Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
اس سند سے بھی ابوقتادہ سے نیل گائے کے بارے میں ابونضر ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے البتہ زید بن اسلم کی اس حدیث میں اتنا زائد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي قتادة، في حمار الوحش مثل حديث ابي النضر غير ان في، حديث زيد بن اسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هل معكم من لحمه شيء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی الله عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابواء یا ودان میں ان کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے آپ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا، تو آپ نے اسے لوٹا دیا۔ ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”ہم تمہیں لوٹاتے نہیں لیکن ہم محرم ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت اسی حدیث کی طرف گئی ہے اور انہوں نے محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے کو مکروہ کہا ہے، ۳- شافعی کہتے ہیں: ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے وہ گوشت صرف اس لیے لوٹا دیا کہ آپ کو گمان ہوا کہ وہ آپ ہی کی خاطر شکار کیا گیا ہے۔ سو آپ نے اسے تنزیہاً چھوڑ دیا، ۴- زہری کے بعض تلامذہ نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے۔ اور اس میں «أهدى له حمارا وحشياً» کے بجائے «أهدى له لحم حمارٍ وحشٍ» ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ۵- اس باب میں علی اور زید بن ارقم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، ان ابن عباس، اخبره ان الصعب بن جثامة اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر به بالابواء او بودان فاهدى له حمارا وحشيا فرده عليه فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما في وجهه من الكراهية قال " انه ليس بنا رد عليك ولكنا حرم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا الحديث وكرهوا اكل الصيد للمحرم . وقال الشافعي انما وجه هذا الحديث عندنا انما رده عليه لما ظن انه صيد من اجله وتركه على التنزه . وقد روى بعض اصحاب الزهري عن الزهري هذا الحديث وقال اهدى له لحم حمار وحش . وهو غير محفوظ . قال وفي الباب عن علي وزيد بن ارقم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوالمھزم کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ۲- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان میں کلام کیا ہے، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو ٹڈی کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی رخصت دی ہے، ۴- اور بعض کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کا شکار کرے اور اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حج او عمرة فاستقبلنا رجل من جراد فجعلنا نضربه بسياطنا وعصينا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كلوه فانه من صيد البحر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . لا نعرفه الا من حديث ابي المهزم عن ابي هريرة . وابو المهزم اسمه يزيد بن سفيان وقد تكلم فيه شعبة . وقد رخص قوم من اهل العلم للمحرم ان يصيد الجراد وياكله وراى بعضهم عليه صدقة اذا اصطاده واكله
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا لکڑ بگھا شکار میں داخل ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ( پھر ) میں نے پوچھا: کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ـ؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ یہ حدیث جریر بن حزم نے بھی روایت کی ہے لیکن انہوں نے جابر سے اور جابر نے عمر رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ محرم جب لگڑ بگھا کا شکار کرے یا اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا ابن جريج، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابن ابي عمار، قال قلت لجابر بن عبد الله الضبع اصيد هي قال نعم . قال قلت اكلها قال نعم . قال قلت اقاله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد وروى جرير بن حازم هذا الحديث فقال عن جابر عن عمر . وحديث ابن جريج اصح . وهو قول احمد واسحاق والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم في المحرم اذا اصاب ضبعا ان عليه الجزاء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے میں داخل ہونے کے لیے ( مقام ) فخ میں ۱؎ غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ۲- صحیح وہ روایت ہے جسے نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ وہ مکے میں داخل ہونے کے لیے غسل کرتے تھے۔ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ مکے میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں۔ احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہما نے ان کی تضعیف کی ہے اور ہم اس حدیث کو صرف انہی کے طریق سے مرفوع جانتے ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا هارون بن صالح الطلحي، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن ابن عمر، قال اغتسل النبي صلى الله عليه وسلم لدخوله مكة بفخ . قال ابو عيسى هذا حديث غير محفوظ . والصحيح ما روى نافع عن ابن عمر انه كان يغتسل لدخول مكة . وبه يقول الشافعي يستحب الاغتسال لدخول مكة . وعبد الرحمن بن زيد بن اسلم ضعيف في الحديث ضعفه احمد بن حنبل وعلي بن المديني وغيرهما ولا نعرف هذا الحديث مرفوعا الا من حديثه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور نشیب کی طرف سے نکلتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لما جاء النبي صلى الله عليه وسلم الى مكة دخل من اعلاها وخرج من اسفلها . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا العمري، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة نهارا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا: جب آدمی بیت اللہ کو دیکھے تو کیا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو کیا ہم ایسا کرتے تھے؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کی حدیث ہم شعبہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، شعبہ ابوقزعہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوقزعہ کا نام سوید بن حجیر ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، حدثنا شعبة، عن ابي قزعة الباهلي، عن المهاجر المكي، قال سيل جابر بن عبد الله ايرفع الرجل يديه اذا راى البيت فقال حججنا مع النبي صلى الله عليه وسلم افكنا نفعله . قال ابو عيسى رفع اليدين عند روية البيت انما نعرفه من حديث شعبة عن ابي قزعة . وابو قزعة اسمه سويد بن حجير
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو آپ مسجد الحرام میں داخل ہوئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اپنے دائیں جانب چلے آپ نے تین چکر میں رمل کیا ۱؎ اور چار چکر میں عام چال چلے۔ پھر آپ نے مقام ابراہیم کے پاس آ کر فرمایا: ”مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ“، چنانچہ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان تھا۔ پھر دو رکعت کے بعد حجر اسود کے پاس آ کر اس کا استلام کیا۔ پھر صفا کی طرف گئے۔ میرا خیال ہے کہ ( وہاں ) آپ نے یہ آیت پڑھی: « ( إن الصفا والمروة من شعائر الله» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔)
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يحيى بن ادم، اخبرنا سفيان الثوري، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة دخل المسجد فاستلم الحجر ثم مضى على يمينه فرمل ثلاثا ومشى اربعا ثم اتى المقام فقال : (واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى ) فصلى ركعتين والمقام بينه وبين البيت ثم اتى الحجر بعد الركعتين فاستلمه ثم خرج الى الصفا اظنه قال :( ان الصفا والمروة من شعاير الله ) . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل ۱؎ کیا اور چار میں عام چل چلے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- شافعی کہتے ہیں: جب کوئی جان بوجھ کر رمل کرنا چھوڑ دے تو اس نے غلط کیا لیکن اس پر کوئی چیز واجب نہیں اور جب اس نے ابتدائی تین پھیروں میں رمل نہ کیا ہو تو باقی میں نہیں کرے گا، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں: اہل مکہ کے لیے رمل نہیں ہے اور نہ ہی اس پر جس نے مکہ سے احرام باندھا ہو۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عبد الله بن وهب، عن مالك بن انس، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم رمل من الحجر الى الحجر ثلاثا ومشى اربعا . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . قال الشافعي اذا ترك الرمل عمدا فقد اساء ولا شىء عليه واذا لم يرمل في الاشواط الثلاثة لم يرمل فيما بقي . وقال بعض اهل العلم ليس على اهل مكة رمل ولا على من احرم منها
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی الله عنہما کے ساتھ تھا، معاویہ رضی الله عنہ جس رکن کے بھی پاس سے گزرتے، اس کا استلام کرتے ۱؎ تو ابن عباس نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہیں کیا، اس پر معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی جانے کے لائق نہیں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہ کیا جائے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، ومعمر، عن ابن خثيم، عن ابي الطفيل، قال كنت مع ابن عباس ومعاوية لا يمر بركن الا استلمه فقال له ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يستلم الا الحجر الاسود والركن اليماني . فقال معاوية ليس شيء من البيت مهجورا . قال وفي الباب عن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم ان لا يستلم الا الحجر الاسود والركن اليماني
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کی حالت میں ۱؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اسے ہم صرف کے انہی طریق سے جانتے ہیں، ۳- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلیٰ سے اور ابن یعلیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلیٰ سے مراد یعلیٰ بن امیہ ہیں رضی الله عنہ۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا قبيصة، عن سفيان، عن ابن جريج، عن عبد الحميد، عن ابن يعلى، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت مضطبعا وعليه برد . قال ابو عيسى هذا حديث الثوري عن ابن جريج ولا نعرفه الا من حديثه وهو حديث حسن صحيح . وعبد الحميد هو ابن جبير بن شيبة . عن ابن يعلى عن ابيه وهو يعلى بن امية
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو حجر اسود کا بوسہ لیتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے: میں تیرا بوسہ لے رہا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر اور ابن عمر سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عابس بن ربيعة، قال رايت عمر بن الخطاب يقبل الحجر ويقول اني اقبلك واعلم انك حجر ولولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك لم اقبلك . قال وفي الباب عن ابي بكر وابن عمر . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن صحيح
زبیر بن عربی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے حجر اسود کا بوسہ لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا: اچھا بتائیے اگر میں وہاں تک پہنچنے میں مغلوب ہو جاؤں اور اگر میں بھیڑ میں پھنس جاؤں؟ تو اس پر ابن عمر نے کہا: تم ( یہ اپنا ) اگر مگر یمن میں رکھو ۱؎ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ یہ زبیر بن عربی وہی ہیں، جن سے حماد بن زید نے روایت کی ہے، کوفے کے رہنے والے تھے، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے۔ انہوں نے انس بن مالک اور دوسرے کئی صحابہ سے حدیثیں روایت کیں ہیں۔ اور ان سے سفیان ثوری اور دوسرے کئی اور ائمہ نے روایت کی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ حجر اسود کے بوسہ لینے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور آدمی وہاں تک نہ پہنچ سکے تو اسے اپنے ہاتھ سے چھو لے اور اپنے ہاتھ کا بوسہ لے لے اور اگر وہ اس تک نہ پہنچ سکے تو جب اس کے سامنے میں پہنچے تو اس کی طرف رخ کرے اور اللہ اکبر کہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن الزبير بن عربي، ان رجلا، سال ابن عمر عن استلام الحجر، فقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يستلمه ويقبله . فقال الرجل ارايت ان غلبت عليه ارايت ان زوحمت فقال ابن عمر اجعل ارايت باليمن رايت النبي صلى الله عليه وسلم يستلمه ويقبله . قال وهذا هو الزبير بن عربي روى عنه حماد بن زيد والزبير بن عربي كوفي يكنى ابا سلمة سمع من انس بن مالك وغير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم روى عنه سفيان الثوري وغير واحد من الايمة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه . والعمل على هذا عند اهل العلم يستحبون تقبيل الحجر فان لم يمكنه ولم يصل اليه استلمه بيده وقبل يده وان لم يصل اليه استقبله اذا حاذى به وكبر . وهو قول الشافعي
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور یہ آیت پڑھی: « ( واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو“ ( البقرہ: ۱۲۵ ) ، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا پھر فرمایا: ”ہم ( سعی ) اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ چنانچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور یہ آیت پڑھی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ ( البقرہ: ۱۵۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سعی مروہ کے بجائے صفا سے شروع کی جائے۔ اگر کسی نے صفا کے بجائے مروہ سے سعی شروع کر دی تو یہ سعی کافی نہ ہو گی اور سعی پھر سے صفا سے شروع کرے گا، ۳- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کی، یہاں تک کہ واپس گھر چلا گیا، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کسی نے صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی یہاں تک کہ وہ مکہ سے باہر نکل آیا پھر اسے یاد آیا، اور وہ مکے کے قریب ہے تو واپس جا کر صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اور اگر اسے یاد نہیں آیا یہاں تک کہ وہ اپنے ملک واپس آ گیا تو اسے کافی ہو جائے گا لیکن اس پر دم لازم ہو گا، یہی سفیان ثوری کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے صفا و مروہ کے درمیان سعی چھوڑ دی یہاں تک کہ اپنے ملک واپس آ گیا تو یہ اسے کافی نہ ہو گا۔ یہ شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی واجب ہے، اس کے بغیر حج درست نہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم حين قدم مكة طاف بالبيت سبعا واتى المقام فقرا :( واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى ) فصلى خلف المقام ثم اتى الحجر فاستلمه ثم قال " نبدا بما بدا الله به " . فبدا بالصفا وقرا : (ان الصفا والمروة من شعاير الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم انه يبدا بالصفا قبل المروة فان بدا بالمروة قبل الصفا لم يجزه وبدا بالصفا . واختلف اهل العلم فيمن طاف بالبيت ولم يطف بين الصفا والمروة حتى رجع فقال بعض اهل العلم ان لم يطف بين الصفا والمروة حتى خرج من مكة فان ذكر وهو قريب منها رجع فطاف بين الصفا والمروة وان لم يذكر حتى اتى بلاده اجزاه وعليه دم . وهو قول سفيان الثوري . وقال بعضهم ان ترك الطواف بين الصفا والمروة حتى رجع الى بلاده فانه لا يجزيه . وهو قول الشافعي . قال الطواف بين الصفا والمروة واجب لا يجوز الحج الا به
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے، اگر وہ سعی نہ کرے بلکہ صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلے تو اسے جائز سمجھتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال انما سعى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبيت وبين الصفا والمروة ليري المشركين قوته . قال وفي الباب عن عايشة وابن عمر وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وهو الذي يستحبه اهل العلم ان يسعى بين الصفا والمروة . فان لم يسع ومشى بين الصفا والمروة راوه جايزا
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے بھی دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے، اور میں کافی بوڑھا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا ابن فضيل، عن عطاء بن السايب، عن كثير بن جمهان، قال رايت ابن عمر يمشي في السعى فقلت له اتمشي في السعى بين الصفا والمروة قال لين سعيت لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى ولين مشيت لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي وانا شيخ كبير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروي عن سعيد بن جبير عن ابن عمر نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا جب ۱؎ آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابوالطفیل اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے بیت اللہ کا طواف، اور صفا و مروہ کی سعی سوار ہو کر کرنے کو مکروہ کہا ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو، یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف البصري، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، وعبد الوهاب الثقفي، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال طاف النبي صلى الله عليه وسلم على راحلته فاذا انتهى الى الركن اشار اليه . قال وفي الباب عن جابر وابي الطفيل وام سلمة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وقد كره قوم من اهل العلم ان يطوف الرجل بالبيت وبين الصفا والمروة راكبا الا من عذر . وهو قول الشافعي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ تو ابن عباس سے ان کے اپنے قول سے روایت کیا جاتا ہے۔
يحيى بن يمان، عن شريك، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن سعيد بن جبير، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من طاف بالبيت خمسين مرة خرج من ذنوبه كيوم ولدته امه " . قال وفي الباب عن انس وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث غريب . سالت محمدا عن هذا الحديث فقال انما يروى هذا عن ابن عباس قوله
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر حدثنا سفيان بن عيينة عن ايوب السختياني قال كانوا يعدون عبد الله بن سعيد بن جبير افضل من ابيه . ولعبد الله اخ يقال له عبد الملك بن سعيد بن جبير وقد روى عنه ايضا