احادیث
#1114
سنن ترمذی - Marriage
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی ( اور آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ) تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟“، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تو بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، تو تم کوئی اور چیز تلاش کرو“، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے ( پھر ) فرمایا: ”تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“، اس نے کہا: جی ہاں، فلاں، فلاں سورۃ یاد ہے اور اس نے چند سورتوں کے نام لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی اسی حدیث کی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وہ قرآن کی کسی سورۃ کو مہر بنا کر کسی عورت سے نکاح کرے تو نکاح درست ہے اور وہ اسے قرآن کی وہ سورۃ سکھائے گا، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح جائز ہو گا لیکن اسے مہر مثل ادا کرنا ہو گا۔ یہ اہل کوفہ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا اسحاق بن عيسى، وعبد الله بن نافع الصايغ، قالا اخبرنا مالك بن انس، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امراة فقالت اني وهبت نفسي لك . فقامت طويلا فقال رجل يا رسول الله فزوجنيها ان لم تكن لك بها حاجة . فقال " هل عندك من شيء تصدقها " . فقال ما عندي الا ازاري هذا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ازارك ان اعطيتها جلست ولا ازار لك فالتمس شييا " قال ما اجد . قال " فالتمس ولو خاتما من حديد " . قال فالتمس فلم يجد شييا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل معك من القران شيء " . قال نعم سورة كذا وسورة كذا . لسور سماها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زوجتكها بما معك من القران " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب الشافعي الى هذا الحديث فقال ان لم يكن له شيء يصدقها وتزوجها على سورة من القران فالنكاح جايز ويعلمها سورة من القران . وقال بعض اهل العلم النكاح جايز ويجعل لها صداق مثلها . وهو قول اهل الكوفة واحمد واسحاق
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Marriage
- Hadith Index
- #1114
- Book Index
- 35
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
