احادیث
#888
سنن ترمذی - Hajj
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ محمد بن بشار نے ( «حدثنا» کے بجائے ) «قال یحییٰ» کہا ہے۔ اور صحیح سفیان والی روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث جسے سفیان نے روایت کی ہے اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور سفیان کی حدیث صحیح حسن ہے، ۲- اسرائیل نے یہ حدیث ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور عبداللہ اور خالد نے ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سعید بن جبیر کی حدیث جسے انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، رہے ابواسحاق سبیعی تو انہوں نے اسے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور ان دونوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوایوب، عبداللہ بن سعید، جابر اور اسامہ بن زید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس لیے کہ مغرب مزدلفہ آنے سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی، جب حجاج جمع ۱؎ یعنی مزدلفہ جائیں تو دونوں نمازیں ایک اقامت سے اکٹھی پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھیں گے۔ یہی مسلک ہے جسے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے اور اس کی طرف گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری کا بھی قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہے تو مغرب پڑھے پھر شام کا کھانا کھائے، اور اپنے کپڑے اتارے پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کے لیے اذان کہے اور تکبیر کہے اور مغرب پڑھے، پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے یہ شافعی کا قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله . قال محمد بن بشار قال يحيى والصواب حديث سفيان . قال وفي الباب عن علي وابي ايوب وعبد الله بن مسعود وجابر واسامة بن زيد . قال ابو عيسى حديث ابن عمر في رواية سفيان اصح من رواية اسماعيل بن ابي خالد وحديث سفيان حديث صحيح حسن . قال ابو عيسى وروى اسراييل هذا الحديث عن ابي اسحاق عن عبد الله وخالد ابنى مالك عن ابن عمر . وحديث سعيد بن جبير عن ابن عمر هو حديث حسن صحيح ايضا رواه سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير . واما ابو اسحاق فرواه عن عبد الله وخالد ابنى مالك عن ابن عمر . والعمل على هذا عند اهل العلم لانه لا تصلى صلاة المغرب دون جمع فاذا اتى جمعا وهو المزدلفة جمع بين الصلاتين باقامة واحدة ولم يتطوع فيما بينهما وهو الذي اختاره بعض اهل العلم وذهب اليه . وهو قول سفيان الثوري . قال سفيان وان شاء صلى المغرب ثم تعشى ووضع ثيابه ثم اقام فصلى العشاء . وقال بعض اهل العلم يجمع بين المغرب والعشاء بالمزدلفة باذان واقامتين يوذن لصلاة المغرب ويقيم ويصلي المغرب ثم يقيم ويصلي العشاء . وهو قول الشافعي . قال ابو عيسى وروى اسراييل هذا الحديث عن ابي اسحق عن عبد الله وخالد ابني مالك عن ابن عمر وحديث سعيد بن جبير عن ابن عمر هو حديث حسن صحيح ايضا رواه سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير واما ابو اسحق فرواه عن عبد الله وخالد ابني مالك عن ابن عمر
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #888
- Book Index
- 81
Grades
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Bukhari And Muslim
