احادیث
#931
سنن ترمذی - Hajj
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا: کیا یہ واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن عمرہ کرنا بہتر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ واجب نہیں ہے، ۳- اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حج دو ہیں: ایک حج اکبر ہے جو یوم نحر ( دسویں ذی الحجہ کو ) ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر ہے جسے عمرہ کہتے ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں: عمرہ ( کا وجوب ) سنت سے ثابت ہے، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اسے چھوڑنے کی اجازت دی ہو۔ اور اس کے نفل ہونے کے سلسلے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس سند سے ( نفل ہونا ) مروی ہے وہ ضعیف ہے۔ اس جیسی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جا سکتی، اور ہم تک یہ بات بھی پہنچی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما اسے واجب قرار دیتے تھے۔ یہ سب شافعی کا کلام ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا عمر بن علي، عن الحجاج، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن العمرة اواجبة هي قال " لا وان تعتمروا هو افضل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهو قول بعض اهل العلم قالوا العمرة ليست بواجبة . وكان يقال هما حجان الحج الاكبر يوم النحر والحج الاصغر العمرة . وقال الشافعي العمرة سنة لا نعلم احدا رخص في تركها وليس فيها شيء ثابت بانها تطوع وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم باسناد وهو ضعيف لا تقوم بمثله الحجة وقد بلغنا عن ابن عباس انه كان يوجبها . قال ابو عيسى كله كلام الشافعي
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Hajj
- Hadith Index
- #931
- Book Index
- 124
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif Isnaad
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
