احادیث
#917
سنن ترمذی - Hajj
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور دسویں ذی الحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں مشک تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، جانور ذبح کر لے، اور سر مونڈا لے یا بال کتروا لے تو اب اس کے لیے ہر وہ چیز حلال ہو گئی جو اس پر حرام تھی سوائے عورتوں کے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ اس کے لیے ہر چیز حلال ہو گئی سوائے عورتوں اور خوشبو کے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، اور یہی کوفہ والوں کا بھی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، اخبرنا منصور يعني ابن زاذان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل ان يحرم ويوم النحر قبل ان يطوف بالبيت بطيب فيه مسك . وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يرون ان المحرم اذا رمى جمرة العقبة يوم النحر وذبح وحلق او قصر فقد حل له كل شيء حرم عليه الا النساء . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقد روي عن عمر بن الخطاب انه قال حل له كل شيء الا النساء والطيب . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول اهل الكوفة
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #917
- Book Index
- 110
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
