Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: نہیں، غیر کنواری سے۔ آپ نے فرمایا: ”کسی ( کنواری ) لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( میرے والد ) عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں، میں ایسی عورت کو بیاہ کر لایا ہوں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔ چنانچہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، قال تزوجت امراة فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتزوجت يا جابر " . فقلت نعم . فقال " بكرا ام ثيبا " . فقلت لا بل ثيبا . فقال " هلا جارية تلاعبها وتلاعبك " . فقلت يا رسول الله ان عبد الله مات وترك سبع بنات او تسعا فجيت بمن يقوم عليهن . قال فدعا لي . قال وفي الباب عن ابى بن كعب وكعب بن عجرة . قال ابو عيسى حديث جابر بن عبد الله حديث حسن صحيح
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، عمران بن حصین اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ( ابوموسیٰ اشعری کی حدیث پر مولف کا مفصل کلام اگلے باب میں آ رہا ہے ) ۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا شريك بن عبد الله، عن ابي اسحاق، ح وحدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن ابي اسحاق، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، ح وحدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا زيد بن حباب، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . قال وفي الباب عن عايشة وابن عباس وابي هريرة وعمران بن حصين وانس
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کر لیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کر لینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہو جائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ۳- ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی ( پچھلی ) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۵- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۶- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۷- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں ( یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ ) کی روایت اشبہ ( قریب تر ) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، ( اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں ) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں ( سنا ہے ) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کر لیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث: ”بغیر ولی کے نکاح نہیں“ میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم»، نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں ( جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ۸- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «لا نكاح إلا بولي» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ”پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا کار ہیں وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر خود نکاح کر لیتی ہیں“۔ یوسف بن حماد کہتے ہیں کہ عبدالاعلی نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں مرفوع بیان کیا ہے اور کتاب الطلاق میں اسے انہوں نے موقوفاً بیان کیا ہے، مرفوع نہیں کیا ہے۔
حدثنا يوسف بن حماد المعني البصري، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " البغايا اللاتي ينكحن انفسهن بغير بينة " . قال يوسف بن حماد رفع عبد الاعلى هذا الحديث في التفسير واوقفه في كتاب الطلاق ولم يرفعه
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ۲- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے اس کے جو عبدالاعلیٰ سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اور سعید نے قتادہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، ۳- اور عبدالاعلیٰ سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے یہ موقوفا بھی مروی ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو ابن عباس کے قول سے مروی ہے کہ بغیر گواہ کے نکاح نہیں، خود ابن عباس کا قول ہے، ۴- اسی طرح سے اور کئی لوگوں نے بھی سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً کی ہے، ۵- اس باب میں عمران بن حصین، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر گواہ کے نکاح درست نہیں۔ پہلے کے لوگوں میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن متاخرین اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، ۷- اہل علم میں اس سلسلے میں اختلاف ہے جب ایک دوسرے کے بعد گواہی دے یعنی دونوں بیک وقت مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوں تو کوفہ کے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ نکاح اسی وقت درست ہو گا جب عقد نکاح کے وقت دونوں گواہ ایک ساتھ موجود ہوں، ۸- اور بعض اہل مدینہ کا خیال ہے کہ جب ایک کے بعد دوسرے کو گواہ بنایا گیا ہو تو بھی جائز ہے جب وہ اس کا اعلان کر دیں۔ یہ مالک بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ اسی طرح کی بات اسحاق بن راہویہ نے بھی کہی ہے جو اہل مدینہ نے کہی ہے، ۹- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے، یہ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا غندر، محمد بن جعفر عن سعيد بن ابي عروبة، نحوه ولم يرفعه . وهذا اصح . قال ابو عيسى هذا حديث غير محفوظ لا نعلم احدا رفعه الا ما روي عن عبد الاعلى عن سعيد عن قتادة مرفوعا . وروي عن عبد الاعلى عن سعيد هذا الحديث موقوفا والصحيح ما روي عن ابن عباس قوله لا نكاح الا ببينة هكذا روى اصحاب قتادة عن قتادة عن جابر بن زيد عن ابن عباس لا نكاح الا ببينة . وهكذا روى غير واحد عن سعيد بن ابي عروبة نحو هذا موقوفا . وفي هذا الباب عن عمران بن حصين وانس وابي هريرة . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ومن بعدهم من التابعين وغيرهم قالوا لا نكاح الا بشهود . لم يختلفوا في ذلك من مضى منهم الا قوما من المتاخرين من اهل العلم . وانما اختلف اهل العلم في هذا اذا شهد واحد بعد واحد فقال اكثر اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم لا يجوز النكاح حتى يشهد الشاهدان معا عند عقدة النكاح . وقد راى بعض اهل المدينة اذا اشهد واحد بعد واحد فانه جايز اذا اعلنوا ذلك . وهو قول مالك بن انس وغيره . هكذا قال اسحاق فيما حكى عن اهل المدينة . وقال بعض اهل العلم يجوز شهادة رجل وامراتين في النكاح . وهو قول احمد واسحاق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے تشہد اور حاجت کے تشہد کو ( الگ الگ ) سکھایا، وہ کہتے ہیں صلاۃ کا تشہد یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی: سلامتی ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، اور حاجت کا تشہد یہ ہے: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا فمن يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے دلوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔ اور پھر آپ تین آیتیں پڑھتے۔ عبثر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: تو ہمیں سفیان ثوری نے بتایا کہ وہ تینوں آیتیں یہ تھی: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام ہی میں مرو“ ( آل عمران: ۱۰۲ ) ، «واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ”اللہ سے ڈرو، جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور جس کے واسطے سے ناطے جوڑتے ہو، بلاشبہ اللہ تمہارا نگہبان ہے“ ( النساء: ۱ ) ، «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا» ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور راست اور پکی بات کہو“ ( الأحزاب: ۷۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اسے اعمش نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔ نیز اسے شعبہ نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ دونوں طریق صحیح ہیں، اس لیے کہ اسرائیل نے دونوں کو جمع کر دیا ہے، یعنی «عن أبي إسحق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم»، ۳- اس باب میں عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- اہل علم نے کہا ہے کہ نکاح بغیر خطبے کے بھی جائز ہے۔ اہل علم میں سے سفیان ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبثر بن القاسم، عن الاعمش، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم التشهد في الصلاة والتشهد في الحاجة قال " التشهد في الصلاة التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله " . والتشهد في الحاجة " ان الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا وسييات اعمالنا فمن يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله " . ويقرا ثلاث ايات . قال عبثر ففسره لنا سفيان الثوري : (اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون). (اتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله كان عليكم رقيبا). (اتقوا الله وقولوا قولا سديدا). قال وفي الباب عن عدي بن حاتم . قال ابو عيسى حديث عبد الله حديث حسن رواه الاعمش عن ابي اسحاق عن ابي الاحوص عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه شعبة عن ابي اسحاق عن ابي عبيدة عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم . وكلا الحديثين صحيح لان اسراييل جمعهما فقال عن ابي اسحاق عن ابي الاحوص وابي عبيدة عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد قال بعض اهل العلم ان النكاح جايز بغير خطبة . وهو قول سفيان الثوري وغيره من اهل العلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے سبھی خطبے جس میں تشہد نہ ہو اس ہاتھ کی طرح ہیں جس میں کوڑھ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا محمد بن فضيل، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل خطبة ليس فيها تشهد فهي كاليد الجذماء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن [صحيح] غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «ثیبہ» ( شوہر دیدہ عورت خواہ بیوہ ہو یا مطلقہ ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی رضا مندی ۱؎ حاصل نہ کر لی جائے، اور کنواری ۲؎ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور اس کی اجازت خاموشی ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابن عباس، عائشہ اور عرس بن عمیرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) کا نکاح اس کی رضا مندی حاصل کیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضا مندی کے بغیر کر دی اور اسے وہ ناپسند ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک وہ نکاح منسوخ ہو جائے گا، ۴- کنواری لڑکیوں کے باپ ان کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کر دیں تو اہل علم کا اختلاف ہے۔ کوفہ وغیرہ کے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ باپ اگر کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر کر دے اور وہ بالغ ہو اور پھر وہ اپنے والد کی شادی پر راضی نہ ہو تو نکاح منسوخ ہو جائے گا ۴؎، ۵- اور بعض اہل مدینہ کہتے ہیں کہ کنواری کی شادی اگر باپ نے کر دی ہو تو درست ہے گو وہ اسے ناپسند ہو، یہ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۵؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تنكح الثيب حتى تستامر ولا تنكح البكر حتى تستاذن واذنها الصموت " . قال وفي الباب عن عمر وابن عباس وعايشة والعرس بن عميرة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم ان الثيب لا تزوج حتى تستامر وان زوجها الاب من غير ان يستامرها فكرهت ذلك فالنكاح مفسوخ عند عامة اهل العلم . واختلف اهل العلم في تزويج الابكار اذا زوجهن الاباء فراى اكثر اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم ان الاب اذا زوج البكر وهي بالغة بغير امرها فلم ترض بتزويج الاب فالنكاح مفسوخ . وقال بعض اهل المدينة تزويج الاب على البكر جايز وان كرهت ذلك . وهو قول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا ہے، ۳- بعض لوگوں نے بغیر ولی کے نکاح کے جواز پر اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی دلیل بنے۔ اس لیے کہ ابن عباس سے کئی اور طرق سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح درست نہیں“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن عباس نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں، ۴- اور «الأيم أحق بنفسها من وليها» کا مطلب اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ ولی ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی اور اس سے مشورہ کے بغیر نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خنساء بنت خدام کی حدیث کی رو سے نکاح فسح ہو جائے گا۔ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، اور وہ شوہر دیدہ عورت تھیں، انہیں یہ شادی ناپسند ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو فسخ کر دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن الفضل، عن نافع بن جبير بن مطعم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الايم احق بنفسها من وليها والبكر تستاذن في نفسها واذنها صماتها " . هذا حديث حسن صحيح . وقد روى شعبة وسفيان الثوري هذا الحديث عن مالك بن انس . وقد احتج بعض الناس في اجازة النكاح بغير ولي بهذا الحديث وليس في هذا الحديث ما احتجوا به لانه قد روي من غير وجه عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " وهكذا افتى به ابن عباس بعد النبي صلى الله عليه وسلم فقال لا نكاح الا بولي . وانما معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " الايم احق بنفسها من وليها " . عند اكثر اهل العلم ان الولي لا يزوجها الا برضاها وامرها فان زوجها فالنكاح مفسوخ على حديث خنساء بنت خذام حيث زوجها ابوها وهي ثيب فكرهت ذلك فرد النبي صلى الله عليه وسلم نكاحه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یتیم لڑکی سے اس کی رضا مندی حاصل کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہی تو یہی اس کی رضا مندی ہے، اور اگر اس نے انکار کیا تو اس پر ( زبردستی کرنے کا ) کوئی جواز نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ، ابن عمر، اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یتیم لڑکی کی شادی کے سلسلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے: یتیم لڑکی کی جب شادی کر دی جائے تو نکاح موقوف رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ جب وہ بالغ ہو جائے گی، تو اسے نکاح کو باقی رکھنے یا اسے فسخ کر دینے کا اختیار ہو گا۔ یہی بعض تابعین اور دیگر علماء کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: یتیم لڑکی کا نکاح جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، درست نہیں اور نکاح میں «خیار» جائز نہیں، اور اہل علم میں سے سفیان ثوری، شافعی وغیرہم کا یہی قول ہے، ۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی نو سال کی ہو جائے اور اس کا نکاح کر دیا جائے، اور وہ اس پر راضی ہو تو نکاح درست ہے اور بالغ ہونے کے بعد اسے اختیار نہیں ہو گا۔ ان دونوں نے عائشہ کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ شب زفاف منائی، تو وہ نو برس کی تھیں۔ اور عائشہ رضی الله عنہا کا قول ہے کہ لڑکی جب نو برس کی ہو جائے تو وہ عورت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اليتيمة تستامر في نفسها فان صمتت فهو اذنها وان ابت فلا جواز عليها " . قال وفي الباب عن ابي موسى وابن عمر وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن . واختلف اهل العلم في تزويج اليتيمة فراى بعض اهل العلم ان اليتيمة اذا زوجت فالنكاح موقوف حتى تبلغ فاذا بلغت فلها الخيار في اجازة النكاح او فسخه . وهو قول بعض التابعين وغيرهم . وقال بعضهم لا يجوز نكاح اليتيمة حتى تبلغ . ولا يجوز الخيار في النكاح . وهو قول سفيان الثوري والشافعي وغيرهما من اهل العلم . وقال احمد واسحاق اذا بلغت اليتيمة تسع سنين فزوجت فرضيت فالنكاح جايز ولا خيار لها اذا ادركت . واحتجا بحديث عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم بنى بها وهي بنت تسع سنين . وقد قالت عايشة اذا بلغت الجارية تسع سنين فهي امراة
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کی شادی دو ولی الگ الگ جگہ کر دیں تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہو گی، اور جو شخص کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچ دے تو وہ بھی ان میں سے پہلے کی ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ دو ولی میں سے ایک ولی جب دوسرے سے پہلے شادی کر دے تو پہلے کا نکاح جائز ہو گا، اور دوسرے کا نکاح فسخ قرار دیا جائے گا، اور جب دونوں نے ایک ساتھ نکاح ( دو الگ الگ شخصوں سے ) کیا ہو تو دونوں کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا غندر، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما امراة زوجها وليان فهي للاول منهما ومن باع بيعا من رجلين فهو للاول منهما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم لا نعلم بينهم في ذلك اختلافا اذا زوج احد الوليين قبل الاخر فنكاح الاول جايز ونكاح الاخر مفسوخ واذا زوجا جميعا فنكاحهما جميعا مفسوخ . وهو قول الثوري واحمد واسحاق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے، وہ زانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو بسند «عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا الوليد بن مسلم، عن زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما عبد تزوج بغير اذن سيده فهو عاهر " . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن . وروى بعضهم هذا الحديث عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . ولا يصح والصحيح عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان نكاح العبد بغير اذن سيده لا يجوز . وهو قول احمد واسحاق وغيرهما بلا اختلاف
اس سند سے بھی جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی وہ زانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثنا ابي، حدثنا ابن جريج، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما عبد تزوج بغير اذن سيده فهو عاهر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتی مہر پر نکاح کر لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو اپنی جان و مال سے دو جوتی مہر پر راضی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں راضی ہوں۔ وہ کہتے ہیں: تو آپ نے اس نکاح کو درست قرار دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابوہریرہ، سہل بن سعد، ابو سعید خدری، انس، عائشہ، جابر اور ابوحدرد اسلمی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا مہر کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں: مہر اس قدر ہو کہ جس پر میاں بیوی راضی ہوں۔ یہ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں: مہر ایک چوتھائی دینار سے کم نہیں ہونا چاہیئے، ۵- بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، ومحمد بن جعفر، قالوا حدثنا شعبة، عن عاصم بن عبيد الله، قال سمعت عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، ان امراة، من بني فزارة تزوجت على نعلين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارضيت من نفسك ومالك بنعلين " . قالت نعم . قال فاجازه . قال وفي الباب عن عمر وابي هريرة وسهل بن سعد وابي سعيد وانس وعايشة وجابر وابي حدرد الاسلمي . قال ابو عيسى حديث عامر بن ربيعة حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم في المهر فقال بعض اهل العلم المهر على ما تراضوا عليه . وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق . وقال مالك بن انس لا يكون المهر اقل من ربع دينار . وقال بعض اهل الكوفة لا يكون المهر اقل من عشرة دراهم
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی ( اور آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ) تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟“، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تو بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، تو تم کوئی اور چیز تلاش کرو“، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے ( پھر ) فرمایا: ”تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“، اس نے کہا: جی ہاں، فلاں، فلاں سورۃ یاد ہے اور اس نے چند سورتوں کے نام لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی اسی حدیث کی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وہ قرآن کی کسی سورۃ کو مہر بنا کر کسی عورت سے نکاح کرے تو نکاح درست ہے اور وہ اسے قرآن کی وہ سورۃ سکھائے گا، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح جائز ہو گا لیکن اسے مہر مثل ادا کرنا ہو گا۔ یہ اہل کوفہ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا اسحاق بن عيسى، وعبد الله بن نافع الصايغ، قالا اخبرنا مالك بن انس، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امراة فقالت اني وهبت نفسي لك . فقامت طويلا فقال رجل يا رسول الله فزوجنيها ان لم تكن لك بها حاجة . فقال " هل عندك من شيء تصدقها " . فقال ما عندي الا ازاري هذا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ازارك ان اعطيتها جلست ولا ازار لك فالتمس شييا " قال ما اجد . قال " فالتمس ولو خاتما من حديد " . قال فالتمس فلم يجد شييا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل معك من القران شيء " . قال نعم سورة كذا وسورة كذا . لسور سماها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زوجتكها بما معك من القران " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب الشافعي الى هذا الحديث فقال ان لم يكن له شيء يصدقها وتزوجها على سورة من القران فالنكاح جايز ويعلمها سورة من القران . وقال بعض اهل العلم النكاح جايز ويجعل لها صداق مثلها . وهو قول اهل الكوفة واحمد واسحاق
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن ابن سيرين، عن ابي العجفاء السلمي، قال قال عمر بن الخطاب الا لا تغالوا صدقة النساء فانها لو كانت مكرمة في الدنيا او تقوى عند الله لكان اولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شييا من نسايه ولا انكح شييا من بناته على اكثر من ثنتى عشرة اوقية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو العجفاء السلمي اسمه هرم . والاوقية عند اهل العلم اربعون درهما وثنتا عشرة اوقية اربعماية وثمانون درهما
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفیہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، وعبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتق صفية وجعل عتقها صداقها . قال وفي الباب عن صفية . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وكره بعض اهل العلم ان يجعل عتقها صداقها حتى يجعل لها مهرا سوى العتق . والقول الاول اصح
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ہیں جنہیں دہرا اجر دیا جاتا ہے: ایک وہ بندہ جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا حق بھی، اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جس کی ملکیت میں کوئی خوبصورت لونڈی ہو، وہ اس کی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے پھر اسے آزاد کر دے، پھر اس سے نکاح کر لے اور یہ سب اللہ کی رضا کی طلب میں کرے، تو اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو پہلے کتاب ( تورات و انجیل ) پر ایمان لایا ہو پھر جب دوسری کتاب ( قرآن مجید ) آئی تو اس پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر دیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا علي بن مسهر، عن الفضل بن يزيد، عن الشعبي، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة يوتون اجرهم مرتين عبد ادى حق الله وحق مواليه فذلك يوتى اجره مرتين ورجل كانت عنده جارية وضيية فادبها فاحسن ادبها ثم اعتقها ثم تزوجها يبتغي بذلك وجه الله فذلك يوتى اجره مرتين ورجل امن بالكتاب الاول ثم جاء الكتاب الاخر فامن به فذلك يوتى اجره مرتين " . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن صالح بن صالح، وهو ابن حى عن الشعبي، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى حديث ابي موسى حديث حسن صحيح . وابو بردة بن ابي موسى اسمه عامر بن عبد الله بن قيس . وروى شعبة وسفيان الثوري هذا الحديث عن صالح بن صالح بن حى . وصالح بن صالح بن حى هو والد الحسن بن صالح بن حى
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ دخول کیا تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے، اور اگر اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا ہے تو وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے، اور جس مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس نے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، اسے صرف ابن لہیعہ اور مثنی بن صالح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ اور مثنی بن صالح اور ابن لہیعہ حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی کی ماں سے شادی کر لے اور پھر اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، اور جب آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح کرے اور اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وأمهات نسائكم» ( النساء: ۲۳ ) ، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل نكح امراة فدخل بها فلا يحل له نكاح ابنتها فان لم يكن دخل بها فلينكح ابنتها وايما رجل نكح امراة فدخل بها او لم يدخل بها فلا يحل له نكاح امها " . قال ابو عيسى هذا حديث لا يصح من قبل اسناده وانما رواه ابن لهيعة والمثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب . والمثنى بن الصباح وابن لهيعة يضعفان في الحديث . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم قالوا اذا تزوج الرجل امراة ثم طلقها قبل ان يدخل بها حل له ان ينكح ابنتها واذا تزوج الرجل الابنة فطلقها قبل ان يدخل بها لم يحل له نكاح امها لقول الله تعالى (وامهات نسايكم ) وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے طلاق دے دی اور میری طلاق طلاق بتہ ہوئی ہے۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی، ان کے پاس صرف کپڑے کے پلو کے سوا کچھ نہیں ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”تو کیا تم رفاعہ کے پاس لوٹ جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم ان ( عبدالرحمٰن ) کی لذت نہ چکھ لو اور وہ تمہاری لذت نہ چکھ لیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس، رمیصاء، یا غمیصاء اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر وہ کسی اور سے شادی کر لے اور وہ دوسرا شخص دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے لیے پہلے شوہر سے نکاح درست نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر نے اس سے جماع نہ کر لیا ہو۔
حدثنا ابن ابي عمر، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت امراة رفاعة القرظي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير وما معه الا مثل هدبة الثوب . فقال " اتريدين ان ترجعي الى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك " . قال وفي الباب عن ابن عمر وانس والرميصاء او الغميصاء وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الرجل اذا طلق امراته ثلاثا فتزوجت زوجا غيره فطلقها قبل ان يدخل بها انها لا تحل للزوج الاول اذا لم يكن جامع الزوج الاخر
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما امراة نكحت بغير اذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل فنكاحها باطل فان دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها فان اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى يحيى بن سعيد الانصاري ويحيى بن ايوب وسفيان الثوري وغير واحد من الحفاظ عن ابن جريج نحو هذا . قال ابو عيسى وحديث ابي موسى حديث فيه اختلاف رواه اسراييل وشريك بن عبد الله وابو عوانة وزهير بن معاوية وقيس بن الربيع عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى اسباط بن محمد وزيد بن حباب عن يونس بن ابي اسحاق عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى ابو عبيدة الحداد عن يونس بن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر فيه عن ابي اسحاق . وقد روي عن يونس بن ابي اسحاق عن ابي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا . وروى شعبة والثوري عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . وقد ذكر بعض اصحاب سفيان عن سفيان عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى . ولا يصح . ورواية هولاء الذين رووا عن ابي اسحاق عن ابي بردة عن ابي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . عندي اصح لان سماعهم من ابي اسحاق في اوقات مختلفة وان كان شعبة والثوري احفظ واثبت من جميع هولاء الذين رووا عن ابي اسحاق هذا الحديث فان رواية هولاء عندي اشبه لان شعبة والثوري سمعا هذا الحديث من ابي اسحاق في مجلس واحد . ومما يدل على ذلك ما حدثنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال سمعت سفيان الثوري، يسال ابا اسحاق اسمعت ابا بردة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . فقال نعم . فدل هذا الحديث على ان سماع شعبة والثوري هذا الحديث في وقت واحد . واسراييل هو ثقة ثبت في ابي اسحاق . سمعت محمد بن المثنى يقول سمعت عبد الرحمن بن مهدي يقول ما فاتني من حديث الثوري عن ابي اسحاق الذي فاتني الا لما اتكلت به على اسراييل لانه كان ياتي به اتم . - وحديث عايشة في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " حديث عندي حسن . رواه ابن جريج عن سليمان بن موسى عن الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه الحجاج بن ارطاة وجعفر بن ربيعة عن الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وقد تكلم بعض اصحاب الحديث في حديث الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابن جريج ثم لقيت الزهري فسالته فانكره . فضعفوا هذا الحديث من اجل هذا . وذكر عن يحيى بن معين انه قال لم يذكر هذا الحرف عن ابن جريج الا اسماعيل بن ابراهيم . قال يحيى بن معين وسماع اسماعيل بن ابراهيم عن ابن جريج ليس بذاك انما صحح كتبه على كتب عبد المجيد بن عبد العزيز بن ابي رواد ما سمع من ابن جريج وضعف يحيى رواية اسماعيل بن ابراهيم عن ابن جريج . - والعمل في هذا الباب على حديث النبي صلى الله عليه وسلم " لا نكاح الا بولي " . عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وعلي بن ابي طالب وعبد الله بن عباس وابو هريرة وغيرهم . وهكذا روي عن بعض فقهاء التابعين انهم قالوا لا نكاح الا بولي . منهم سعيد بن المسيب والحسن البصري وشريح وابراهيم النخعي وعمر بن عبد العزيز وغيرهم وبهذا يقول سفيان الثوري والاوزاعي وعبد الله بن المبارك ومالك والشافعي واحمد واسحاق