Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہیں کہ اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتے ( تو کیا کیا جائے؟ ) ۔ آپ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فضل بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما سے حصین بن عوف مزنی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ سنان بن عبداللہ جہنی رضی الله عنہ نے اپنی پھوپھی سے اور ان کی پھوپھی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما نے براہ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کی ہے، ۵- امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے ان روایات کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جسے ابن عباس نے فضل بن عباس سے اور فضل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس کا بھی احتمال ہے کہ ابن عباس نے اسے ( اپنے بھائی ) فضل سے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی سنا ہو اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، اور پھر ابن عباس رضی الله عنہما نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہو اور جس سے انہوں نے اسے سنا ہو اس کا نام ذکر نہ کیا ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کئی اور بھی احادیث ہیں، ۷- اس باب میں علی، بریدہ، حصین بن عوف، ابورزین عقیلی، سودہ بنت زمعہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۸- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے، ۹- مالک کہتے ہیں: میت کی طرف سے حج اس وقت کیا جائے گا جب وہ حج کرنے کی وصیت کر گیا ہو، ۱۰- بعض لوگوں نے زندہ شخص کی طرف سے جب وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو گیا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ وہ حج پر قدرت نہ رکھتا ہو حج کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہی ابن مبارک اور شافعی کا بھی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا ابن جريج، اخبرني ابن شهاب، قال حدثني سليمان بن يسار، عن عبد الله بن عباس، عن الفضل بن عباس، ان امراة، من خثعم قالت يا رسول الله ان ابي ادركته فريضة الله في الحج وهو شيخ كبير لا يستطيع ان يستوي على ظهر البعير . قال " حجي عنه " . قال وفي الباب عن علي وبريدة وحصين بن عوف وابي رزين العقيلي وسودة بنت زمعة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث الفضل بن عباس حديث حسن صحيح . وروي عن ابن عباس عن حصين بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن ابن عباس ايضا عن سنان بن عبد الله الجهني عن عمته عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال وسالت محمدا عن هذه الروايات فقال اصح شيء في هذا الباب ما روى ابن عباس عن الفضل بن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال محمد ويحتمل ان يكون ابن عباس سمعه من الفضل وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم ثم روى هذا عن النبي صلى الله عليه وسلم وارسله ولم يذكر الذي سمعه منه . قال ابو عيسى وقد صح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب غير حديث . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وبه يقول الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق يرون ان يحج عن الميت . وقال مالك اذا اوصى ان يحج عنه حج عنه . وقد رخص بعضهم ان يحج عن الحى اذا كان كبيرا او بحال لا يقدر ان يحج . وهو قول ابن المبارك والشافعي
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا عبد الرزاق، عن سفيان الثوري، عن عبد الله بن عطاء، . قال وحدثنا علي بن حجر، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ان امي ماتت ولم تحج افاحج عنها قال " نعم حجي عنها " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
ابورزین عقیلی لقیط بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج و عمرہ کرنے اور سوار ہو کر سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ( ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں مذکور ہوا ہے کہ آدمی غیر کی طرف سے عمرہ کر سکتا ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن اوس، عن ابي رزين العقيلي، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن . قال " حج عن ابيك واعتمر " قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وانما ذكرت العمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث ان يعتمر الرجل عن غيره . وابو رزين العقيلي اسمه لقيط بن عامر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا: کیا یہ واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن عمرہ کرنا بہتر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ واجب نہیں ہے، ۳- اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج دو ہیں: ایک حج اکبر ہے جو یوم نحر ( دسویں ذی الحجہ کو ) ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر ہے جسے عمرہ کہتے ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں: عمرہ ( کا وجوب ) سنت سے ثابت ہے، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اور اس کے نفل ہونے کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس سند سے ( نفل ہونا ) مروی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس جیسی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی، اور ہم تک یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما اسے واجب قرار دیتے تھے۔ یہ سب شافعی کا کلام ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا عمر بن علي، عن الحجاج، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن العمرة اواجبة هي قال " لا وان تعتمروا هو افضل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول بعض اهل العلم قالوا العمرة ليست بواجبة . وكان يقال هما حجان الحج الاكبر يوم النحر والحج الاصغر العمرة . وقال الشافعي العمرة سنة لا نعلم احدا رخص في تركها وليس فيها شيء ثابت بانها تطوع وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم باسناد وهو ضعيف لا تقوم بمثله الحجة وقد بلغنا عن ابن عباس انه كان يوجبها . قال ابو عيسى كله كلام الشافعي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سراقہ بن جعشم اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی تشریح شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کی ہے کہ جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے، جب اسلام آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: ”عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو چکا ہے“، یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اشہر حج شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں“، کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حج کے مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینے میں حج کا احرام باندھے، اور حرمت والے مہینے یہ ہیں: رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا زياد بن عبد الله، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " دخلت العمرة في الحج الى يوم القيامة " . قال وفي الباب عن سراقة بن مالك بن جعشم وجابر بن عبد الله . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . ومعنى هذا الحديث ان لا باس بالعمرة في اشهر الحج . وهكذا قال الشافعي واحمد واسحاق . ومعنى هذا الحديث ان اهل الجاهلية كانوا لا يعتمرون في اشهر الحج فلما جاء الاسلام رخص النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك فقال " دخلت العمرة في الحج الى يوم القيامة " . يعني لا باس بالعمرة في اشهر الحج . واشهر الحج شوال وذو القعدة وعشر من ذي الحجة لا ينبغي للرجل ان يهل بالحج الا في اشهر الحج . واشهر الحرم رجب وذو القعدة وذو الحجة والمحرم . هكذا قال غير واحد من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ۱؎ اور حج مقبول ۲؎ کا بدلہ جنت ہی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرة الى العمرة تكفر ما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی الله عنہا کو تنعیم ۱؎ سے عمرہ کرائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، وابن ابي عمر، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن اوس، عن عبد الرحمن بن ابي بكر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر عبد الرحمن بن ابي بكر ان يعمر عايشة من التنعيم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
محرش کعبی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے رات کو عمرے کی نیت سے نکلے اور رات ہی میں مکے میں داخل ہوئے، آپ نے اپنا عمرہ پورا کیا، پھر اسی رات ( مکہ سے ) نکل پڑے اور آپ نے واپس جعرانہ ۱؎ میں صبح کی، گویا آپ نے وہیں رات گزاری ہو، اور جب دوسرے دن سورج ڈھل گیا تو آپ وادی سرف ۲؎ سے نکلے یہاں تک کہ اس راستے پر آئے جس سے وادی سرف والا راستہ آ کر مل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ( بہت سے ) لوگوں سے آپ کا عمرہ پوشیدہ رہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کے علاوہ محرش کعبی کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو اور کہا جاتا ہے: «جاء مع الطريق» والا ٹکڑا موصول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، عن مزاحم بن ابي مزاحم، عن عبد العزيز بن عبد الله، عن محرش الكعبي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من الجعرانة ليلا معتمرا فدخل مكة ليلا فقضى عمرته ثم خرج من ليلته فاصبح بالجعرانة كبايت فلما زالت الشمس من الغد خرج من بطن سرف حتى جاء مع الطريق طريق جمع ببطن سرف فمن اجل ذلك خفيت عمرته على الناس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ولا نعرف لمحرش الكعبي عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے نہیں سنا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة، قال سيل ابن عمر في اى شهر اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال في رجب . قال فقالت عايشة ما اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الا وهو معه تعني ابن عمر وما اعتمر في شهر رجب قط . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . سمعت محمدا يقول حبيب بن ابي ثابت لم يسمع من عروة بن الزبير
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک رجب میں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا شيبان، عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر اربعا احداهن في رجب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ کے مہینہ میں عمرہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا اسحاق بن منصور، هو السلولي الكوفي عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعتمر في ذي القعدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن عباس
ام معقل رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام معقل کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ( وہب کے بجائے ) ھرم بن خنبش بھی کہا جاتا ہے۔ بیان اور جابر نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن وهب بن خنبش» اور داود اودی نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن هرم بن خنبش» لیکن صحیح وہب بن خنبش ہی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر، ابوہریرہ، انس اور وہب بن خنبش رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ رمضان کا عمرہ حج کے ثواب برابر ہے، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم بھی اس حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ جس نے سورۂ «قل هو الله أحد» پڑھی اس نے تہائی قرآن پڑھا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن ابن ام معقل، عن ام معقل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " عمرة في رمضان تعدل حجة " . وفي الباب عن ابن عباس وجابر وابي هريرة وانس ووهب بن خنبش . قال ابو عيسى ويقال هرم بن خنبش . قال بيان وجابر عن الشعبي عن وهب بن خنبش . وقال داود الاودي عن الشعبي عن هرم بن خنبش . ووهب اصح . وحديث ام معقل حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقال احمد واسحاق قد ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم ان عمرة في رمضان تعدل حجة . قال اسحاق معنى هذا الحديث مثل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من قرا : ( قل هو الله احد ) فقد قرا ثلث القران
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھول دینا درست ہے، اس پر دوسرا حج لازم ہو گا“ ۱؎۔ میں نے اس کا ذکر ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے کیا تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں نے ( حجاج ) سچ کہا۔ اسحاق بن منصور کی سند بھی حجاج رضی الله عنہ سے اسی کے مثل روایت ہے البتہ اس میں «عن الحجاج بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے بجائے «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی اور لوگوں نے بھی حجاج الصواف سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- معمر اور معاویہ بن سلام نے بھی یہ حدیث بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور حجاج الصواف نے اپنی روایت میں عبداللہ بن رافع کا ذکر نہیں کیا ہے، حجاج الصواف محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر اور معاویہ بن سلام کی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، ۶- عبدالرزاق نے بسند «معمر عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا روح بن عبادة، حدثنا حجاج الصواف، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، قال حدثني الحجاج بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كسر او عرج فقد حل وعليه حجة اخرى " . فذكرت ذلك لابي هريرة وابن عباس فقالا صدق . حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا محمد بن عبد الله الانصاري، عن الحجاج، مثله . قال وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . هكذا رواه غير واحد عن الحجاج الصواف نحو هذا الحديث . وروى معمر ومعاوية بن سلام هذا الحديث عن يحيى بن ابي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث . وحجاج الصواف لم يذكر في حديثه عبد الله بن رافع . وحجاج ثقة حافظ عند اهل الحديث . وسمعت محمدا يقول رواية معمر ومعاوية بن سلام اصح . حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع، عن الحجاج بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، تو کیا میں شرط لگا سکتی ہوں؟ ( کہ اگر کوئی عذر شرعی لاحق ہوا تو احرام کھول دوں گی ) آپ نے فرمایا: ”ہاں، تو انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: «لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الأرض حيث تحبسني» ”حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں، میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھے روک دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، اسماء بنت ابی بکر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، وہ حج میں شرط لگا لینے کو درست سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط کر لی پھر اسے کوئی مرض یا عذر لاحق ہوا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ حلال ہو جائے اور اپنے احرام سے نکل آئے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم حج میں شرط لگانے کے قائل نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے شرط لگا بھی لی تو اسے احرام سے نکلنے کا حق نہیں، یہ لوگ اسے اس شخص کی طرح سمجھتے ہیں جس نے شرط نہیں لگائی ہے ۱؎۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، حدثنا عباد بن عوام، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان ضباعة بنت الزبير، اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني اريد الحج افاشترط قال " نعم " . قالت كيف اقول قال " قولي لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الارض حيث تحبسني " . قال وفي الباب عن جابر واسماء بنت ابي بكر وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم يرون الاشتراط في الحج ويقولون ان اشترط فعرض له مرض او عذر فله ان يحل ويخرج من احرامه . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . ولم ير بعض اهل العلم الاشتراط في الحج وقالوا ان اشترط فليس له ان يخرج من احرامه . ويرونه كمن لم يشترط
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کافی نہیں ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرني معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، انه كان ينكر الاشتراط في الحج ويقول اليس حسبكم سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ صفیہ بنت حیی منیٰ کے دنوں میں حائضہ ہو گئی ہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا وہ ہمیں ( مکے سے روانہ ہونے سے ) روک دے گی؟“ لوگوں نے عرض کیا: وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو کوئی حرج نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت جب طواف زیارت کر چکی ہو اور پھر اسے حیض آ جائے تو وہ روانہ ہو سکتی ہے، طواف وداع چھوڑ دینے سے اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت ذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ان صفية بنت حيى حاضت في ايام منى . فقال " احابستنا هي " . قالوا انها قد افاضت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلا اذا " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم ان المراة اذا طافت طواف الزيارة ثم حاضت فانها تنفر وليس عليها شيء . وهو قول الثوري والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس نے بیت اللہ کا حج کیا، اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( وداع ) ہونا چاہیئے حائضہ عورتوں کے سوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال من حج البيت فليكن اخر عهده بالبيت الا الحيض ورخص لهن رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ مجھے حیض آ گیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق کے علاوہ سے بھی عائشہ سے مروی ہے۔ ۲- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ حائضہ خانہ کعبہ کے طواف کے علاوہ سبھی مناسک ادا کرے گی۔
حارث بن عبداللہ بن اوس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اس گھر ( بیت اللہ ) کا حج یا عمرہ کیا تو چاہیئے کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو۔ تو ان سے عمر رضی الله عنہ نے کہا: تم اپنے ہاتھوں کے بل زمین پر گرو یعنی ہلاک ہو، تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور ہمیں نہیں بتائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حارث بن عبداللہ بن اوس رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، اسی طرح دوسرے اور لوگوں نے بھی حجاج بن ارطاۃ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ اور اس سند کے بعض حصہ کے سلسلہ میں حجاج سے اختلاف کیا گیا ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا نصر بن عبد الرحمن الكوفي، حدثنا المحاربي، عن الحجاج بن ارطاة، عن عبد الملك بن المغيرة، عن عبد الرحمن بن البيلماني، عن عمرو بن اوس، عن الحارث بن عبد الله بن اوس، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من حج هذا البيت او اعتمر فليكن اخر عهده بالبيت " . فقال له عمر خررت من يديك سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم تخبرنا به . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث الحارث بن عبد الله بن اوس حديث غريب . وهكذا روى غير واحد عن الحجاج بن ارطاة مثل هذا وقد خولف الحجاج في بعض هذا الاسناد
جابر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ملا کر ایک ساتھ کیا اور ان کے لیے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حج قران کرنے والا ایک ہی طواف کرے گا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ وہ دو طواف اور دو سعی کرے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا ابو معاوية، عن الحجاج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرن الحج والعمرة فطاف لهما طوافا واحدا . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم قالوا القارن يطوف طوافا واحدا . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يطوف طوافين ويسعى سعيين . وهو قول الثوري واهل الكوفة