احادیث
#916
سنن ترمذی - Hajj
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”اب ذبح کر لو کوئی حرج نہیں“ ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر ( ذبح ) کر لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس، ابن عمر، اسامہ بن شریک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کسی نسک کو یعنی رمی یا نحر یا حلق وغیرہ میں سے کسی ایک کو دوسرے سے پہلے کر لے تو اس پر دم ( ذبیحہ ) لازم ہو گا ( مگر یہ بات بغیر دلیل کے ہے ) ۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وابن ابي عمر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عيسى بن طلحة، عن عبد الله بن عمرو، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال حلقت قبل ان اذبح فقال " اذبح ولا حرج " . وساله اخر فقال نحرت قبل ان ارمي قال " ارم ولا حرج " . قال وفي الباب عن علي وجابر وابن عباس وابن عمر واسامة بن شريك . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا قدم نسكا قبل نسك فعليه دم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #916
- Book Index
- 109
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
