احادیث
#862
سنن ترمذی - Hajj
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور یہ آیت پڑھی: « ( واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو“ ( البقرہ: ۱۲۵ ) ، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا پھر فرمایا: ”ہم ( سعی ) اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ چنانچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور یہ آیت پڑھی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ ( البقرہ: ۱۵۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سعی مروہ کے بجائے صفا سے شروع کی جائے۔ اگر کسی نے صفا کے بجائے مروہ سے سعی شروع کر دی تو یہ سعی کافی نہ ہو گی اور سعی پھر سے صفا سے شروع کرے گا، ۳- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کی، یہاں تک کہ واپس گھر چلا گیا، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کسی نے صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی یہاں تک کہ وہ مکہ سے باہر نکل آیا پھر اسے یاد آیا، اور وہ مکے کے قریب ہے تو واپس جا کر صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اور اگر اسے یاد نہیں آیا یہاں تک کہ وہ اپنے ملک واپس آ گیا تو اسے کافی ہو جائے گا لیکن اس پر دم لازم ہو گا، یہی سفیان ثوری کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے صفا و مروہ کے درمیان سعی چھوڑ دی یہاں تک کہ اپنے ملک واپس آ گیا تو یہ اسے کافی نہ ہو گا۔ یہ شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی واجب ہے، اس کے بغیر حج درست نہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم حين قدم مكة طاف بالبيت سبعا واتى المقام فقرا :( واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى ) فصلى خلف المقام ثم اتى الحجر فاستلمه ثم قال " نبدا بما بدا الله به " . فبدا بالصفا وقرا : (ان الصفا والمروة من شعاير الله ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم انه يبدا بالصفا قبل المروة فان بدا بالمروة قبل الصفا لم يجزه وبدا بالصفا . واختلف اهل العلم فيمن طاف بالبيت ولم يطف بين الصفا والمروة حتى رجع فقال بعض اهل العلم ان لم يطف بين الصفا والمروة حتى خرج من مكة فان ذكر وهو قريب منها رجع فطاف بين الصفا والمروة وان لم يذكر حتى اتى بلاده اجزاه وعليه دم . وهو قول سفيان الثوري . وقال بعضهم ان ترك الطواف بين الصفا والمروة حتى رجع الى بلاده فانه لا يجزيه . وهو قول الشافعي . قال الطواف بين الصفا والمروة واجب لا يجوز الحج الا به
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #862
- Book Index
- 55
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
