Loading...

Loading...
کتب
۱۵۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اس کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے یہاں تک کہ وہ ان دونوں کا احرام کھول دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں عبدالعزیز دراوردی منفرد ہیں، اسے دوسرے کئی اور لوگوں نے بھی عبیداللہ بن عمر ( العمری ) سے روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا خلاد بن اسلم البغدادي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احرم بالحج والعمرة اجزاه طواف واحد وسعى واحد عنهما حتى يحل منهما جميعا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب تفرد به الدراوردي على ذلك اللفظ . وقد رواه غير واحد عن عبيد الله بن عمر ولم يرفعوه . وهو اصح
علاء بن حضرمی رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکے میں تین دن ٹھہر سکتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن حميد، سمع السايب بن يزيد، عن العلاء بن الحضرمي يعني مرفوعا، قال " يمكث المهاجر بعد قضاء نسكه بمكة ثلاثا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير هذا الوجه بهذا الاسناد مرفوعا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی“، امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں براء، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قفل من غزوة او حج او عمرة فعلا فدفدا من الارض او شرفا كبر ثلاثا ثم قال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ايبون تايبون عابدون سايحون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده " . وفي الباب عن البراء وانس وجابر . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا وہ محرم تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے انہی ( احرام کے ) دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور اس کا سر نہ چھپاؤ، اس لیے کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب محرم مر جاتا ہے تو اس کا احرام ختم ہو جاتا ہے، اور اس کے ساتھ بھی وہی سب کچھ کیا جائے گا جو غیر محرم کے ساتھ کیا جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فراى رجلا قد سقط عن بعيره فوقص فمات وهو محرم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تخمروا راسه فانه يبعث يوم القيامة يهل او يلبي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا مات المحرم انقطع احرامه ويصنع به كما يصنع بغير المحرم
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: ان میں ایلوے کا لیپ کر لو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ان پر ایلوے کا لیپ کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن نبيه بن وهب، ان عمر بن عبيد الله بن معمر، اشتكى عينيه وهو محرم فسال ابان بن عثمان فقال اضمدهما بالصبر فاني سمعت عثمان بن عفان، يذكرها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اضمدهما بالصبر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون باسا ان يتداوى المحرم بدواء ما لم يكن فيه طيب
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کے پاس سے گزرے، وہ حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپ نے پوچھا: کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر منڈوا لو اور چھ مسکینوں کو ایک فرق کھانا کھلا دو، ( فرق تین صاع کا ہوتا ہے ) یا تین دن کے روزے رکھ لو۔ یا ایک جانور قربان کر دو۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے ”یا ایک بکری ذبح کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب اپنا سر مونڈا لے، یا ایسے کپڑے پہن لے جن کا پہننا احرام میں درست نہیں یا خوشبو لگا لے۔ تو اس پر اسی کے مثل کفارہ ہو گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب السختياني، وابن ابي نجيح، وحميد الاعرج، وعبد الكريم، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو بالحديبية قبل ان يدخل مكة وهو محرم وهو يوقد تحت قدر والقمل يتهافت على وجهه فقال " اتوذيك هوامك هذه " . فقال نعم . فقال " احلق واطعم فرقا بين ستة مساكين " . والفرق ثلاثة اصع " او صم ثلاثة ايام او انسك نسيكة " . قال ابن ابي نجيح " او اذبح شاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان المحرم اذا حلق راسه او لبس من الثياب ما لا ينبغي له ان يلبس في احرامه او تطيب فعليه الكفارة بمثل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم
عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح ابن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، اور مالک بن انس نے بسند «عبد الله بن أبي بكر بن محمد ابن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، اور مالک کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اہل علم کی ایک جماعت نے چرواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ترک کر دیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن ابي البداح بن عدي، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم ارخص للرعاء ان يرموا يوما ويدعوا يوما . قال ابو عيسى هكذا روى ابن عيينة . وروى مالك بن انس عن عبد الله بن ابي بكر عن ابيه عن ابي البداح بن عاصم بن عدي عن ابيه . ورواية مالك اصح . وقد رخص قوم من اهل العلم للرعاء ان يرموا يوما ويدعوا يوما وهو قول الشافعي
عاصم بن عدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منی میں ) رات گزارنے کے سلسلہ میں رخصت دی کہ وہ دسویں ذی الحجہ کو ( جمرہ عقبہ کی ) رمی کر لیں۔ پھر دسویں ذی الحجہ کے بعد کے دو دنوں کی رمی جمع کر کے ایک دن میں اکٹھی کر لیں ۱؎ ( مالک کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا ) ”پہلے دن رمی کر لے پھر کوچ کے دن رمی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ ابن عیینہ کی عبداللہ بن ابی بکر سے روایت والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا مالك بن انس، حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، عن ابي البداح بن عاصم بن عدي، عن ابيه، قال رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم لرعاء الابل في البيتوتة ان يرموا يوم النحر ثم يجمعوا رمى يومين بعد يوم النحر فيرمونه في احدهما . قال مالك ظننت انه قال في الاول منهما ثم يرمون يوم النفر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهو اصح من حديث ابن عيينة عن عبد الله بن ابي بكر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا“ ۲؎، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني ابي، حدثنا سليم بن حيان، قال سمعت مروان الاصفر، عن انس بن مالك، ان عليا، قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن فقال " بم اهللت " . قال اهللت بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال " لولا ان معي هديا لاحللت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر ( بڑے حج ) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» ”قربانی کا دن“۔
حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا ابي، عن ابيه، عن محمد بن اسحاق، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن يوم الحج الاكبر فقال " يوم النحر
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج اکبر ( بڑے حج ) کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح بہت سے حفاظ حدیث نے اسے بسند «أبي إسحق عن الحارث عن علي» موقوفاً روایت کیا ہے، شعبہ نے بھی ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے انہوں نے یوں کہا ہے «عن عبد الله بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا» ۲؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال يوم الحج الاكبر يوم النحر . قال ابو عيسى ولم يرفعه وهذا اصح من الحديث الاول ورواية ابن عيينة موقوفا اصح من رواية محمد بن اسحاق مرفوعا . هكذا روى غير واحد من الحفاظ عن ابي اسحاق عن الحارث عن علي موقوفا . وقد روى شعبة عن ابي اسحاق قال عن عبد الله بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے“۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ ( سات چکر ) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔“ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: ”وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حماد بن زید نے بطریق: «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن ابن عبيد بن عمير، عن ابيه، ان ابن عمر، كان يزاحم على الركنين زحاما ما رايت احدا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يفعله . فقلت يا ابا عبد الرحمن انك تزاحم على الركنين زحاما ما رايت احدا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يزاحم عليه . فقال ان افعل فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان مسحهما كفارة للخطايا " . وسمعته يقول " من طاف بهذا البيت اسبوعا فاحصاه كان كعتق رقبة " . وسمعته يقول " لا يضع قدما ولا يرفع اخرى الا حط الله عنه بها خطيية وكتب له بها حسنة " . قال ابو عيسى وروى حماد بن زيد عن عطاء بن السايب عن ابن عبيد بن عمير عن ابن عمر نحوه . ولم يذكر فيه عن ابيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو ( جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے ) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے ( اور اگر بولے ) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الطواف حول البيت مثل الصلاة الا انكم تتكلمون فيه فمن تكلم فيه فلا يتكلمن الا بخير " . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن ابن طاوس وغيره عن طاوس عن ابن عباس موقوفا . ولا نعرفه مرفوعا الا من حديث عطاء بن السايب . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم يستحبون ان لا يتكلم الرجل في الطواف الا لحاجة او بذكر الله تعالى او من العلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہو گی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ ( یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے ) اس کا استلام کیا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا قتيبة، عن جرير، عن ابن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحجر " والله ليبعثنه الله يوم القيامة له عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من استلمه بحق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ ( تیل ) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقد سبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اور فرقد نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور فرقد سے لوگوں نے روایت کی ہے، ۲- مقتت کے معنی خوشبودار کے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن فرقد السبخي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدهن بالزيت وهو محرم غير المقتت . قال ابو عيسى المقتت المطيب . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث فرقد السبخي عن سعيد بن جبير . وقد تكلم يحيى بن سعيد في فرقد السبخي وروى عنه الناس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ زمزم کا پانی ساتھ مدینہ لے جاتی تھیں، اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا خلاد بن يزيد الجعفي، حدثنا زهير بن معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها انها كانت تحمل من ماء زمزم وتخبر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحمله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے کہا: مجھ سے آپ کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کر رکھی ہو۔ بتائیے آپ نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، ( پھر ) میں نے پوچھا: اور کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی؟ کہا: ابطح میں لیکن تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے امراء و حکام کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسحاق بن یوسف الازرق کی روایت سے غریب جانی جاتی ہے جسے انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، ومحمد بن الوزير الواسطي المعنى، واحد، قالا حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن سفيان، عن عبد العزيز بن رفيع، قال قلت لانس بن مالك حدثني بشيء، عقلته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اين صلى الظهر يوم التروية قال بمنى . قال قلت فاين صلى العصر يوم النفر قال بالابطح . ثم قال افعل كما يفعل امراوك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح يستغرب من حديث اسحاق بن يوسف الازرق عن الثوري