احادیث
#953
سنن ترمذی - Hajj
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کے پاس سے گزرے، وہ حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپ نے پوچھا: کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”سر منڈوا لو اور چھ مسکینوں کو ایک فرق کھانا کھلا دو، ( فرق تین صاع کا ہوتا ہے ) یا تین دن کے روزے رکھ لو۔ یا ایک جانور قربان کر دو۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے ”یا ایک بکری ذبح کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب اپنا سر مونڈا لے، یا ایسے کپڑے پہن لے جن کا پہننا احرام میں درست نہیں یا خوشبو لگا لے۔ تو اس پر اسی کے مثل کفارہ ہو گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب السختياني، وابن ابي نجيح، وحميد الاعرج، وعبد الكريم، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو بالحديبية قبل ان يدخل مكة وهو محرم وهو يوقد تحت قدر والقمل يتهافت على وجهه فقال " اتوذيك هوامك هذه " . فقال نعم . فقال " احلق واطعم فرقا بين ستة مساكين " . والفرق ثلاثة اصع " او صم ثلاثة ايام او انسك نسيكة " . قال ابن ابي نجيح " او اذبح شاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان المحرم اذا حلق راسه او لبس من الثياب ما لا ينبغي له ان يلبس في احرامه او تطيب فعليه الكفارة بمثل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #953
- Book Index
- 147
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Bukhari And Muslim
