد بها شجرة فان احد ترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا له ان الله اذن لرسوله صلى الله عليه وسلم ولم ياذن لك وانما اذن لي فيه ساعة من النهار وقد عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالامس وليبلغ الشاهد الغايب " . فقيل لابي شريح ما قال لك عمرو بن سعيد قال انا اعلم منك بذلك يا ابا شريح ان الحرم لا يعيذ عاصيا ولا فارا بدم ولا فارا بخربة . قال ابو عيسى ويروى ولا فارا بخزية . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابي شريح حديث حسن صحيح . وابو شريح الخزاعي اسمه خويلد بن عمرو وهو العدوي وهو الكعبي . ومعنى قوله " ولا فارا بخربة " يعني الجناية يقول من جنى جناية او اصاب دما ثم لجا الى الحرم فانه يقام عليه الحد
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو اس لیے کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی کے میل کو مٹا دیتی ہے اور حج مبرور ۱؎ کا بدلہ صرف جنت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، اور ابن مسعود کی روایت سے غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر، عامر بن ربیعہ، ابوہریرہ، عبداللہ بن حبشی، ام سلمہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وابو سعيد الاشج قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس، عن عاصم، عن شقيق، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تابعوا بين الحج والعمرة فانهما ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد والذهب والفضة وليس للحجة المبرورة ثواب الا الجنة " . قال وفي الباب عن عمر وعامر بن ربيعة وابي هريرة وعبد الله بن حبشي وام سلمة وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح غريب من حديث عبد الله بن مسعود
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش اور بیہیودہ بات نہیں کی، اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا ۱؎ تو اس کے گزشتہ تمام گناہ ۲؎ بخش دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن منصور، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حج فلم يرفث ولم يفسق غفر له ما تقدم من ذنبه " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وابو حازم كوفي وهو الاشجعي واسمه سلمان مولى عزة الاشجعية
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن ) میں فرمایا ہے: ”اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۱؎، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہیں۔ اور حارث حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى القطعي البصري، حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هلال بن عبد الله، مولى ربيعة بن عمرو بن مسلم الباهلي حدثنا ابو اسحاق الهمداني، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ملك زادا وراحلة تبلغه الى بيت الله ولم يحج فلا عليه ان يموت يهوديا او نصرانيا وذلك ان الله يقول في كتابه : (ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا ) " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه وفي اسناده مقال . وهلال بن عبد الله مجهول والحارث يضعف في الحديث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز حج واجب کرتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”سفر خرچ اور سواری“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابراہیم ہی ابن یزید خوزی مکی ہیں اور ان کے حافظہ کے تعلق سے بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب سفر خرچ اور سواری کا مالک ہو جائے تو اس پر حج واجب ہو جاتا ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا ابراهيم بن يزيد، عن محمد بن عباد بن جعفر، عن ابن عمر، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ما يوجب الحج قال " الزاد والراحلة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل عليه عند اهل العلم ان الرجل اذا ملك زادا وراحلة وجب عليه الحج . وابراهيم بن يزيد هو الخوزي المكي وقد تكلم فيه بعض اهل العلم من قبل حفظه
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ ”اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھیں“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال ( فرض ہے ) ؟ آپ خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا اور پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تم پر شاق گزریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ابوالبختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے اور یہی سعید بن فیروز ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا منصور بن وردان، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابيه، عن ابي البختري، عن علي بن ابي طالب، قال لما نزلت ( ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا ) قالوا يا رسول الله افي كل عام فسكت . فقالوا يا رسول الله افي كل عام قال " لا ولو قلت نعم لوجبت " . فانزل الله : (يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم ) . قال وفي الباب عن ابن عباس وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن غريب من هذا الوجه . واسم ابي البختري سعيد بن ابي عمران وهو سعيد بن فيروز
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد، اس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا اور ترسٹھ اونٹ ہدی کے طور پر ساتھ لے گئے اور باقی اونٹ یمن سے علی لے کر آئے۔ ان میں ابوجہل کا ایک اونٹ تھا۔ اس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نحر کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر اسے پکانے کا حکم دیا، تو پکایا گیا اور آپ نے اس کا شوربہ پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کے طریق سے جانتے ہیں ۱؎، ۲- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ حدیث عبداللہ بن ابی زیاد کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے سلسلے میں پوچھا تو وہ اسے بروایت «الثوري عن جعفر عن أبيه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» نہیں جان سکے، میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس حدیث کو محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا: یہ ثوری سے روایت کی جاتی ہے اور ثوری نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے مجاہد سے مرسلاً روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، عن سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم حج ثلاث حجج حجتين قبل ان يهاجر وحجة بعد ما هاجر ومعها عمرة فساق ثلاثا وستين بدنة وجاء علي من اليمن ببقيتها فيها جمل لابي جهل في انفه برة من فضة فنحرها رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر رسول الله صلى الله عليه وسلم من كل بدنة ببضعة فطبخت وشرب من مرقها . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث سفيان لا نعرفه الا من حديث زيد بن حباب . ورايت عبد الله بن عبد الرحمن روى هذا الحديث في كتبه عن عبد الله بن ابي زياد . قال وسالت محمدا عن هذا فلم يعرفه من حديث الثوري عن جعفر عن ابيه عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورايته لا يعد هذا الحديث محفوظا . وقال انما يروى عن الثوري عن ابي اسحاق عن مجاهد مرسلا
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا همام، حدثنا قتادة، قال قلت لانس بن مالك كم حج النبي صلى الله عليه وسلم قال حجة واحدة واعتمر اربع عمر عمرة في ذي القعدة وعمرة الحديبية وعمرة مع حجته وعمرة الجعرانة اذ قسم غنيمة حنين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحبان بن هلال هو ابو حبيب البصري هو جليل ثقة وثقه يحيى بن سعيد القطان
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا عمرہ اگلے سال یعنی ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ جعرانہ ۱؎ کا، چوتھا عمرہ جو اپنے حج کے ساتھ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں انس، عبداللہ بن عمرو اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمر عمرة الحديبية وعمرة الثانية من قابل وعمرة القضاء في ذي القعدة وعمرة الثالثة من الجعرانة والرابعة التي مع حجته. قال وفي الباب عن انس وعبد الله بن عمرو وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن غريب . وروى ابن عيينة، هذا الحديث عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمر . ولم يذكر فيه عن ابن عباس . قال حدثنا بذلك سعيد بن عبد الرحمن المخزومي حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار عن عكرمة ان النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں میں اعلان کرایا۔ ( مدینہ میں ) لوگ اکٹھا ہو گئے، چنانچہ جب آپ ( وہاں سے چل کر ) بیداء پہنچے تو احرام باندھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال لما اراد النبي صلى الله عليه وسلم الحج اذن في الناس فاجتمعوا فلما اتى البيداء احرم . قال وفي الباب عن ابن عمر وانس والمسور بن مخرمة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں بیداء جس کے بارے میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتے ہیں ( کہ وہاں سے احرام باندھا ) ۱؎ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ( ذی الحلیفہ ) کے پاس درخت کے قریب تلبیہ پکارا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابن عمر، قال البيداء التي يكذبون فيها على رسول الله صلى الله عليه وسلم والله ما اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم الا من عند المسجد من عند الشجرة . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد احرام باندھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم عبدالسلام بن حرب کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث روایت کی ہو، ۳- جس چیز کو اہل علم نے مستحب قرار دیا ہے وہ یہی ہے کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن خصيف، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اهل في دبر الصلاة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرف احدا رواه غير عبد السلام بن حرب . وهو الذي يستحبه اهل العلم ان يحرم الرجل في دبر الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد ۱؎ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم نے بھی افراد کیا، ۵- ثوری کہتے ہیں کہ حج افراد کرو تو بھی بہتر ہے، حج قران کرو تو بھی بہتر ہے اور حج تمتع کرو تو بھی بہتر ہے۔ شافعی نے بھی اسی جیسی بات کہی، ۶- کہا: ہمیں سب سے زیادہ افراد پسند ہے پھر تمتع اور پھر قران۔
حدثنا ابو مصعب، قراءة عن مالك بن انس، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج . قال وفي الباب عن جابر وابن عمر . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم . وروي عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم افرد الحج وافرد ابو بكر وعمر وعثمان . حدثنا بذلك قتيبة حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر بهذا . قال ابو عيسى وقال الثوري ان افردت الحج فحسن وان قرنت فحسن وان تمتعت فحسن . وقال الشافعي مثله . وقال احب الينا الافراد ثم التمتع ثم القران
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «لبيك بعمرة وحجة» فرماتے سنا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور عمران بن حصین سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، اہل کوفہ وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن حميد، عن انس، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لبيك بعمرة وحجة " . قال وفي الباب عن عمر وعمران بن حصين . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا . واختاروه من اهل الكوفة وغيرهم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم نے بھی ۲؎ اور سب سے پہلے جس نے اس سے روکا وہ معاویہ رضی الله عنہ ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ليث، عن طاوس، عن ابن عباس، قال تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان واول من نهى عنها معاوية
محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا: ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: بہت بری بات ہے جو تم نے کہی، میرے بھتیجے! تو ضحاک بن قیس نے کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن محمد بن عبد الله بن الحارث بن نوفل، انه سمع سعد بن ابي وقاص، والضحاك بن قيس، وهما، يذكران التمتع بالعمرة الى الحج فقال الضحاك بن قيس لا يصنع ذلك الا من جهل امر الله . فقال سعد بيس ما قلت يا ابن اخي . فقال الضحاك بن قيس فان عمر بن الخطاب قد نهى عن ذلك . فقال سعد قد صنعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وصنعناها معه . قال هذا حديث صحيح
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے اہل شام میں سے ایک شخص سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے حج میں عمرہ سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے کہا: یہ جائز ہے۔ اس پر شامی نے کہا: آپ کے والد نے تو اس سے روکا ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے کہا: ذرا تم ہی بتاؤ اگر میرے والد کسی چیز سے روکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہو تو میرے والد کے حکم کی پیروی کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی، تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث ( ۸۲۲ ) حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عثمان، جابر، سعد، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے ایک جماعت نے اسی کو پسند کیا ہے کہ حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنا درست ہے، ۴- اور حج تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینوں میں عمرہ کے ذریعہ داخل ہو، پھر عمرہ کر کے وہیں ٹھہرا رہے یہاں تک کہ حج کر لے تو وہ متمتع ہے، اس پر ہدی کی جو اسے میسر ہو قربانی لازم ہو گی، اگر اسے ہدی نہ مل سکے تو حج میں تین دن اور گھر لوٹ کر سات دن کے روزے رکھے، ۵- متمتع کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ حج میں تین روزے رکھے تو ذی الحجہ کے ( ابتدائی ) دس دنوں میں رکھے اور اس کا آخری روزہ یوم عرفہ کو ہو، اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم بھی شامل ہیں کے قول کی رو سے اگر وہ دس دنوں میں یہ روزے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق میں رکھ لے۔ یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۶- اور بعض کہتے ہیں: ایام تشریق میں روزہ نہیں رکھے گا۔ یہ اہل کوفہ کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اہل حدیث حج میں عمرہ کو شامل کر کے حج تمتع کرنے کو پسند کرتے ہیں، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرني يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، ان سالم بن عبد الله، حدثه انه، سمع رجلا، من اهل الشام وهو يسال عبد الله بن عمر عن التمتع بالعمرة الى الحج فقال عبد الله بن عمر هي حلال . فقال الشامي ان اباك قد نهى عنها . فقال عبد الله بن عمر ارايت ان كان ابي نهى عنها وصنعها رسول الله صلى الله عليه وسلم اامر ابي نتبع ام امر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الرجل بل امر رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال لقد صنعها رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن علي وعثمان وجابر وسعد واسماء بنت ابي بكر وابن عمر . وقد اختار قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم التمتع بالعمرة . والتمتع ان يدخل الرجل بعمرة في اشهر الحج ثم يقيم حتى يحج فهو متمتع وعليه دم ما استيسر من الهدى فان لم يجد صام ثلاثة ايام في الحج وسبعة اذا رجع الى اهله ويستحب للمتمتع اذا صام ثلاثة ايام في الحج ان يصوم في العشر ويكون اخرها يوم عرفة فان لم يصم في العشر صام ايام التشريق في قول بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابن عمر وعايشة وبه يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم لا يصوم ايام التشريق . وهو قول اهل الكوفة . قال ابو عيسى واهل الحديث يختارون التمتع بالعمرة في الحج وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ سب تعریف اور نعمت تیری ہی ہے اور سلطنت بھی، تیرا کوئی شریک نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، جابر، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- شافعی کہتے ہیں: اگر وہ اللہ کی تعظیم کے کچھ کلمات کا اضافہ کر لے تو کوئی حرج نہیں ہو گا – ان شاء اللہ- لیکن میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ پر اکتفا کرے۔ شافعی کہتے ہیں: ہم نے جو یہ کہا کہ ”اللہ کی تعظیم کے کچھ کلمات بڑھا لینے میں کوئی حرج نہیں تو اس دلیل سے کہ ابن عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبیہ یاد کیا پھر اپنی طرف سے اس میں «لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں، تیری ہی طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“ کا اضافہ کیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان تلبية النبي، صلى الله عليه وسلم كانت " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وجابر وعايشة وابن عباس وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول سفيان والشافعي واحمد واسحاق . قال الشافعي وان زاد في التلبية شييا من تعظيم الله فلا باس ان شاء الله واحب الى ان يقتصر على تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال الشافعي وانما قلنا لا باس بزيادة تعظيم الله فيها لما جاء عن ابن عمر وهو حفظ التلبية عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم زاد ابن عمر في تلبيته من قبله لبيك والرغباء اليك والعمل
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے اخیر میں اپنی طرف سے ان الفاظ کا اضافہ کرتے: «لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» ”حاضر ہوں تیری خدمت میں حاضر ہوں تیری خدمت میں اور خوش ہوں تیری تابعداری پر اور ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی دونوں ہاتھوں میں ہے اور تیری طرف رغبت ہے اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، انه اهل فانطلق يهل فيقول لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك . قال وكان عبد الله بن عمر يقول هذه تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم . وكان يزيد من عنده في اثر تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء اليك والعمل . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس میں کثرت سے تلبیہ پکارا گیا ہو اور خوب خون بہایا گیا ہو“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن ابي فديك، ح وحدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن محمد بن المنكدر، عن عبد الرحمن بن يربوع، عن ابي بكر الصديق، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل اى الحج افضل قال " العج والثج