Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر، درخت اور ڈھیلے سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوبکر رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے ابن ابی فدیک ہی کے طریق سے جانتے ہیں، انہوں نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ہے، ۲- محمد بن منکدر نے عبدالرحمٰن بن یربوع سے اسے نہیں سنا ہے، البتہ محمد بن منکدر نے بسند «سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع عن أبیہ عبدالرحمٰن بن یربوع» اس حدیث کے علاوہ دوسری چیزیں روایت کی ہیں، ۳- ابونعیم طحان ضرار بن صرد نے یہ حدیث بطریق: «ابن أبي فديك عن الضحاك بن عثمان عن محمد بن المنكدر عن سعيد بن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه عن أبي بكر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور اس میں ضرار سے غلطی ہوئی ہے، ۴- احمد بن حنبل کہتے ہیں: جس نے اس حدیث میں یوں کہا: «عن محمد بن المنكدر عن ابن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه» اس نے غلطی کی ہے، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ضرار بن صرد کی حدیث ذکر کی جسے انہوں نے ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: یہ غلط ہے، میں نے کہا: اسے دوسرے لوگوں نے بھی انہیں کی طرح ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: یہ کچھ نہیں ہے لوگوں نے اسے ابن ابی فدیک سے روایت کیا ہے اور اس میں سعید بن عبدالرحمٰن کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، میں نے بخاری کو دیکھا کہ وہ ضرار بن صرد کی تضعیف کر رہے تھے، ۶- اس باب میں ابن عمر اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۷- «عج» : تلبیہ میں آواز بلند کرنے کو اور «ثج» : اونٹنیاں نحر ( ذبح ) کرنے کو کہتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن عمارة بن غزية، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلم يلبي الا لبى من عن يمينه او عن شماله من حجر او شجر او مدر حتى تنقطع الارض من ها هنا وها هنا " . حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، وعبد الرحمن بن الاسود ابو عمرو البصري، قالا حدثنا عبيدة بن حميد، عن عمارة بن غزية، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث اسماعيل بن عياش . قال وفي الباب عن ابن عمر وجابر . قال ابو عيسى حديث ابي بكر حديث غريب لا نعرفه الا من حديث ابن ابي فديك عن الضحاك بن عثمان . ومحمد بن المنكدر لم يسمع من عبد الرحمن بن يربوع وقد روى محمد بن المنكدر عن سعيد بن عبد الرحمن بن يربوع عن ابيه غير هذا الحديث . وروى ابو نعيم الطحان ضرار بن صرد هذا الحديث عن ابن ابي فديك عن الضحاك بن عثمان عن محمد بن المنكدر عن سعيد بن عبد الرحمن بن يربوع عن ابيه عن ابي بكر عن النبي صلى الله عليه وسلم . واخطا فيه ضرار . قال ابو عيسى سمعت احمد بن الحسن يقول قال احمد بن حنبل من قال في هذا الحديث عن محمد بن المنكدر عن ابن عبد الرحمن بن يربوع عن ابيه فقد اخطا . قال وسمعت محمدا يقول وذكرت له حديث ضرار بن صرد عن ابن ابي فديك فقال هو خطا . فقلت قد رواه غيره عن ابن ابي فديك ايضا مثل روايته . فقال لا شىء انما رووه عن ابن ابي فديك ولم يذكروا فيه عن سعيد بن عبد الرحمن . ورايته يضعف ضرار بن صرد . والعج هو رفع الصوت بالتلبية . والثج هو نحر البدن
سائب بن خلاد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل نے آ کر مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- خلاد بن السائب کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے، حسن صحیح ہے۔ ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «خلاد بن السائب عن زيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ صحیح یہی ہے کہ خلاد بن سائب نے اپنے باپ سے روایت کی ہے، اور یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری ہیں، ۳- اس باب میں زید بن خالد، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن ابي بكر، وهو ابن محمد بن عمرو بن حزم عن عبد الملك بن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن خلاد بن السايب بن خلاد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني جبريل فامرني ان امر اصحابي ان يرفعوا اصواتهم بالاهلال والتلبية " . قال وفي الباب عن زيد بن خالد وابي هريرة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث خلاد عن ابيه حديث حسن صحيح . وروى بعضهم هذا الحديث عن خلاد بن السايب عن زيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم . ولا يصح والصحيح هو عن خلاد بن السايب عن ابيه . وهو خلاد بن السايب بن خلاد بن سويد الانصاري عن ابيه
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اہل علم کی ایک جماعت نے احرام باندھنے کے وقت غسل کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا عبد الله بن يعقوب المدني، عن ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن ابيه، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم تجرد لاهلاله واغتسل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد استحب قوم من اهل العلم الاغتسال عند الاحرام وبه يقول الشافعي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم احرام کہاں سے باندھیں؟ آپ نے فرمایا: ”اہل مدینہ ذی الحلیفہ ۲؎ سے احرام باندھیں، اہل شام جحفہ ۳؎ سے اور اہل نجد قرن سے ۴؎۔ اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اہل یمن یلملم سے ۵؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، قال من اين نهل يا رسول الله فقال " يهل اهل المدينة من ذي الحليفة واهل الشام من الجحفة واهل نجد من قرن " . قال ويقولون واهل اليمن من يلملم . قال وفي الباب عن ابن عباس وجابر بن عبد الله وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مشرق کی میقات عقیق ۱؎ مقرر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- محمد بن علی ہی ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن يزيد بن ابي زياد، عن محمد بن علي، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وقت لاهل المشرق العقيق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومحمد بن علي هو ابو جعفر محمد بن علي بن حسين بن علي بن ابي طالب
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑ ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کون کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ قمیص پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے اور نہ موزے، الا یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ خف ( چمڑے کے موزے ) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے سے نیچے کر لے ۱؎ اور نہ ایسا کوئی کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہو ۲؎، اور محرم عورت نقاب نہ لگائے اور نہ دستانے پہنے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم اسی پر عمل ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، انه قال قام رجل فقال يا رسول الله ماذا تامرنا ان نلبس من الثياب في الحرم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلبسوا القمص ولا السراويلات ولا البرانس ولا العمايم ولا الخفاف الا ان يكون احد ليست له نعلان فليلبس الخفين وليقطعهما ما اسفل من الكعبين ولا تلبسوا شييا من الثياب مسه الزعفران ولا الورس ولا تنتقب المراة الحرام ولا تلبس القفازين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”محرم کو جب تہبند میسر نہ ہو تو پاجامہ پہن لے اور جب جوتے میسر نہ ہوں تو «خف» ( چمڑے کے موزے ) پہن لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب محرم تہ بند نہ پائے تو پاجامہ پہن لے، اور جب جوتے نہ پائے تو «خف» ( چرمی موزے ) پہن لے۔ یہ احمد کا قول ہے، ۴- بعض نے ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی بنیاد پر جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہا ہے کہ جب وہ جوتے نہ پائے تو «خف» ( چرمی موزے ) پہنے اور اسے کاٹ کر ٹخنے کے نیچے کر لے، سفیان ثوری، شافعی، اور مالک اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي البصري، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا ايوب، حدثنا عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المحرم اذا لم يجد الازار فليلبس السراويل واذا لم يجد النعلين فليلبس الخفين " . حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو، نحوه . قال وفي الباب عن ابن عمر، وجابر، . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قالوا اذا لم يجد المحرم الازار لبس السراويل واذا لم يجد النعلين لبس الخفين . وهو قول احمد . وقال بعضهم على حديث ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم " اذا لم يجد نعلين فليلبس الخفين وليقطعهما اسفل من الكعبين " . وهو قول سفيان الثوري والشافعي وبه يقول مالك
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کو دیکھا جو احرام کی حالت میں کرتا پہنے ہوئے تھا۔ تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن يعلى بن امية، قال راى النبي صلى الله عليه وسلم اعرابيا قد احرم وعليه جبة فامره ان ينزعها
یعلیٰ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ یہ زیادہ صحیح ہے اور حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح اسے قتادہ، حجاج بن ارطاۃ اور دوسرے کئی لوگوں نے عطا سے اور انہوں نے یعلیٰ بن امیہ سے روایت کی ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جسے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے عطاء سے، اور عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے اور صفوان نے اپنے والد یعلیٰ سے اور یعلیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . وهذا اصح وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هكذا رواه قتادة والحجاج بن ارطاة وغير واحد عن عطاء عن يعلى بن امية . والصحيح ما روى عمرو بن دينار وابن جريج عن عطاء عن صفوان بن يعلى عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی جانور ہیں جو حرم میں یا حالت احرام میں بھی مارے جا سکتے ہیں: چوہیا، بچھو، کوا، چیل، کاٹ کھانے والا کتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس فواسق يقتلن في الحرم الفارة والعقرب والغراب والحديا والكلب العقور " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابن عمر وابي هريرة وابي سعيد وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے، مار سکتا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا يزيد بن ابي زياد، عن ابن ابي نعم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقتل المحرم السبع العادي والكلب العقور والفارة والعقرب والحداة والغراب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم . قالوا المحرم يقتل السبع العادي . وهو قول سفيان الثوري والشافعي . وقال الشافعي كل سبع عدا على الناس او على دوابهم فللمحرم قتله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس ۲؎، عبداللہ بن بحینہ ۳؎ اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈائے گا، ۴- مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگوا سکتا، الا یہ کہ ضروری ہو، ۵- سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتار سکتا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، وعطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم . قال وفي الباب عن انس وعبد الله ابن بحينة وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد رخص قوم من اهل العلم في الحجامة للمحرم وقالوا لا يحلق شعرا . وقال مالك لا يحتجم المحرم الا من ضرورة . وقال سفيان الثوري والشافعي لا باس ان يحتجم المحرم ولا ينزع شعرا
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ ابن معمر نے اپنے بیٹے کی شادی کرنی چاہی، تو انہوں نے مجھے ابان بن عثمان کے پاس بھیجا، وہ مکہ میں امیر حج تھے۔ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: آپ کے بھائی اپنے بیٹے کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو انہوں نے کہا: میں انہیں ایک گنوار اعرابی سمجھتا ہوں، محرم نہ خود نکاح کر سکتا اور نہ کسی کا نکاح کرا سکتا ہے – «أو كما قال» – پھر انہوں نے ( اپنے والد ) عثمان رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی کے مثل بیان کیا، وہ اسے مرفوع روایت کر رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابورافع اور میمونہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض صحابہ کرام جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے، اور یہی بعض تابعین فقہاء کا بھی قول ہے اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ یہ لوگ محرم کے لیے نکاح کرنا جائز نہیں سمجھتے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر محرم نے نکاح کر لیا تو اس کا نکاح باطل ہو گا ۱؎۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا ايوب، عن نافع، عن نبيه بن وهب، قال اراد ابن معمر ان ينكح، ابنه فبعثني الى ابان بن عثمان وهو امير الموسم بمكة فاتيته فقلت ان اخاك يريد ان ينكح ابنه فاحب ان يشهدك ذلك . قال لا اراه الا اعرابيا جافيا ان المحرم لا ينكح ولا ينكح . او كما قال ثم حدث عن عثمان مثله يرفعه . وفي الباب عن ابي رافع وميمونة . قال ابو عيسى حديث عثمان حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وعلي بن ابي طالب وابن عمر وهو قول بعض فقهاء التابعين وبه يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق لا يرون ان يتزوج المحرم قالوا فان نكح فنكاحه باطل
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے نکاح کیا اور آپ حلال تھے پھر ان کے خلوت میں گئے تب بھی آپ حلال تھے، اور میں ہی آپ دونوں کے درمیان پیغام رساں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور ہم حماد بن زید کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے مطر وراق کے واسطے سے ربیعہ سے مسنداً روایت کیا ہو، ۳- اور مالک بن انس نے ربیعہ سے، اور ربیعہ نے سلیمان بن یسار سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔ اسے مالک نے مرسلا روایت کیا ہے، اور سلیمان بن ہلال نے بھی اسے ربیعہ سے مرسلا روایت کیا ہے، ۴- یزید بن اصم ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی اور آپ حلال تھے یعنی محرم نہیں تھے۔ یزید بن اصم میمونہ کے بھانجے ہیں۔
حدثنا قتيبة، اخبرنا حماد بن زيد، عن مطر الوراق، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن سليمان بن يسار، عن ابي رافع، قال تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم ميمونة وهو حلال وبنى بها وهو حلال وكنت انا الرسول فيما بينهما . قال ابو عيسى هذا حديث حسن ولا نعلم احدا اسنده غير حماد بن زيد عن مطر الوراق عن ربيعة . وروى مالك بن انس عن ربيعة عن سليمان بن يسار ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو حلال . رواه مالك مرسلا . قال ورواه ايضا سليمان بن بلال عن ربيعة مرسلا . قال ابو عيسى وروي عن يزيد بن الاصم عن ميمونة قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو حلال . ويزيد بن الاصم هو ابن اخت ميمونة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی اور آپ محرم تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة البصري، حدثنا سفيان بن حبيب، عن هشام بن حسان، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم . قال وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري واهل الكوفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی اور آپ محرم تھے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی تو آپ محرم تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے میمونہ سے شادی کرنے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے کے راستے میں ان سے شادی کی تھی، بعض لوگوں نے کہا: آپ نے جب ان سے شادی کی تو آپ حلال تھے البتہ آپ کے ان سے شادی کرنے کی بات ظاہر ہوئی تو آپ محرم تھے، اور آپ نے مکے کے راستے میں مقام سرف میں ان کے ساتھ خلوت میں گئے تو بھی آپ حلال تھے۔ میمونہ کا انتقال بھی سرف میں ہوا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت کی تھی اور وہ مقام سرف میں ہی دفن کی گئیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، قال سمعت ابا الشعثاء، يحدث عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وابو الشعثاء اسمه جابر بن زيد . واختلفوا في تزويج النبي صلى الله عليه وسلم ميمونة لان النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها في طريق مكة فقال بعضهم تزوجها حلالا وظهر امر تزويجها وهو محرم ثم بنى بها وهو حلال بسرف في طريق مكة وماتت ميمونة بسرف حيث بنى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم ودفنت بسرف
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی اور آپ حلال تھے اور ان سے خلوت کی تو بھی آپ حلال تھے۔ اور انہوں نے سرف ہی میں انتقال کیا، ہم نے انہیں اسی سایہ دار مقام میں دفن کیا جہاں آپ نے ان سے خلوت کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث یزید بن اصم سے مرسلاً روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت ابا فزارة، يحدث عن يزيد بن الاصم، عن ميمونة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجها وهو حلال وبنى بها حلالا وماتت بسرف ودفناها في الظلة التي بنى بها فيها . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وروى غير واحد هذا الحديث عن يزيد بن الاصم مرسلا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو حلال
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- جابر کی حدیث مفسَّر ہے، ۳- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے، ۴- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو، ۵- شافعی کہتے ہیں: یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے، اور اسی پر عمل ہے۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن عمرو بن ابي عمرو، عن المطلب، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صيد البر لكم حلال وانتم حرم ما لم تصيدوه او يصد لكم " . قال وفي الباب عن ابي قتادة وطلحة . قال ابو عيسى حديث جابر حديث مفسر . والمطلب لا نعرف له سماعا من جابر . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم لا يرون باكل الصيد للمحرم باسا اذا لم يصطده او لم يصطد من اجله . قال ابو عيسى هذا احسن حديث روي في هذا الباب وافسر والعمل على هذا وهو قول احمد واسحاق
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ آپ جب مکے کا کچھ راستہ طے کر چکے تو وہ اپنے بعض محرم ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے جب کہ ابوقتادہ خود غیر محرم تھے، اسی دوران انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دے دیں تو ان لوگوں نے اسے انہیں دینے سے انکار کیا۔ پھر انہوں نے ان سے اپنا نیزہ مانگا۔ تو ان لوگوں نے اسے بھی اٹھا کر دینے سے انکار کیا تو انہوں نے اسے خود ہی ( اتر کر ) اٹھا لیا اور شکار کا پیچھا کیا اور اسے مار ڈالا، تو بعض صحابہ کرام نے اس شکار میں سے کھایا اور بعض نے نہیں کھایا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے اور اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ تو ایک ایسی غذا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے“ ۱؎۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن ابي النضر، عن نافع، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة، انه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان ببعض طريق مكة تخلف مع اصحاب له محرمين وهو غير محرم فراى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه فسال اصحابه ان يناولوه سوطه فابوا فسالهم رمحه فابوا عليه فاخذه ثم شد على الحمار فقتله فاكل منه بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وابى بعضهم فادركوا النبي صلى الله عليه وسلم فسالوه عن ذلك فقال " انما هي طعمة اطعمكموها الله